Daily Mashriq


عوام او رحکومت کا بھروسے کا رشتہ

عوام او رحکومت کا بھروسے کا رشتہ

وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان میں کوئی مالی بحران نہیں ہے۔ تمام اقتصادی اعشاریے بہتر ہو رہے ہیں۔ برآمدات میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے اور درآمدات کم ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غلط فہمیاں پیدا نہیں کی جانی چاہئیں کہ اس سے سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور یہ ملک کی کوئی خدمت نہیں ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ اچھی خبر ماہرین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دی۔ یہ اجتماع سس ٹینیبل پالیسی ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام اس کی گیارہویں سمٹ تھا۔ اس کا اردو ترجمہ پائیدار ترقی کی پالیسی کے ادارہ کی گیارہویں اقتصادی سربراہی کانفرنس کیا جا سکتا ہے۔ لیکن عام آدمی کے لیے نہ انگریزی نام کے کوئی واضح معنی بنتے ہیں اور نہ ہی اس کے اردو ترجمے کے۔ عام آدمی کے لیے یہ معمہ ہی رہتا ہے کہ یہ ادارہ کیا کرتا ہے اور اس میں جو خطابات ہوتے ہیں یا کچھ اور طے پاتا ہے۔ (اگر طے پاتا ہے) تو اس کے اس کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسد عمر اپنے منصب کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ ہیں اور بین الاقوامی ماہرین کو قائل کرنے کی صلاحیت اور اہلیت کے بھی مالک مانے جاتے ہیں۔ ان کے اس خطاب سے عام آدمی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ پاکستان میں کوئی مالی بحران نہیں ہے۔ لیکن یہ بات انہیں پاکستان کے عام آدمی کو بھی بتانی چاہیے تھی اور اس طرح بتانی چاہیے تھی کہ عام آدمی کو جس دشوار صورت حال کا سامنا ہے اس کے باوجود سمجھ میں آ جاتی۔ چند دن پہلے بھی وزیر خزانہ نے ایسی ہی بات کی تھی ‘ کہا تھا کہ سعودی عرب سے 6ارب ڈالر آ گئے ہیں ‘ چین سے اتنی ہی مدد آ گئی ہے اور ادائیگیوں کے توازن کا کوئی مسئلہ باقی نہیںرہا۔ عام لوگوں نے اس وقت بھی اپنے وزیر خزانہ پر اعتبار کیا لیکن ٹی وی کے مبصرین نے ان سے اختلاف کیا۔ یہ اختلاف بھی سمجھ میں آتا تھا۔ ایک طرف کہا جا رہا تھا کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے زرِمبادلہ کے ذخائر کی کمی 18اور بعض خبروں کے مطابق 12ارب ڈالر تھی۔ پھر معلوم ہوا کہ سعودی عرب سے صرف ایک ارب ڈالر پاکستان کے بینک میں آ گیا اور پھر چین کے سفارتی عہدیدار کا بیان آیا کہ چین نقد رقم نہیںدے گا بلکہ سرمایہ کاری کرے گا۔ اس سفارت کار نے البتہ یہ بھی کہا تھا کہ چین پاکستان کو اس کے مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اس تنہا نہ چھوڑنے کے عملی مضمرات کیا ہیں یہ تو حکومت کے ارکان پر ہی واضح ہوں گے ۔ انہیں عوام کو اس حوالے سے اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ ممکن ہے اب کسی وقت ایسا کیا جائے ۔ منگل کے روز بھی اسد عمر نے کہا کہ ملک میں کوئی مالی بحران نہیںہے۔ لیکن اس سے پہلے بجلی‘ تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ چکی تھیں‘ اس کی دیکھا دیکھی اشیائے صرف کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا تھا۔ اور مزید ٹیکس لگائے جانے کے بارے میں خبریں شائع ہو رہی تھیں۔ بے روزگاروںکی تعداد میںہزاروںکی تعداد میں اضافہ ہو چکا تھا اور ایک ٹی وی چینل کے مبصر کے مطابق زندگی کے مصارف میں تیس فیصد اضافہ ہو چکا تھا یعنی زندگی گزارنے کی جن چیزوں ‘ سہولتوں پر پہلے سو روپے خرچ ہوتے تھے ان پر ایک سو تیس روپے خرچ ہونے لگے ہیں۔ سرکاری طور پر کم ازکم تنخواہ پندرہ ہزار روپے ہے۔ اس سے کم آمدنی والوں کی بھی بہت بڑی تعداد ملک میں رہتی ہے۔ مصارف زندگی میں 30فیصد اضافے کے حساب سے اب پندرہ ہزار کے مصارف زندگی پر ساڑھ انیس ہزار روپے خرچ ہوا کریں گے۔ غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کے لیے تو یہی مالی بحران ہے۔ اور وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ ملک میںمالی بحران نہیں ہے۔ ان کا اشارہ غالباً قرضوںکی جانب تھا یا اندرون ملک واجب الادا قرضوں کے بارے میں بھی ممکن ہے کہ ہو۔ یہ انہیں ہی معلوم ہو گا کہ یہ بحران کیسے ٹلا۔ مہنگائی کا طوفان اور بے روزگاری میں اضافہ سنگین صورت حال کا پتا دیتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مشکل حالات جلد ختم ہو جائیں گے ۔ ملک میں سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ روزگار کھلیں گے ‘ مہنگائی زدگان کو تریاق کی ضرورت آج ہے۔ سرمایہ کاری کب آئے گی ‘ کس قیمت اور کن شرائط کے ساتھ آئے گی ‘ کب نئے کارخانے کھلیں گے اور روزگار ملے گا۔ عوام کو اعتماد ہے کہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے بہت سے افراد کا دامن کرپشن سے پاک ہے اور وہ ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ لیکن اس اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے عوام کے اعتماد کو برقرار رکھا جانا ضروری سمجھا جانا چاہیے۔ یہ بات عوام کے لیے حوصلہ افزاء ہے کہ ہزاروں جعلی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا جا چکا ہے اور مزید سراغ مل رہے ہیں لیکن اس کے بعد کیا پیش رفت ہو گی ‘ ان معاملات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کتنی دیر لگے گی اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ ورنہ احتمال ہے کہ بہت سے ملزم خود مظلوموں کی صف میں شامل ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ گیارہ ارب ڈالر کے اکاؤنٹس بیرونی ممالک میں موجود ہیں جن میں بیشتر پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے گیا ہے۔ 26ملکوں سے ایسے پیسے کی واپسی کے معاہدوں کا بھی ذکر کرتے ہیں لیکن عوام کو یہ بتانا ضروری ہونا چاہیے کہ اس پیسے کے واپس ملک میں آنے میںکتنا وقت لگے گا‘ اس راہ میں کتنی دشواریاں ہیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے یا نہیں جانا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے ۔ اس میں کتنا وقت لگے گا ۔ الغرض حکومت کے تمام اقدامات سے عوام کو باخبر رکھا جائے گا‘ ان کو اعتماد میں لیا جائے گا اور یہ نظر آئے گا کہ حکومت ان کے اعتماد پر پورا اترنے کی پوری کوشش کررہی ہے تو ہمارے جفاکش عوام بہت سی سختیاں برداشت کر لیں گے۔ عوام سے بھروسے کا رشتہ قائم رکھنے کے لیے محض خوش آئند بیانات کافی نہیں ہیں۔ بھروسہ سچ اور شفافیت کے ذریعے قائم ہوتا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے کیا کیا جا رہا ہے اس سے عوام کو قدم قدم پر مطلع رکھے۔ یہ بھروسہ قائم رکھنا ‘ موجودہ حکمرانوں کی حب الوطنی کا امتحان ہے ۔

متعلقہ خبریں