Daily Mashriq


چارہ گرو کچھ تمہیں بھی خبر ہے کہ نہیں؟

چارہ گرو کچھ تمہیں بھی خبر ہے کہ نہیں؟

نگران دور اور بعد ازاں موجودہ حکومت کے ابتدائی 3 ماہ کے عرصہ میں ڈالر کی قیمت میں مجموعی طور پر 25روپے اضافہ ہوا۔ روپے کی قدر میں کمی کے معیشت پر جو اثرات مرتب ہوئے ان کی بدولت بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا حجم بڑھ گیا۔ اسی طرح خط غربت سے نیچے کی زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ مہنگائی کا جن کسی کے قابو میں نہیں آرہا یا اس کے لئے ٹھوس اقدامات کسی سطح پر ضرورت ہی محسوس نہیں کی جا رہی؟ ادھر صورت یہ ہے کہ حکومتی ریو نیو بڑھانے کے لئے تمباکو اور سگریٹ پر ’’گناہ‘‘ ٹیکس لگانے بارے سوچا جا رہا ہے۔ منگل کے روز ریلوے کے کرایوں میں 10سے 19 فیصد تک اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے اس اضافے کو ڈالر کی قیمت کے ساتھ منسلک کر چکے۔ تبدیلی کے دلکش وعدوں سے اقتدار میں آنے والی حکومت کے کسی ذمہ دار کو اس امر بارے کچھ معلوم ہے کہ خود وزارت منصوبہ بندی نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ملک میں ساڑھے پانچ کروڑ لوگ( 29.5 فیصد آبادی) خط غبت سے نیچے کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جادو کی چھڑی سے تیار کردہ اس رپورٹ کی سچائی پر سوالیہ نشان ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جب جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو 31فیصد آبادی خط غربت سے نیچے کی زندگی بسر کر رہی تھی ان کے دور اقتدار کے کھوکھلے وعدوں اور ظاہری ریل پیل کے باوجود ڈیڑھ فیصد سالانہ کے حساب سے غربت کی شرح میں اضافہ ہوا۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے دس سال پر مبنی ادوار کی پالیسیوں سے پیدا ہوئے عدم توازن کی وجہ سے مجموعی آبادی میں غربت کا شکار افراد کی تعداد 50فیصد سے تجاوز کر گئی۔ یہی وہ نکتہ ہے جو وزارت منصوبہ بندی کی حالیہ رپورٹ پر سوال اٹھانے کا موجب بنا۔ یہ رپورٹ بالکل ویسی ہی ہے جیسی ہمارے یہاں شرح خواندگی کے حوالے سے د عوے سامنے آتے ہیں اور یہ دعوے یونیسیف کے مقررہ معیار خواندگی سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر یونیسیف کا ادارہ خواندہ اس شخص کو تسلیم کرتا ہے جو اخبار کی عین سرخی پڑھ کر اس پر تبصرہ کرسکے۔ ہمارے ہاں خواندہ ہونے کا معیار ناظرہ قرآن پڑھ لیتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا خواندگی کے عالمی معیار سے آنکھیں چرانے والے سرکاری بابوئوں کو غربت کا حقیقی معیار کیسے سمجھ میں آسکے گا۔ سرکاری اور سرکاری طور پر کروائے گئے سروے حقیقت سے کتنے قریب ہوتے ہیں ان پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں۔ تنخواہ دار سفید پوش طبقات اور لوئر مڈل کلاس کا دم خم مہنگائی نے نکال دیا ہے آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن سے سب سے زیادہ لوئر مڈل اور نچلا طبقہ جو عرف عام میں سفید پوش کہلاتا ہے متاثر ہوا جبکہ دوسری طرف وفاق اور صوبوں کی جانب سے مقررہ ماہانہ اجرت کی عدم ادائیگی بھی ایک مسئلہ ہے۔ معاشی ابتری کی وجہ سے عام دیہاڑی دار مزدور کو سات دنوں کے ہفتہ میں مشکل سے چار یا پانچ دن مزدوری مل پاتی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 4 ڈالر یومیہ سے کم کمانے والے افراد خط غربت سے نیچے تصور کئے جائیں۔ مقررہ سرکاری ماہوار حق خدمت 16400 روپے کو ڈالر سے تبدیل کرکے حساب نکال لیجئے پالیسی سازوں کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ اندریں حالات یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پچھلے چھ سات ماہ( اس میں نگران دور بھی شامل ہے) کے دوران غربت کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ کچھ دیر کے لئے اگر وزارت منصوبہ بندی کی حالیہ رپورٹ کو ہی درست مان لیا جائے تو لگ بھگ 30فیصد شرح غربت بھی خطرے کی گھنٹی بجاتی دکھائی دیتی ہے حالانکہ صورتحال اس سے زیادہ خراب ہے۔ یقینا اس ابتر صورتحال کی تمام تر ذمہ داری تین ماہ قبل اقتدار میں آئی حکومت پر نہیں ڈالی جاسکتی مگر یہ سوال تو کیا جاسکتا ہے کہ اقتدار میں آنے سے قبل جو وعدے کئے گئے تھے ان پر توجہ کیوں نہ دی گئی۔ کسی تاخیر کے بغیر حکومت کو طبقاتی درجہ بندیوں میں بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ویسے کیا وزارت منصوبہ بندی کے سروے ماہرین کسی دن عوام کے درمیان پہنچ کر سروے کی زحمت اور صورتحال کے ادراک کی کوشش کریں گے؟ ہمیں نہیں امید کہ ایسا ہو پائے اس کی وجہ یہ ہے کہ اشیاء ضرورت کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ کمیٹی کی ریٹ لسٹ سے کرنے والے یہ کیونکر جان پائیں گے کہ منڈی سے پرچون فروش تک منافع کی شرح کیا ہے اور فیض آباد چوک کے دونوں طرف یعنی راولپنڈی اور اسلام آباد میں چند گز یا ایک سڑک کے فاصلے سے اشیاء کی قیمتیں کیا ہیں اور شرح منافع۔ بنیادی طور پر یہ میونسپل ادار وں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرائس کنٹرول کے نظام کو حقیقی صورت دے۔ کئی عشروں سے یہ نظام ڈپٹی کمشنروں کے تحت کام کرتا ہے ان کی پرائس کنٹرول کمیٹیوں میں عام شہری طبقات کے نمائندوں کی جگہ درباری اور منافع خور شامل ہوتے ہیں نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ بار دیگر عرض ہے غربت و بیروزگاری کے ساتھ روز مر ہ کے دوسرے سنگین مسائل کے خاتمے کے لئے موثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ماضی کو کوستے رہنے کی بجائے آگے کی طرف بڑھنا ہوگا اور آگے بڑھتے ہوئے اس امر کو بہر طور یقینی بنانا ہوگا کہ طبقاتی خلیج کم ہو یہ اس صورت ممکن ہے جب وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں