Daily Mashriq


نہیں نہیں ابھی نہیں ، ابھی تو میں جوان ہوں

نہیں نہیں ابھی نہیں ، ابھی تو میں جوان ہوں

بچپن لڑکپن اور پھر عہد جوانی۔ یوں لگتا ہے جیسے انسان اپنی زندگی کے اس حسین اور زریں دور کے لئے ہی دنیائے آب وگل میں آیا ہو۔ جوانی گزارنے کے بعد ادھیڑ عمری کا زمانہ آتا ہے جس میں انسان اپنے بچپن اور عہد جوانی کی یادیں لیکر عہد پیری یا بڑھاپے کی جانب بڑھنے لگتا ہے اور اگر اس کی سانسوں کی ڈوری برقرار رہتی ہے تو وہ بڑھاپا یا بزرگی کی عمر تک جاپہنچتا ہے۔ لوگ اس کا احترام کرنے لگتے ہیں عہد پیری یا بزرگی کی عمر میں اعصاب کمزور ہونے لگتے ہیں اور انسانی وجود کا ہر ہر عنصر کمزور و ناتواں ہوکر اپنی گارنٹی کے ختم ہونے کا اعلان کرنے لگتا ہے ۔عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ عہد جوانی سولہ یا سترہ سال کی عمر میں شروع ہوتی ہے۔ اور اس کا دورانیہ چالیس سال کی عمر تک جاری رہتا ہے۔ سولہ سال کی عمریا کو لوگ چڑھتی جوانی کے نام سے یاد کرتے ہیں اور شاید اسے ہی جوانی دیوانی کہہ کر پکارتے ہیں اور اسی کے بارے میں کہتے نہیں تھکتے کہ

جوانی در حقیقت جامہ الزام ہوتی ہے

نظر لاکھ اچھی ہو مگر بدنام ہوتی ہے

مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی جوانی پر فرشتے بھی رشک کرنے لگتے ہیں جو عہد شباب جیسے جامہ الزام اور سر تا پا بدنام عمر میں احکام خدا وندی کی تعمیل کرکے متقی پرہیزگار اور اللہ کے نیک بندوں کی صف میں اپنی جگہ بنالیتے ہیں۔ قابل رشک ہوتے ہیں ایسے نوجوان اور ان بزرگوں سے کئی گنا بہتر وافضل متصور کئے جاتے ہیں جن سے موازنہ کرتے ہوئے شیخ سعدی شیرازی علیہ رحمت نے کہا ہے کہ

در جوانی توبہ کردن شیوہ پیمبری

وقت پیری گرگ ظالم میشود پرہیزگار

جو لوگ عہد جوانی میں گریہ وزاری کرتے رہتے ہیں بقول میر تقی میر کے وہ عہد پیری میں سکھ کی نیند سوجاتے ہیں

عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند

یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

میر تقی میر نے عہد جوانی کو رات سے تشبیہہ دی ہے اور عہد پیری کو صبح کا اجالا کہا ہے۔ عرض کرچکا ہوں کہ بزرگی یا پیرانہ سالی ادھیڑ عمری کے بعد شروع ہونے والی عمر کو کہا جاتا ہے۔ عام طور پر اس عمر کی شروعات زندگی کے ساٹھویں سال سے شروع ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ مقولہ عام طور پر سننے کو ملتا ہے کہ جو بندہ ساٹھ سال کا ہوجاتا ہے وہ گولی سے اڑا دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔ جس کا مطلب یہی لیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی کام کاج کا نہیں رہتا، بات بے بات لڑتا جھگڑتا رہتا ہے بہت سے ذہنی اور جسمانی عارضوں کا شکار ہوجاتا ہے اور متعدد بیماریاں اس کی زندگی کو عذاب بنا دیتی ہیں۔ بعض لوگ60 سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے جوانی یا ادھیڑ عمر ہی میں شوگر بلڈ پریشر ذہنی پریشانیوں لڑائی جھگڑوں نفسیاتی الجھنوں اور منشیات کی علت جیسی قباحتوں کی وجہ سے60 برس کی عمر تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ وہ جو کسی نے منشیات کے عادی افراد کے بارے میں کہا ہے کہ ایسے لوگ کبھی بوڑھے نہیں ہوتے، وجہ پوچھی گئی تو بتایا گیا کہ وہ جوانی ہی میں

واللہ کسی شوق کے مارے نہیں پیتا

پیتا ہوں اس لئے کہ جل جائے جوانی

جیسا قول اوراقرار پورا کرکے اپنی زندگی کو بیچ منجدھار کے ڈبو بیٹھتے ہیں اور یوں وہ بوڑھے ہو ہی نہیں پاتے۔ کسی زمانے میں لوگ سینکڑوں برس تک زندہ رہتے تھے۔ ایک حوالہ کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے 960 برس کی عمر پائی یہی عالم اللہ کے دیگر برگزیدہ بندوں کا تھا، لیکن آج کل تبدیلی لانے کے دعوے داروں نے سرکاری یا نیم سرکاری نوکری کرنے والوں کو55 برس کی عمر ہی میں بوڑھا ہونے کا پروانہ تھماکر ملازمت سے فارغ کردینے کا عندیہ دے دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ناقص غذاؤں کے سبب لوگوں کا صحت مند حالت میں60 سال کی عمر تک پہنچنا محال ہوگیا ہے، اس لئے ان کو جلد فارغ کرنے کا سوچا جارہا ہے ۔ لیکن اس کے برعکس حال ہی میں

رو میں رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

کے مصداق عالمی ادارہ صحت نے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ عہد شباب کی حد55اور60 برس تک کی نہیں۔ حضرت انسان65 برس کی بانکی عمریا تک جواں رہتا ہے۔ زندگی کے66 ویں برس سے79ویں برس تک وہ ادھیڑ عمری کی کی زندگی گزارتا ہے۔ جب کہ80 سے99 برس کی عمر کے لوگ سن رسیدہ پیرانہ سال یا بزرگ کہلانے کے مجاز ٹھہرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے2017ء میں کئے جانے والے سروے کے مطابق99 برس سے زیادہ زندہ رہنے والے لوگوں کو زائد العمر یا لمبی عمر پانے والے لوگ کہا گیا ہے۔ یقین جانئے روزنامہ مشرق پشاور میں یہ خبر دیکھ کر راقم السطور کے ذہن وشعور میں جل ترنگ بجنے لگی۔ اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا اورپاکستان کے قومی ترانہ کے خالق حفیظ جالندھری کا قبول عام اور شہرت دوام حاصل کرنے والا وہ نغمہ اس کے گنبد ذہن اور احاطہ دل میں اپنے تمام تر مدھر سروں کے ساتھ گونجنے لگا جسے ملکہ پکھراج نے گایا تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے طاہرہ سید بن گئی۔

ہے موت اس قدر قریں، مجھے نہ آئے گا یقیں

نہیں نہیں ابھی نہیں، ابھی تو میں جوان ہوں

متعلقہ خبریں