Daily Mashriq


انڈے سیوے فاختہ میوے کوّے کھائیں

انڈے سیوے فاختہ میوے کوّے کھائیں

یوں تو انڈے کے بارے میں بہت ساری کہاوتیں اور محاورات بھی ہیں مگر ان میں سب سے زیادہ سوقیانہ محاورہ کسی شخص کے بارے میں استفسار ہے، بھئی تیرا باپ نظر نہیں آتا کیا انڈوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ اُردو زبان میں سچ یہ ہے کہ انڈے کی مٹی پلید ہے، اس کی کوئی کہاوت یا محاورہ اُردو معلی کا حصہ نہیں بن سکتا، اگرچہ یہ وہ قیمتی شے ہے جس کو بچے شوق سے کھاتے ہیں اور انسانی صحت کیلئے ایک طرح سے لازمی جز ہے یہ مکمل غذا ہے جو انسانی جسم کی غذائی ضروریات ہی پوری نہیں کرتا بلکہ پروٹین سے معمور ہونے کی بناء پر توانائی کا منبع بھی ہے۔ اس بارے میں ماضی کے خدشات سب دور ہو چکے ہیں کہا جاتا تھا کہ انڈے سے کولیسٹرول بڑھتا ہے، جی بڑھتا تو ہے مگر مفید کولیسٹرول۔ انڈا وزن کو بڑھاتا نہیں بلکہ کنٹرول کرتا ہے چونکہ جن کا وزن بڑھ رہا ہو وہ انڈے کے استعمال سے قابو میں رکھ سکتے ہیں۔ اندازہ کیجئے کہ کتنی مفید غذا ہے جس کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے، یہ مذاق دراصل وزیراعظم کا اُڑ رہا ہے۔لفظ انڈے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی زبانوں سنسکرت اور تامل سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ انڈے کا مترادف ان دونوں زبانوں میں انڈک ہے چونکہ تامل زبان کا اُردو سے کوئی زیادہ علاقہ نہیں رہا ہے اسلئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ سنسکرت سے اُردو میں مستعمل ہو۔ 1757 میں ’’ریاض غوثیہ‘‘ استعمال ہوا، پاکستان میں اس کی بڑی قدر تھی مہمان نوازی کا ایک جز بھی تھا اور اب بھی ہے مگر وزیراعظم جو پاکستان کی معیشت کو سنوارنے میں سوکھے جا رہے ہیں اور متعدد راستے تلاش کر رہے ہیں انہیں بہت دور کی سوجھی کہ انڈوں وہ بھی دیسی مرغی کے اور چکن وہ بھی دیسی کے فارم قائم کئے جائیں تاکہ تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف سے اس طرح آئے کہ بیٹھی معیشت کو دیسی مرغی کے ذریعے کھڑا کر دیا۔ اگر وہ ایسا کر پائے توحقیقتاً یہ عظیم کارنامہ ہوگا کہ دنیا میں کسی ملک کی معیشت انڈہ مرغی سے مقام محمود پر نہیں گئی۔وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ تو معلوم تھا کہ وہ مطالعہ کا ذوق رکھتے ہیں چنانچہ لگتا ہے کہ وہ ملک کا مقدر بدلنے کیلئے مطالعہ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وزیراعظم موصوف نے کہیں ہاتھ لگا بل گیٹس کا مضمون پڑھ لیا جس میں انہوں نے برآمدات کی ایک بڑی آمدنی کے طور پر پولٹری مصنوعات کا ذکر کیا ہے جس سے عمران خان متاثر ہوگئے۔ جھٹ سے تجویز قوم کو پیش کر دی۔ تاہم یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم بیرونی شخصیات سے متاثر خوب ہو جاتے ہیں، مثلاً جب گزشتہ انتخابات میں انہوں نے پارٹی کا منشور پیش کرنا تھا تو نریندر مودی سے متاثر ہوکر عوام کو پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کر دیا کیونکہ مودی نے بھی اپنے انتخابی مہم میں اپنی قوم سے ایک کروڑ بیت الخلاء اور دو کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا، اس کے علاوہ وہ بیک وقت ترکی صدر اردگان، ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد جنہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو مختلف مقدمات میں گرفتار کر کے ایک طویل عرصے سے زندان میں ڈال دیا ہے، چینی قیادت سے بھی متاثر لگتے ہیں۔ اب بل گیٹس کا چہرہ بھی سامنے آگیا ہے۔بل گیٹس کی پولٹری کی صنعت کا فلسفہ دنیا کے مختلف ممالک نے مسترد کر دیا ہے کہ یہ صنعت معیشت میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی ہے البتہ ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں ممدو معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ زرمبادلہ بننے کے قابل نہیں ہے جہاں تک وزیراعظم عمران خان کی تجویز ہے تو اس میں یہ کمی موجود ہے کہ دیسی مرغی سال میں دو تین مہینے ہی انڈے دیتی ہیں چنانچہ جو اس کے فارم قائم کرے گا وہ تو ایک سال میں ہی دیوالیہ ہو جائے گا یا پھر ایک فارم کے مالک کو لاکھوں کی تعداد میں مرغیاں پالنا ہوں گی تاکہ خسارے کا دھڑکا کم رہے، عملاً یہ بھی ممکن نہیں ہے علاوہ ازیں دیسی مرغیوں کیلئے فارم بھی موجودہ پولٹری فارم سے کئی گنا بڑے درکار ہیں۔ اتنی وسیع وعریض زمین کہاں سے حاصل ہوگی۔ بعض ممالک جن میں جہاں پولٹری کی مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں وہ فارمی انڈوں اور فارمی چکن کی تجارت کرتے ہیں۔ یہاں یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اسکول کی طالبات کو دیسی مرغی پالنے کی ترغیب دینے کی غرض سے ایک اسکیم شروع کی تھی جس کے تحت طالبات کو کچھ مرغیاں اور چوزے مفت فراہم کئے گئے تھے، یہ اسکیم بھی ناکام ہو گئی تھی تاہم شہباز شریف نے گھریلو طور پر پولٹری کی مصنوعات کے فروغ کی کاوش کی تھی، بل گیٹس کا پولٹری کی مصنوعات دراصل غریبی مٹاؤ کا فلسفہ تھا جو برازیل کیلئے پیش کیا گیا تھا لیکن امریکی ماہرین نے اس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اقتصادی اصولوں کیخلاف قرار دیا تھا، برازیل نے یہ تجربہ کیا مگر ناکام رہا، حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں غربت کے خاتمے میں لائیو اسٹاک نے کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔ کئی ممالک دودھ برآمد کرتے ہیں مگر ان کی اقتصادی صورتحال میں تبدیلی لانے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے، بل گیٹس فاؤنڈیشن کے تحت کئی ممالک میں پولٹری فارم کے ذریعے غربت مٹاؤ اسکیمیں ہنوز جاری ہیں مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ مشرقی افریقہ کے بارے میں تو رپورٹ ہے کہ بل گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون سے پولٹری فارم کھولنے والا کچھ ہی عرصہ بعد مرغیوںکا فارم بند کرکے اس کی جگہ مویشی خرید لیتے ہیں کیونکہ مویشیوں کے دودھ اور اس کے کاروبار سے ان کا دال دلیہ ڈھنگ سے چلتا رہتا ہے۔

متعلقہ خبریں