Daily Mashriq

الیکشن کمیشن میں تقرریوں پر پیدا ہوا ڈیڈ لاک

الیکشن کمیشن میں تقرریوں پر پیدا ہوا ڈیڈ لاک

متحدہ اپوزیشن کی طرف سے الیکشن کمیشن میں تقرریوں پر پیدا ہوئے ڈیڈ لاک کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر حکومتی وزراء کا یہ کہنا کہ اپوزیشن کا عدالت جانا غیر ضروری ہے، کسی حد تک درست ضرور ہے لیکن جس بنیادی بات کو وزراء نے نظرانداز کیا وہ یہ ہے کہ آئین میں چیف الیکشن کمیشن اور دیگر ارکان کی تقرری کا جو طریقہ کار لکھا ہے اس سے صرف نظر کس نے کیا؟ اصولی طورپر یہ معاملہ وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو باہمی مشاورت سے حل کرنا تھا۔ سیاسی و پارلیمانی نظام میں یہ بات کسی المیہ سے کم نہیں کہ وزیراعظم اپوزیشن سے مشاورت تو کجا اپوزیشن لیڈر سے سلام دعا کے روا دار نہیں، نفرت اور عدم برداشت کی جس فضا کو پروان چڑھایاگیا اس سے پارلیمانی عمل اور قانون سازی کیسے متاثر ہوئی اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔ وزراء نے اپوزیشن پر چاند ماری کرتے ہوئے اس امر کو بھی نظرانداز کردیا کہ ڈیڈ لاک کا آغاز اس وقت ہوا جب حکومت نے اپویشن سے مشاورت کے بغیر الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی نامزدگی کا صدارتی حکم نامہ جاری کروا دیا جیسے چیف الیکشن کمیشن نے آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا کیا۔ مسترد کی گئی دو نامزدگیاں کروانے والے یہ نہیں جانتے تھے کہ اپوزیشن سے مشاورت کے بغیرہوا عمل غیرقانونی ہوگا؟ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو فعال رکھنے اور تقرریوں کیلئے اپوزیشن لیڈر سے وزیر اعظم کی مشاورت ضروری ہے گو ایسا نہ ہوسکنے کی صورت میں پارلیمانی کمیٹی کا دائرہ اختیار شروع ہوتا ہے لیکن کیا نفرت و عدم برداشت کی پروان چڑھائی گئی، فضا میں پارلیمانی کمیٹی کوئی متفقہ فیصلہ کرسکے گی؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ کرسکتی تو اپوزیشن عدالت میں کیوں جاتی۔ اس لئے بہترین حل یہ ہے کہ اس سارے معاملے کو دستوری طریقہ کار کے مطابق طے کرنے کیلئے حکومت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے تاکہ کوئی آئینی بحران پیدا نہ ہونے پائے۔

دستوری معاملات پارلیمنٹ میں ہی طے کیجئے

وفاقی وزیر فواد چودھری اور وزیر اعظم کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے عندیہ دیا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے عدالتی فیصلے پر( تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد) حکومت نظر ثانی کی اپیل کرسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب حکومتی رہنما تواتر کیساتھ یہ کہہ رہے ہیں ایکٹ آف پارلیمنٹ بنانے کیلئے سادہ اکثریت موجود ہے تو نظرثانی کی اپیل کیلئے صلاح مشورے کیوں؟ قانونی ماہرین کی آزادانہ رائے یہ ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور مدت ملازمت کا دورانیہ مقرر کرنے کا معاملہ صرف آرمی ایکٹ میں ترمیم سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کیلئے دستور میں ترامیم بہت ضروری ہوں گی چونکہ حکومت کے پاس قومی اسمبلی وسینیٹ میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے اسلئے وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جانے میں ہی عافیت سمجھتی ہے۔ حکومتی وزراء کے حالیہ بیانات کو اگر اپوزیشن کیلئے پچھلے دو دن کے دوران بعض وزراء کے ذریں خیالات سے ملا کر دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ دستوری بحران تیزی سے بڑھتا چلا آرہا ہے ایسا ہوا تو یہ افسوسناک ہوگا حکومت کیلئے صائب مشورہ یہی ہے کہ جو معاملات پارلیمان میں طے ہونے ہیں انہیں پارلیمنٹ میں ہی افہام وتفہیم کیساتھ طے کرے تاکہ کوئی بحران جنم نہ لینے پائے۔

متعلقہ خبریں