Daily Mashriq

سوشل میڈیا ایک نوع کے عذاب سے کم نہیں

سوشل میڈیا ایک نوع کے عذاب سے کم نہیں

سوشل میڈیا ایک ایسا مؤثر ذریعہ ابلاغ ہے جس سے جہاں سیاسی اور سماجی ومعاشرتی مسائل، واقعات وحادثات کی خبریں پل بھر میں صارفین تک پہنچ جاتی ہیں، وہیں اخبارات اور ویب سائٹس پر شائع شدہ کالمز اور مضامین بھی بذریعہ فیس بک اور واٹس ایپ عوام کو پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس احسن کردار سے انکار ممکن نہیں لیکن یہ بھی ایک دردناک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا سے غلط اور بے بنیاد خبریں بھی عوام تک پل بھر میں پہنچ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کی کثیرتعداد خبر چاہے درست ہو یا غلط، اس خبر کی حقیقت یا تہہ تک پہنچے بغیر اظہار خیال کرنے میں جت جاتی ہے اور فوراً سے پیش تر آپ ہی منصف بن جاتی ہے۔

گزشتہ دنوں دادو سے تعلق رکھنے والی کم سن بچی گل سما کی سنگ باری کے ذریعے ہلاکت کی اندوہناک خبر جب عوام الناس تک پہنچی تو عوام کا غیظ وغضب میں آنا یقینی تھا۔ ایسا ہوا بھی لیکن پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے فرمایا کہ گل سما کے قتل کے شواہد نہیں ملے۔ محترم وزیر صاحب کے اس غیر موزوں بیان کی بھی سوشل میڈیا پر خوب دھجیاں اُڑیں۔ دوسری طرف گزشتہ دنوں کراچی کی ایک کم عمر بچی ہما کی گمشدگی کی خبر سامنے آئی اور تفتیش کے بعد پتا چلا، وین ڈرائیور نے بچی کو اغوا کر لیا۔ مزید تحقیق ہوئی، تو بچی کا بیان سامنے آیا، کہ وہ اپنی مرضی سے وین ڈرائیور کیساتھ فرار ہوئی تھی۔ اب ہوا یہ کہ سوشل میڈیا کے بہت سے صارفین گل سما کے قتل کی مذمت فیس بک پر کرتے رہے اور تصویر ہما کی چسپاں کرتے رہے۔ یہ رویہ اور عمل ظاہر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر وقت مصروف عمل رہنے والے صارفین کسی بھی خبر، حادثے یا واقعے کا تجزیہ کرتے وقت زمینی حقائق کا ادراک اور سچائی کا تعین کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرتے وقت بعض دوست جہاں خبر یا واقعے کی صحت سے متعلق تحقیق نہیں کرتے، وہیں اس حقیقت کا ادراک نہیں کرتے کہ سوشل میڈیا ہر عمر اور جنس کے افراد استعمال کر رہے ہیں۔ ہر ایک کی ذہنی وتعلیمی صلاحیت واستعداد مختلف ہے۔ اس صورتحال میں کوئی خبر، پوسٹ یا تبصرہ خلاف حقیقت یا اخلاق سے گرا ہوا ہو، تو ان سوشل میڈیا صارفین پر اس کا کیا اثر ہوگا؟ جن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت محدود ہے اور خبر کی تحقیق کی جستجو بھی جن میں ناپید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس کے جو جی اور من میں آرہا ہے، بلاتحقیق بات کو آگے بڑھائے جا رہا ہے۔ چلئے، کم تعلیم یافتہ افراد اس عمل میں شریک ہوں تو صرف نظر کی گنجائش ہے لیکن یہاں تو ہو یہ رہا ہے کہ تعلیم یافتہ افراد بھی تاریخی لحاظ سے بے بنیاد وغیرمستند اور خلاف واقعہ پوسٹ سے اجتناب کرنے سے قاصر ہیں۔

دو چار دن قبل ایک عزیز کو دوستوں کی فہرست سے خارج کیا چونکہ ان کی پوسٹ پر تبصرہ کرنیوالے ان کے ایک دوست گالم گلوچ کر رہے تھے اور ان کے دوست نے نازیبا تصویر بھیجی تھی اور ہمارے وہ عزیز دھڑلے سے اس گالم گلوچ کو اور نازیبا تصویر کو پسند کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ جہاں سوشل میڈیا صارف ایک دوسرے کیخلاف ذاتی عناد اور اختلافات کو بھی عوام الناس کے سامنے لانے سے نہیں چوک رہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے چونکہ آپ فرینڈز لسٹ میں موجود ہر شخص کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور تعلیم سے ناواقف ہیں۔ اس وجہ سے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز زبان کا استعمال اور نفرت انگیز رویوں کا اظہار ایک عام بات ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف الخیال افراد کا ایک گروپ میں ہونا یا فیس بک پر دوست ہونا کسی اچنبے یا معیوب بات نہیں بلکہ صحت مند رجحان ہے لیکن اگر مکالمہ یا بحث ذاتیات تک پہنچ جائے تو ایسی صورتحال میں سوشل میڈیا سے دوری یا علیحدگی ہی بہتر طرزعمل ہے۔ خیر یہ سب تو سوشل میڈیا کے حوالے سے سنجیدہ اظہار خیال ہے لیکن یہ تحریر لکھنے کی تحریک ایک پر مزاح واٹس ایپ ویڈیو دیکھنے کے بعد پیدا ہوئی کہ سوشل میڈیا ایک ماں کیلئے کیسے عذاب بنا؟ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک خاتون اپنی سہیلی سے فون پر اپنے دکھڑے روتے وقت کہتی ہیں کہ واٹس ایپ کی وجہ سے ان کی تو ان دنوں جان عذاب میں آئی ہوئی ہے۔ خاتون کہتی ہیں: ایک دن ان کے بچے کو اسکول پہنچنے میں آدھے گھنٹے کی دیر ہوگئی تو بچے کے والد نے مختلف گروپوں میں بچے کی تصویر کیساتھ درخواست کی کہ جس کسی کو بھی ملے گھر تک پہنچا دے۔ بچہ تو خیرخیریت سے گھر کوئی پہنچا گیا لیکن اب ہو یہ رہا ہے کہ آئے دن وہی پوسٹ کوئی نہ کوئی سوشل میڈیا پر شیئر کر دیتا ہے اور بچے کو جب بھی اسکول بھیجو، کوئی نہ کوئی گھر پہنچا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کا یہ بھی المیہ ہے کہ کئی برس پرانی پوسٹ اور ویڈیو بھی بعض دوست احباب دھڑلے سے ایک دوسرے کو بھیجنے سے نہیں چوکتے۔ اس لئے جہاں سوشل میڈیا کے فوائد ہیں وہیں سوشل میڈیا ایک نوع کے عذاب سے کم نہیں۔

متعلقہ خبریں