Daily Mashriq

بھارت سے جامع مذاکرات

بھارت سے جامع مذاکرات

وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہا ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جتنی کامیابیاں ہم نے حاصل کی ہیں کسی دوسرے ملک نے اتنی کامیابیاں حاصل نہیں کیں۔ اب کوئی وجہ باقی نہیں رہ جاتی کہ امریکہ یا کوئی دوسرا ملک ہم پر ویزہ پابندیاں عائد کرے۔ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت مسلسل کارروائیاں ہو رہی ہیں ۔ ہم بار بار کہہ چکے ہیں اور اب بھی ہمارا بیانیہ بڑا واضح اور مثبت ہے کہ کسی تنظیم یا شخص کو پاکستانی سر زمین دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ جہاں تک دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا تعلق ہے اس حوالے سے پاکستان کے اقدامات بالکل واضح ہیں۔ اگرچہ پاکستان کو بھی یہ شکایت ہے کہ وہ خود ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کاشکار ہے اور اس ضمن میں اشارے واضح طور پر بھارت کی جانب جاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے حوالے سے ڈوزئیر اقوام متحدہ کے حوالے کی جا چکی ہیں جبکہ بلوچستان کے اندر علیحدگی پسندوں کی مالی امداد اور اسلحے کی فراہمی کے ساتھ ساتھ افغانستان کی سرزمین پر بھارتی سرپرستی میں ان باغیوں کے لئے قائم ٹریننگ کیمپس کے قصے بھی اب زبان زد عام ہیں۔ اس کے باوجود ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی حکام پاکستان پر دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے الزامات لگاتے رہتے ہیں جبکہ اب افغانستان بھی بھارتی زبان میں پاکستان کے خلاف الزامات لگا تا رہتا ہے۔ تاہم دنیا پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہوتے ہوئے بھی اس کے خلاف موثر اقدام کر رہاہے۔ ایسی صورت میں بھارت کے ساتھ دیرینہ مسائل کے حل کے لئے پاکستان کی پیشکش کھلے دل اور کھلے ذہن کی علامت ہے۔ دونوں کے درمیان مسائل صرف اور صرف مذاکرات ہی کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں کیونکہ دونوں ایٹمی قوت ہونے کے ناتے کسی تصادم کے متحمل نہیں ہوسکتے اور کسی بھی جانب سے غلطی کا خمیازہ دونوں ملکوں کو بھگتناپڑ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں بے پناہ اضافہ کیا ہے تاہم وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف کا فیصلہ ہے کہ ہم اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ اپنی توجہ معاشی ترقی اور سوشل سیکٹر پر مرکوز رکھیں گے۔ وزیر ا عظم کا شروع ہی سے خیال ہے کہ خطے کی بہتری کے لئے پاکستان اور بھارت کو مثبت مذاکرات کرنے چاہئیں۔ تاہم اگر بھارت اس کا مثبت جواب نہیں دیتا تو ہم ڈائیلاگ کی بھیک نہیں مانگیں گے۔ اب بال بھارت کے کورٹ میں ہے اور دیکھتے ہیں کہ وہ اس پیشکش کا کیا جواب دیتا ہے۔ تاہم مذاکرات میں دونوں ہی کی بھلائی ہے بشرطیکہ بھارت اس بات کوسمجھ سکے۔

متعلقہ خبریں