Daily Mashriq

کیا امریکہ قائم رہ پائے گا ؟

کیا امریکہ قائم رہ پائے گا ؟

پال کینیڈی کی شہر ہ آفاق کتاب ''دی رائزل اینڈ فال آف گریٹ پاورز''(The rise and Fall of Great Powers)کا مطالعہ کرتے وقت دنیا کا وہ نقشہ دیکھنے کے لائق ہے جو سولہویں صدی عیسویں میں طاقت کے مراکز کی نشاندہی کرتا ہے ۔ ا س نقشے میں بر صغیر کی مغلیہ سلطنت ، روس کی مسکو پاور (Muscove power)، سلطنت عثمانیہ اور فارس کی سغو ی حکومت دنیا میں طاقت کے بڑے مراکز کی حیثیت سے دکھائی دیتے ہیں ۔ یورپ چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا جبکہ براعظم امریکہ جہاں آج دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا ظہور ہو چکا ہے سولہویں صدی عیسوی میں طاقت کے اعتبار سے بانجھ تھا ۔ تاریخ کے طالب علموں کیلئے یہ سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ ایک خطہ زمین جہاں انسانوں کے قدموں کے نشان بھی پندرہویں صدی عیسوی کی آخری دہائی میں دریافت ہوئے بتدریج طاقت کا مرکز کیسے بنتا گیا ؟ امریکہ اگر چہ اپنی بعض پالیسیوں کی وجہ سے بیسیو یں صدی کی آخری نصف دہائی میں خاصا متنازعہ بن گیا لیکن یہ ایک حقیقیت ہے کہ ابتداء میں امریکہ کا وجود آفاقی اقدار کے تحت تھا اور اسکے بانی رہنمائوں کی نگاہ میں امریکہ نے تمام انسانوں کی فلاح کیلئے کام کرنا تھا ۔ تھامس جیفر سن نے اپنے عہد صدارت کے دوران لکھا کہ '' ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری ذمہ داریاں محض اپنی سوسائٹی تک محدود نہیں ہیں ،۔۔۔۔ ہم تمام انسانیت کیلئے کام کر رہے ہیں ''۔ اس بات میں کیا شبہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بنیادیں جن اُصولوں پر رکھی گئیں وہ اپنی نوعیت میں آفاقی اُصول تھے ۔ تمام انسانوں کے اپنے مذہب اور مسلک کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی دے کر انسانیت کو ارفع اُصول قرار دیا گیا اور ایک ایسے معاشرے کی تخلیق و تعمیر کی گئی جو رنگ نسل زبان اور مذہب کے تعصبات سے پاک تھا ۔ ایسے معاشرے جہاں انسانی حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل ہو جب وجود میں آئے ہیں تو ان کو قبولیت عام مل جاتی ہے چنانچہ امریکی معاشرے کی سرحدیں بھی وسیع ہونا شروع ہوگئیں اور دنیا بھر سے لا کھوں لوگوں نے بھی یہاں پہنچنا شروع کردیا ۔ آج جب سڑکوں پر آئے مظاہرین ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنائے ہوئے نعرہ لگاتے ہیں کہ (we all are immigrants)تو اس حقیقت کو جھٹلانے کی کوئی وجہ نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے آبائو اجداد سمیت امریکہ میں بسنے والے تقریباً سبھی لوگ دوسرے ممالک کو چھوڑ کر بہتر مستقبل کیلئے امریکہ پہنچے تھے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب فرانسیسی انقلاب نیشنلزم کو پر وموٹ کر رہاتھا اور یورپ نیشنل سٹیٹ کے تصور میں برُی طرح جکڑا ہواتھا امریکہ انسانی اقدار کی بنیا د پر آگے بڑھ رہا تھا ۔ نیشنل سٹیٹ کے تصور میں جکڑ ی سوچ انسانیت کو اُس تباہی کے دہانے تک لے گئی جسکا انسان نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا ۔ بیسویں صدی کی پہلی ربع صدی میں امرکہ طاقت کی دوڑ سے الگ تھلگ رہا لیکن رفتہ رفتہ استعماری سوچ نے اُسے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ یہ ایک نئے امریکہ کا وجود تھا جس نے '' لٹل بوائے '' اور ''فیٹ مین (Fat man)نامی ایٹم بم گرا کر دنیا کو اپنی بے مثال طاقت کا پہلا ثبوت فراہم کیا ۔ یوں بتدریج وہ امریکہ منظر سے غائب ہوتا گیا جو انسانی اقدار کے لحاظ سے دنیا کے لئے ایک ماڈل ملک تھا اور ایک ایسا امریکہ ہمارے سامنے آتا گیا جو صرف طاقت کی زبان بولتا تھا ۔ وحشیانہ طاقت کے استعمال کے کئی مظاہر بیسویں صدی میں بھی دکھائی دیئے اور اکیسویں صدی کا آغاز بھی افغانستان میں ڈیزی کٹر بموں کی بارش سے ہوا ۔ اس نئے امریکی وجود نے دنیا میں نفرت کے ایسے بیج بو دیئے ہیں جن سے تادیر خارزار پورے ہی اُگتے رہیں گے ۔ مستزاد یہ ہے کہ اب ایک اور نیا امریکہ معرض وجود میں آرہا ہے جو اس اعتبار سے گزشتہ امریکہ سے پیوستہ ہے کہ یہ دنیا میں طاقت کے وحشیانہ استعمال کو کم کرنے یا ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا لیکن یہ اس لحاظ سے اس سے مختلف ہے کہ یہ ڈھکے چھپے اندازمیں نہیں بلکہ کھلے لفظوں میں تعصبات کا اظہار کر رہا ہے ۔

امریکی معاشرہ آج خود بھی اس تعصب زدہ سوچ کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا ہے چونکہ باشعور امریکیوں کے ہاں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ تعصب زدہ ذہنیت امریکی معاشرے کو نہ صرف تقسیم کر دے گی بلکہ یہ اُس امریکہ کی موت ہوگی جو فرد کی آزادی ، مساوات اور دیگر حقوق کو بنیادی اہمیت دیتا تھا ۔ خوشی کی بات ہے کہ امریکی عدالتوں نے بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لیاہے اور امریکی انتظامیہ کے اس حکم کو معطل کردیا ہے جو سات مسلمان ممالک کے شہریوں پر امریکہ داخل ہونے کی پابندی عائد کرنے سے متعلق تھا۔ یہ امریکہ کی عدالت عظمیٰ تھی جس نے امریکی صدور کے اختیارات کے آگے بند باندھ کر ''جیو ڈیشل ایکٹوازم'' کاکلچر متعارف کروایا۔ انیسویں صدی کے اوائل میں اگر چیف جسٹس جان مارشل امریکی انتظامیہ کے احکامات کو آ ڑے ہاتھوں نہ لیتے ممکن تھا کہ امریکہ ایک اتھار ٹیٹیو ریاست بن جاتی۔ آفرین ہے امریکی آئین سازوں کے ویژن پر جنہوں نے ''اختیارات کی علیحدگی'' کا تصور دیا اور پھر '' تحدید و توازن'' کا اصول وضع کرکے مملکت کے ہموار عمل کی راہ پیدا کی۔ وفاق کے تصور میں سپریم کورٹ کا کردار نہایت اہمیت کاحامل ہوتاہے اور امریکہ میں سپریم کورٹ نے اپناکردار بخوبی سر انجام دے کرانتظامیہ کو حدود و قیود میں رکھا ہے۔ امریک کاصدر سڑکوں پر کتبے اٹھائے ہزاروں' لاکھوں مظاہرین کو شاید انتخابی مخالف سمجھ کر نظر انداز کرنے کی جسارت کرلے لیکن اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ امریکی آئین میں طے شدہ بنیادی انسانی حقوق کو پائوں تلے روندنے کی کوشش کرے اور امریکہ کاعدالتی نظام اس کے راستے کی دیوار نہ بنے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ عدالتی نظام کے کوہ ہمالیہ کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا تو پھر امریکہ کی تباہی و بربادی نوشتہ دیوار دکھائی دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں