Daily Mashriq

سلجھا ئو اور الجھائو کے بیچ قانونی گتھیاں

سلجھا ئو اور الجھائو کے بیچ قانونی گتھیاں

دوباتیں ہیں ،ایک تو لندن کی عدالت میں ہونے والے ایک اہم بلکہ تاریخی فیصلے سے متعلق ہے ، جبکہ دوسری بات کا تعلق بھی لندن سے بنتا ہے ، لندن اور پاکستان کی عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں کے تناظر میں پانامہ لیکس کے حوالے سے قائم مقدمے کا قانونی طور پر جائزہ لینا ہے اور اس ضمن میں حکومت اور حکومت مخالف فریقوں کے استد لال پر ایک آئینی اور قانونی نکتے کی وضا حت کرنی ہے ، اس ضمن میں ہم نے ایک سینئر قانون دان سے رابطہ کر کے جو سوال ہمارے ذہن میں اٹھاتھا اس کی وضاحت یا تفہیم کے بارے میں ان کی رائے معلوم کی تو جو بات انہوں نے بتائی اس سے ہمارے ذہن میں اٹھنے والے سوال کی وضاحت ہوگئی اور بقول شاعر

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کے نائو پر

تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دبائو پر

ہمارا سوال یہ تھا کہ لندن کی عدالت کے فیصلے سے یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ کسی بھی مدعی کی جانب سے کسی پر اگر الزام یا الزامات لگائے جاتے ہیں تو ان کے حوالے سے ثبوتوں کی فراہمی بھی مدعی کے ذمے ہوتی ہے ۔ اور چونکہ دنیا بھر کی عدالتوں میں ہونے والے فیصلوں کو بطور دلیل دوسرے ملکوں کی عدالتوں میں پیش کرنا ایک عام سی بات ہے اس لیئے ہماری ناقص رائے میں پانامہ لیکس کے حوالے سے بار ثبوت مقدمے کے مدعیوں پر عاید ہوتی ہے حالانکہ یہاں عمران خان شیخ رشیداور دیگر مدعیوں نے الزام عاید کئے ہیں اب ان کو جھٹلا نے یا غلط ثابت کرنے کی ذمہ داری وزیر اعظم اور ان کے خاندان پر عاید ہوتی ہے ،حالانکہ اگر آنے والی عدالتی کارروائی کے دوران لندن کی عدالت محولہ فیصلے کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے حکمران خاندان کے وکلاء بار ثبو ت کی ذمہ داری مد عیوں پر عاید کرنے کی درخواست کریں تو ہماری ناقص رائے میں ایسا ممکن ہوسکتا ہے اور فاضل عدالتی بنچ یقینا اس سوال پر سوچ سکتی ہے ، اس پر ہمارے کرم فرما سینئر قانون دان نے وضاحت کی کہ اس حوالے سے دنیا میں دوطرح کے قوانین رائج ہیں ، ایک تو یہی ہے جس کا تذکرہ اوپر کی سطور میں کیا جا چکا ہے اور بقول انکے پاکستان میں بھی یہی قانون رائج ہے یعنی بار ثبوت مد عی کے ذمے ہے ، البتہ کچھ ملکوں میں قانون کے تقاضے یہ ہوتے ہیںکہ اگر کسی پر الزامات لگ جائیں تو صفائی دینا مدعا علیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اگر وہ اپنی صفائی پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے تو قانون کے تحت اسے سزا کامستوب قرار دید یا جاتا ہے ، پاکستان میں اسی حوالے سے ہونے والے گزشتہ روز کے فیصلوں سے اسی بات کی وضاحت ہورہی ہے کہ اپنے الزامات کو ثابت کرنا مقدمات قائم کر کے الزامات لگانے والون کی ہی ذمہ داری بنتی ہے ، اس لئے یہ جو پانامہ لیکس کے حوالے سے کچھ سیاسی رہنما ء عدالتوں میں گئے ہیں تو اب اس حوالے سے قانونی ماہرین ہی بہتر طور پر رہنمائی کرسکتے ہیں کہ اپنے الزامات ثابت کرنا ان (مد عیوں )کی ذمہ داری بنتی ہے یا پھر الزامات سے گلو خلاصی حاصل کرنا مد عا علیہان کا درد سر ہے ۔

ملو تم روز مجھ سے لوگ چاہے جو بھی مطلب لیں

یہاں محفوظ تہمت سے نہ مریم ہے نہ یوسف

اب آتے ہیں دوسری بات کی جانب جس کا تذکرہ ابتدائی سطور میں کیا گیا کہ اس کا تعلق بھی لندن ہی سے بنتا ہے ۔ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میںتحقیقات کی غرض سے پاکستان لانے کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی غرض سے ایف آئی اے کی جانب سے وزارت داخلہ کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے ضروری دستاویزات تیار کر لی گئی ہیں ۔ خبر کے مطابق وزارت داخلہ کو یہ خط موصول بھی ہوگیا ہے اور متعلقہ حکام نے اس پر غو ر بھی شروع کر دیا ہے ۔اور اگر وزیر داخلہ یہ درخواست منظور کرلیں تو انٹر پول کو اس حوالے سے خط لکھا جائے گا ۔ یاد رہے کہ پاکستان میں عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے ، تاہم اس معاملے میں بھی بعض سوالات اٹھتے ہیں کہ جب لندن کی عدالت میں اس حوالے سے مقدمے کی کارروائی جاری تھی اور دو مبینہ اہم کرداروں کو ، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عرصہ پہلے (پیپلز پارٹی کے دور میں)مبینہ طور پر سری لنکا سے پاکستان پہنچنے پر حراست میں لئے گئے تھے تاہم ان کی موجودگی موجودہ حکومت کے دور میں ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ انہیں چمن کے راستے ملک میں داخل ہونے پر چمن بارڈر پر گرفتار کیا گیا تھا ، ان کی حوالگی کیلئے لندن کی درخواستوں کو رد کرتے ہوئے غالباً صرف ان تک لندن سے آنے والے حکام کو رسائی دی گئی تھی اور اب جبکہ الطاف حسین سے تفتیش کیلئے ان تک انٹر پول کے ذریعے رسائی کی کوشش کی جائیگی تو سوال پھر وہی اٹھتا ہے جس کا تذکرہ محولہ دو افراد کی حوالگی کے دوران اٹھا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ ملزموں یا مجرموں کی حوالگی کا ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہے ، تو یقینا لندن کے حکام بھی یہی بات کر کے الطاف حسین کی حوالگی کے مطالبے کو رد کر سکتے ہیں کیونکہ الطاف حسین اب پاکستان کا باشندہ نہیں رہا بلکہ اس نے پاکستان کی شہریت ترک کر کے انگلستا ن کی شہریت اپنا رکھی ہے ، تو پھر کیا فرماتے ہیں پاکستانی حکام بیچ اس مسئلے کے ؟ کیا الطاف حسین کو لندن سے پاکستان منتقل کر نے میں انہیں کامیابی مل جائے گی ؟

تفاوت است میان شنیدن من و تو

توبستن در ومن فتح باب می شنوم

متعلقہ خبریں