Daily Mashriq

تعلیم کے بغیر جمہوریت؟؟؟

تعلیم کے بغیر جمہوریت؟؟؟

آج کل بارشوں کا موسم ہے سردی جاتے جاتے پھر سے لوٹ آئی ہے رم جھم نے ایک سماں باندھ رکھا ہے گرم کمرے میں بیٹھ کر چائے پینا ان دنوں کتنا اچھا لگتا ہے اور اگر سامنے گاجر کا حلوہ بھی بنفس نفیس موجود ہو اور ہاتھ میں ایک عدد کتاب بھی تو اسے سونے پر سہاگہ کہتے ہیں مطالعہ کے لیے پہلا مرحلہ تو صحیح کتابوں کا انتخاب ہے پہلے تو آپ کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آپ نے کیا پڑھنا ہے۔ فلسفہ پڑھنا ہے۔تاریخ پڑھنی ہے ۔ ادب کا مطالعہ کرنا ہے غرضیکہ جو کچھ بھی پڑھنا ہے لیکن سب سے پہلے آپ کو یہ معلوم کرنا چاہیے کہ پڑھی لکھی دنیا میں کس نے ان موضوعات کے حوالے سے کام کیا ہے کون سی کتابیں ہیں جو آپ کے علم میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ مہاتیر محمد نے کہا تھا کہ ہماری ترقی کے بہت سے اصول ہیں لیکن ان میں تین کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ہم نے تاریخ کے مطالعے سے اندازہ لگایا ۔ دنیا میں تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ہم نے اپنے کل بجٹ کا پچیس فی صد تعلیم پر خرچ کرنا شروع کردیا۔ہم دفاع پر اپنے بجٹ کا صرف چھ سے آٹھ فی صد خرچ کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے قومی ترقی کے لیے مذہب کا سہارا لیا ۔ہم نے تحقیق کی مسلمانوں کی وہ کون سی عادتیں ہیں جو ان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ ہمیں محسوس ہوا فرقہ پرستی اور نسلی اختلافات عالم اسلام کو اٹھنے نہیں دے رہے۔ یہ مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہم نے ملائشیا میں فرقہ بازی اور نسلی اختلافات پر پابندی لگادی۔آج ملائشیا میںکوئی مسلمان کسی بودھ سے یہ نہیں کہتا اسلام بودھ سے بہتر مذہب ہے یا میں ملائی ہوں اور تم ایک کمتر ہندو ہو۔وہاں اس قسم کے فقرے یا رائے قانونا جرم ہے۔ہم لوگوں نے مسجد کو مثبت رجحانات کی ترویج کے لیے استعمال کیا۔ ہماری مساجد میں علمائے کرام معاشرتی بہبود اور اجتماعی کوشش کی تلقین کرتے ہیں۔ وہاں کسی منبر کسی سپیکرسے اختلافی بات نشر نہیں ہوتی ۔ اس کے علاوہ ہماری پوری حکومت پوری بیوروکریسی کے بچے ملائشیا کے سکولوں میں پڑھتے ہیں اور ہم میں سے کسی نے فارن اکائونٹ نہیں کھلوایا۔ میرا خیال ہے کہ وہ جمہوریت جو تعلیم کے بغیر ہو وہ ملک کو نقصان پہنچاتی ہے کیونکہ صرف تعلیم یافتہ لوگ ہی اچھے لیڈر منتخب کرسکتے ہیں۔انہوں نے ملائشیا اور پاکستان کا فرق بتاتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے جی ڈی پی کا پچیس فی صد تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اور چھ فی صد دفاع پر جبکہ پاکستان دو فی صد تعلیم پر خرچ کرتا ہے اور دفاع پر 48 فی صد۔ (اب شاید تعلیم پر چار فی صد خرچ کیا جارہا ہے) بات چلی تھی تعلیم کی اہمیت اور مناسب مطالعے سے۔ مطالعے کی اہمیت سے کوئی بیوقوف ہی انکار کرسکتا ہے جمہوریت اور تعلیم کا ایک دوسرے کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ ہمارے یہاں جمہوریت کے نعرے تو بہت لگائے جاتے ہیں لیکن تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا جاتا۔مطالعہ انسان پر معلومات کے نت نئے در وا کرتا ہے ۔ جارج برنارڈ شا 1856میں پیدا ہوا تھا ۔ اس نے صرف سات برس کی عمر میں شیکسپیر، بن یان،الف لیلہ اور بائبل کا مطالعہ کر لیاتھا۔ بارہ تیرہ برس کی عمر تک بائرن،ڈکنز،ڈوما اور شیلے اس کی نظر سے گزر چکے تھے۔ اٹھارویں برس میں قدم رکھنے سے پہلے وہ ٹائن ڈال اسٹورٹ مل اور ہربرٹ اسپنسر کی نگارشات سے واقف ہو چکا تھا۔دراصل مطالعہ ایک عادت ہے ایک ثقافت ہے ایک طرز زندگی ہے جو ہر انسان اپنے ماحول سے حاصل کرتا ہے۔ اکثر والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے بچے مطالعہ نہیں کرتے ۔تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کبھی آپ کوئی کتاب خرید کر گھر لائے ۔ اپنے بچوں کے مطالعے کے لیے کبھی کوئی رسالہ لگوایا۔ آپ تعلیم و تربیت، نونہال وغیرہ بچوں کے سامنے رکھ دیں وہ خود ہی اٹھا کر مطالعہ شروع کردیں گے اور پھر چل سو چل۔وقت کے ساتھ ساتھ مطالعے کی عادت پختہ سے پختہ تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ سنجیدہ مطالعے کے لیے ڈیل کارنیگی نے کچھ اصول وضع کیے ہیں جنھیں اپنانے سے اپنے مطالعے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ پہلے ہر باب سرسری طور پر پڑھنا چاہیے۔ آپ کا دل چاہے گا کہ دوسر ا باب پڑھنے لگیں لیکن ایسا نہیں کرنا چاہیے بجز اس کے کہ آپ تفریح کے لیے پڑھ رہے ہوں لیکن اگر آپ کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے کچھ سیکھنا ہے تو پھر ہر باب کو دوسری مرتبہ بغور پڑھیں۔ پڑھتے پڑھتے اکثر ٹھہر جانا چاہیے تاکہ پڑھی ہوئی چیزوں پر غور کرنے کا موقع ملے۔ پھر اس پر غور کرنا چاہیے اس طرح پڑھنے سے زیادہ فائدہ ہوگا بہ نسبت اس کے سرسری طور سے یا ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر پڑھ لیا جائے۔رنگین پنسل ہاتھ میں لے کر پڑھنا چاہیے تاکہ جہاں کوئی ایسی بات ملے جس کا یاد رکھنا ضروری ہو یا جس پر عمل کیا جاسکتا ہو اس پر نشان لگا دیا جائے۔ ایسا کرنے سے کتاب زیادہ دلچسپ ہو جائے گی اور اس پر تبصرہ کرنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔ دو چار مہینوں بعد اپنی پڑھی ہوئی کتاب پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔دراصل ان ساری باتوں کا تعلق اس سے ہے کہ آپ کو اپنا پڑھا ہوا کتنا یاد رہتا ہے ۔یا اسے کتنا یاد رکھنا چاہیے بعض لوگوں کا حافظہ قوی ہوتا ہے انھیں ایک مرتبہ پڑھا ہوا یا د رہ جاتا ہے لیکن سب کے ساتھ اس طرح نہیں ہوتا۔ دوران مطالعہ نوٹس بھی لیے جاسکتے ہیں تاکہ بعد میں تھوڑے وقت میں اپنے لکھے ہوئے نوٹس پڑھ کر کتاب کے اہم نکات اپنے ذہن میں اجاگر کیے جاسکیں۔آخری بات یہ ہے کہ وطن عزیز کے ساتھ محبت کے بلند بانگ دعوے کرنے والے سب سیاستدانوں کوچاہیے کہ وہ تعلیمی بجٹ کو پچیس فی صدتک بڑھانے کا عہد کریں اس بات کو اپنی پارٹی کے منشور کا حصہ بنائیں ۔ جمہوریت تعلیم کے بغیر دیوانے کی بڑ کے سوا کچھ بھی نہیںہے!

متعلقہ خبریں