Daily Mashriq

برہان وانی پاکستان کے اعزاز کا مستحق

برہان وانی پاکستان کے اعزاز کا مستحق

بھارت کے اڑسٹھویں یوم جمہوریہ کے موقع پرجہاں بہت سے لوگوں کو قومی اعزازات سے نوازا گیاوہیں کشمیرکی جدید تحریک مزاحمت کے ہیرو برہان وانی کو شہید کرنے والے تین فوجیوں کو بہادری کے اعلیٰ قومی اعزاز'' سینا میڈل ''سے نوازا گیا۔ان فوجیوں میں راشٹریہ رائفلز کے میجر کمار،کیپٹن مانک اور نائیک ارویندر شامل ہیں ۔یہ وہ فوجی ہیں جنہوں نے 8جولائی2016کو ککرناگ کشمیر میں ایک گھر کا محاصرہ کر کے برہان وانی کو ان کے دوساتھیوں سمیت شہید کیا تھا ۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپرس نے تین فوجیوں کو اعزاز دیئے جانے کی خبر کے ساتھ اس واقعے کا حال بھی ایک فوجی کی زبانی بیان کیا ہے ۔جس کے مطابق بھارتی فوجیوں کو برہان دانی تک پہنچنے میں عوام کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں عوامی جذبات ایک آتش فشاں کی مانند پھٹ پڑے تھے اور چند گھنٹوں کے اندر ہی درجن بھر افراد نے دوران احتجاج اپنی جانیں قربان کی تھیں۔برہان وانی کو کشمیر کا چی گویرا کہا گیا۔ اس کی یاد میں گیت گائے گئے ۔اس کے نام پر نعرے تخلیق ہوئے ۔وہ بدلتی ہوئی دنیا میںسوشل میڈیا کے ہتھیار سے لیس کشمیری نوجوانوں کے جذبات کا استعارہ اور علامت کہلایا ۔وہ ایک بائیس سالہ نوجوان تھا جس کی شخصیت کشمیری نوجوانوں کے لئے آئیکون کی حیثیت اختیار کر گئی تھی ۔وہ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے دلوں میں اُتر کر گھر کر چکا تھا ۔وہ کشمیر کی داخلی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل قیادت کی علامت تھا۔کشمیر کے نوجوان اسے آئیڈیلائز کرتے تھے ۔بھارتی میڈیا اسے پوسٹر بوائے کہتا تھا ۔برہان وانی کی مقبولیت کا ثبوت تھا کہ اس کی شہادت کے بعد بے ساختہ شروع ہونے والے احتجاج کے بعد کم وبیش چھ ماہ تک کشمیر میں کاروبار حیات مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا اور اس عرصے میں اسی افراد شہید ہوئے ہزاروں زخمی اور ہزاروں گرفتار ہوئے ۔بھارت نے عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لئے پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیار کا استعمال کیا اور جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کی بینائی چلی گئی۔آج بھی کشمیر اس نوجوان کی شہادت کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا اور آج بھی مشترکہ مزاحمتی فورم کی اپیل پر وقفے وقفے سے ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے ۔برہان وانی وہ خوش نصیب کمانڈر تھا جس کا نام اقوام متحدہ کے ایوانوں میں گونجا اور وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے اپنے خطاب میں اسے کشمیریوں کانوجوان لیڈر کہا ۔ایک طرف برہان وانی کا عام کشمیری کے دل میں یہ مقام اور مقبولیت اور دوسری طرف بھارت نے اس مقبول ہیرو کو شہید کرنے والے فوجیوں کو قومی اعزاز سے نواز ا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے ۔وہ ہر اس علامت سے نفرت کرتا ہے جس سے کشمیری محبت کرتے ہیں اور وہ ہر اس نقش کو مٹاڈالنے پر یقین رکھتا ہے جس سے کشمیر ی تگ وتاز اور توانائی حاصل کرتے ہیں ۔یہ کشمیریوں کے مقبول جذبات کی توہین اور ناقدری ہے اور بھارت کا یہی رویہ مسئلہ کشمیر اور جذبہ ٔ آزادی کو عوام کے دلوں میں نہ صرف زندہ رکھتا ہے بلکہ اسے نسل درنسل منتقل ہونے میں مدد دیتا ہے۔گزشتہ پچیس برس میں بھارت کی فوج نے ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو شہید کیا ہے ۔ان میں بے شمار نامی گرامی کمانڈر بھی تھے ۔ایسے لوگ جن پر بھارتی فوج نے درجنوں مقدمات قائم کئے تھے ،جن کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی تھی ،جن پر فوج اور فوجی تنصیبات پر درجنوں حملوں کا الزام تھا اور وہ خود ان کارروائیوں کو قبول کرتے رہے تھے ۔ان میں بہت سے لوگ عوام میں بہادری کی علامت بھی تھے ۔بھارت نے بہت کم ہی کسی کمانڈر کو مارنے کے انعام کے طور پراپنے فوجی کو انعام اور اعزاز سے نوازا۔برہان وانی کو ان کمانڈروں سے ممتاز کرنے والی چیز اس کی عوامی مقبولیت اورنوجوانوں کا اس کی شخصیت سے رومانس تھا ۔اور اس کے قاتلوں کو اعزاز دینے کا مقصد ان جذبات کو پیروں تلے روندنا ہے یوں یہ برہان وانی کے قاتلوں کے لئے انعام نہیں بلکہ کشمیریوں کے جذبات سے نفرت اور حقارت کا مظاہرہ ہے ۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ بھارت کے ہیرو کشمیرکے ولن ہیں اور کشمیر کے ہیرو بھارت کے ولن ہیں ۔کشمیریوں کے مقبول جذبات کا احترام کرنے میںبھارت کی جمہوریت ،سیکولرازم اور ہند کی اکبری روایات کا پیمانہ چھوٹا پڑ کر چھلک جاتا ہے ۔اس تضاد کے ساتھ بھارت کشمیر پر اپنے قبضے کو طول تو دے سکتا ہے مگر وہ کشمیر ی عوام کے دل ودماغ مسخر نہیں کرسکتا ۔اب جبکہ بھارت نے برہان کو شہید کرنے والوں کو میڈل عطا کئے ہیں تو پاکستان سے محبت کرنے اور سبز پرچم میں سمٹ اورلپٹ کر آسودۂ خاک ہونے والے اس کشمیری ہیرو کو بھی پاکستان میں کسی اعلیٰ سول اعزاز سے نواز ا جانا چاہئے ۔اچھا ہو کہ پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے۔

متعلقہ خبریں