Daily Mashriq

اور اب پرووائس چانسلر

اور اب پرووائس چانسلر

اخبار میں خبر لگی ہے کہ جامعہ پشاور میں دو سال کے لئے کسی فیکلٹی سے ایک پروفیسر کو اٹھاکرو ائس چانسلر مقرر کردیاگیا ہے۔ گورنر بہ لحاظ عہدہ صوبے کی جامعات کا نگران اعلیٰ ہوتا ہے اور وہی ازراہ قانون ان کے انتظامی امور پر نظر رکھتا ہے۔ جب ہم نے اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ یہ کونسا عہدہ ہے تو بولے آپ اسے نائب وزیر اعظم کی سطح کا منصب سمجھ سکتے ہیں جو نظریہ ضرورت کے تحت پیدا کیا جائے۔اس پر ہمیں یاد آیا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیر اعظم بنے تو انہوں نے سابقہ مشرقی پاکستان کے ایک سیاستدان نور الامین کو اپنا نائب مقرر کیا تھا،۔ اسی طرح پرویز مشرف نے بھی چوہدری پرویز الٰہی کو ان کے برادر بزرگ چوہدری شجاعت حسین جب وزیر اعظم بنے ان کی نیابت عطا کی تھی۔ ان کی باتوں سے ہم یہ سمجھے کہ پرو وائس چانسلر کی تعیناتی سٹاپ گیپ بندوبست کے طور پر کی جاتی ہے جو کسی مستقل تقری تک کسی جامعہ میں انتظامی امور کی نگرانی کرتاہے تاکہ روز مرہ کا کاروبار چلتا رہے۔ ہم چونکہ 35 سال تک شعبہ تعلیم سے وابستہ رہے ہیں چنانچہ تعلیمی امور میں ہماری دلچسپی ایک فطری امر ہے۔ مردان میں جب یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا تو ہم نے منتظمین کو مفت کے مشوروں سے نواز نا شروع کردیا جو ان کو اچھے نہیں لگے اور انہوں نے بڑی شدت سے ان کا برا منایا بلکہ باقاعدہ تحریری طور پر تنبیہہ بھی کی گئی کہ آپ اپنے یہ گرانقدر مفت کے مشورے اپنے پاس ہی رکھئے کہ صرف خسروان ہی رموز مملکت کو سمجھ سکتے ہیں۔ ہم نے اس دھمکی کی کچھ زیادہ پروا نہیں کی البتہ ہمارا نام نا پسندیدہ افراد کی فہرست میں ضرور شامل کردیا گیا۔ تعلیم کے شعبے کی اہمیت مسلمہ ہے اور سرکار بھی اپنے بیانئے میں تعلیم پر توجہ دینے کی بات کرتی رہی ہے۔ لیکن عملی اقدامات میں اس کا ثبوت نہیں ملتا جس کی ایک واضح مثال صوبے کی جامعات میں وائس چانسلرز کی خالی آسامیاں ہیں۔ پشاور کی انجینئرنگ یونیورسٹی گزشتہ ایک سال سے وائس چانسلر سے محروم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں اس اہم منصب پر تقرری کے لئے کسی اہل امیدوار کی تلاش کوئی ایسا دشوار مسئلہ بھی نہیں کہ اسے مسلسل نظر انداز کیا جائے۔ خدا نخواستہ کہیں ایسا نہیں کہ اس آسامی کے لئے کسی نااہل امیدوار کے انتخاب میں کوئی خدشہ درپیش ہو۔ سوات یونیورسٹی بھی گزشتہ ایک سال سے عارضی وائس چانسلر کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔ دو ماہ سے ملاکنڈ یونیورسٹی میں بھی کوئی وائس چانسلر نہیں۔ صوابی اور باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے وائس چانسلرز مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد رخصت ہو چکے ہیں اور یہ آسامیاں کسی موزوں امیدوار کی منتظر ہیں۔ ہزارہ اسلامیہ کالج اور زنانہ یونیورسٹیوں کے لئے جن افراد کا ڈاکٹر عطاء الرحمن کی سربراہی میں قائم سرچ کمیٹی کے ذریعے روساء ہائے جامعات کا انتخاب ہوا ہے ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مبینہ طور پر یونیورسٹی ایکٹ میں درج وائس چانسلر کے لئے مقررہ تجربے پر پورا نہیں اترتے اور ان کی تعلیمی کوائف رولز کے مطابق نہیں۔ اس بارے میں تحریری طور پر مسلسل ذمہ داروں کو آگاہ بھی کیاجا تا رہا لیکن ان تحریری معروضات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

عام لوگ اس ضمن میں بے بس ہیں اور سرکار وائس چانسلرز کی تعیناتی میں یونیورسیی ایکٹ کے متعلقہ شعبوں کی اپنے طور پر تعبیر و تشریح کرتی ہے اور اب جامعات کی خالی آسامی پر مستقل کی بجائے پرو وائس چانسلر کی تعیناتی کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ چونکہ ہم ابتدائی سطروں میں عرض کرچکے ہیں یہ ایک عارضی بندوبست ہے جو وائس چانسلر جیسی اہم آسامی کے لئے قطعاً مناسب نہیں۔ تقرری کے بعد متعلقہ شخص کو بھی پورے اعتماد کے ساتھ اپنے اختیارات استعمال کرنے میں تردد ہوگا اور ماتحت عملہ بھی انہیں ایک عارضی منتظم سمجھتے ہوئے ان کے احکامات تسلیم کرنے میں ایک غیر یقینی صورتحال سے دو چار ہوگا۔ تعلیمی امور میں دلچسپی رکھنے والے حلقے یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ پرو وائس چانسلر کی آسامی تخلیق کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔ ایک عرصے سے طریقہ کار یہ رہا ہے کہ وی سی کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد نہایت ہی مختصر عرصے کے لئے عارضی انتظامات کے تحت یونیورسٹی کے سب سے سینئر ڈین کو وائس چانسلر مقرر کردیا جاتا تھا۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی وائس چانسلر کی تقرری کے احکامات میں واضح طور پر اس کی مدت ملازمت کا تعین بھی کردیاجاتا ہے۔ چنانچہ تعیناتی کے ساتھ ہی اس کی رخصتی کی تاریخ بھی ریکارڈ پر موجود ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وی سی کی خالی ہونے والی آسامی بہت پہلے مشتہر کر دی جائے ' خواہشمند افراد کی درخواستوں کی جانچ پڑتال کا کام وقت پر مکمل کرنا ضروری ہے۔ اہل امیدواروں کے انٹرویوز کے انتظامات کئے جائیں اور وائس چانسلر کی تقرری کے عمل میں غیر ضروری تاخیر سے اجتناب کیا جائے۔ یہ ساری کارروائی بڑی آسانی کے ساتھ ایک ماہ کے اندر مکمل کی جاسکتی ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں 8جامعات میں وائس چانسلرز کی خالی آسامیوں سے سرکار کی تعلیمی شعبے میں دلچسپی اور ترجیحات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ ہم اعلیٰ انتظامی مناصب کی بات نہیں کرتے صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کیا کسی پولیس سٹیشن کو ایس ایچ او کے بغیر ایک روز کے لئے بھی چھوڑا جاسکتا ہے۔ اگر نہیں تو پھر صوبے میں 8جامعات وائس چانسلر سے کیوں محروم ہیں؟

متعلقہ خبریں