Daily Mashriq

اداروں کے احترام کے تقاضے

اداروں کے احترام کے تقاضے

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی وزیر مملکت طلال چوہدری کے عدلیہ سے متعلق بیان پر نرم انداز میں رد عمل اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا عدلیہ بارے لب و لہجہ میں تبدیلی اگر نہال ہاشمی کو توہین عدالت پر سزا اور عدلیہ کے بارے میں توہین پر مبنی لہجہ اختیار کرنے والے اوسط درجے کی مسلم لیگی قیادت کو توہین عدالت کے نوٹس کے اجراء سے قبل ہوتا تو اسے اعتدال پسندی سے تعبیر نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ توہین عدالت کے معاملے کو صرف مسلم لیگی رہنمائوں ہی نے سرسری لینے کی غلطی نہیں کی بلکہ ایسا کرنے والوں میں تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اور پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری بھی شامل رہے ہیں۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ عدلیہ کا احترام واجب ہے لیکن اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ عدلیہ کو سیاسی عناصر نے تنقید کا نشانہ کب اور کیوں بنانا شروع کیا۔ ماضی میں جاکر دیکھا جائے تو اس کی ابتدا مولوی تمیز الدین کیس سے شروع ہوتی ہے۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے مقدمات کے دوران عدلیہ کا کردار زیر بحث آیا جبکہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس نسیم حسن شاہ کے ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے نہ کرنے کی مجبوری اور اس کااعتراف ایک غلطی کا اعتراف اور معافی طلبی کا احسن اقدام ضرور تھا لیکن اس سے عدلیہ کے وقار کا متاثر ہونا فطری امر تھا۔ اسی طرح سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور پرویز اشرف کے مقدمات پر سزا بھی سیاسی شخصیات کے اہم مقدمات تھے لیکن تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اور مسلم لیگ(ن) کے نا اہل قرار پانے والے وزیر اعظم نواز شریف کے مقدمات سے عدلیہ کے وقار پر پڑنے والے اثرات گہرے اور ناقابل برداشت تھے جن کا نوٹس لینے میں عدلیہ کی تاخیر و در گزر کے باعث عدالتی وقار کا سوال اٹھا۔ بہر حال عدلیہ نے شیر آیا شیر آیا کے محاورے کے مماثل اقدام کرکے بالآخر عدلیہ کے بارے میں تضحیک آمیز آراء کے سدباب کا بڑے صبر و تحمل برداشت و در گزر کے ساتھ اقدام کیا۔ نہال ہاشمی کی سزا سے اس کی جو ابتدا ہوئی اگر یہی کچھ پہلے ہوتا تو عدلیہ کو اس صورتحال کا سامنا نہ ہوتا جیسے حالیہ دنوں میں گزرا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاست دان تو گرگٹ کی طرح رنگ بھی بدل سکتے ہیں بیانات سے مکر جانا بھی ان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں۔ عدالت سے معافی مانگنے کا بھی راستہ موجود ہے لیکن اب تک عدلیہ کو جس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی معاملات کو عدالتی فورم پر لے جانا تھا جس میں عدلیہ کا کوئی کردار نہ ہونے کے باوجود محض مقدمات کی سماعت و فیصلے کے باعث ہی نہ صرف وہ تنقید کا نشانہ نہیں بنی بلکہ ان مقدمات کی وجہ سے اعلیٰ عدالتوں کا بہت قیمتی وقت ضائع ہوا جسے وہ عوامی مقدمات کو جلد سے جلد نمٹانے کے لئے استعمال کرسکتی تھی۔ ہمارے تئیں اداروں کے درمیان مکالمہ کی جو تجاویز دی جاتی رہی ہیں اور حال ہی میں چیئر مین سینٹ اور چیف جسٹس کی جو مقدملاقات ہوئی ہے اس معاملے کو آگے بڑھا کر اس طرح کا کوئی لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے کہ عدلیہ کو ایسے آئینی و سیاسی مقدمات کی تشریح میں حتی المقدور الجھانے سے گریز کیاجائے۔ اس ضمن میں عدلیہ کے پاس زیادہ مواقع نہیں اور رجوع ہونے پر مقدمے کی سماعت کے وہ قانونی طور پر پابند ہیں البتہ سیاستدان اگر سیاسی معاملات کی اعلیٰ عدلیہ سے قانونی حل کی راہ نہ اپنانے کا فیصلہ کریں تو یہ ملک و قوم کے حق میں بہتر ہوگا۔ آخر سیاستدان چھوٹے چھوٹے معاملات اور مقدمات کا آرمی چیف سے نوٹس لینے اور چیف جسٹس سے سو موٹو لینے کا مطالبہ کیوں کرنے لگتے ہیں۔ کیا ان کا ریاستی اداروں سے اس قدر اعتماد اٹھ چکا ہے کہ سوائے دو مقتدر اداروں کے کسی اور پر اعتماد نہ کیا جاسکے۔ ہمارے تئیں ہر معاملے پر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنانے کی نئی روایت بھی بدعت کے زمرے میں آتا ہے جس سے سرکاری اداروں کی معاملات اور مقدمات کے حل کی صلاحیت کے جہاں مفقود ہونے کا احساس ہوتا ہے وہاں ایسے اداروں جن کے سپرد ملک کے نازک معاملات ہوتے ہیں اس کے عملے کی صلاحیتیں ایسے معاملات پر صرف ہوتی ہیں جو ان کی بنیادی ذمہ داری میں نہیں آتے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اگر کابینہ کے اراکین طلال چوہدری‘ دانیال عزیز اور خواجہ سعد رفیق کی شعلہ بیانیوں کا بروقت نوٹس لیتے اور اپنی قیادت کو بھی اچھے مشورے سے نوازتے تو توہین عدالت کے نوٹسز کے اجراء کی نوبت نہ آتی۔ کیا عدالت کی طرف سے سخت نوٹس لینے کے بعد ہی لب و لہجے پر نظر ثانی احسن نہ تھا۔ حکمران اور منصفین ہمیشہ نہیں رہتے اور نہ ہی ان کی تبدیلی نظام حکومت و نظام عدل پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ادارے اور ان کا وقار بحال رہنا چاہئے جو ہو چکا سو ہو چکا اور مزید کی شاید گنجائش بھی باقی نہیں۔ اس غلطی کا اب ا دراک و اعتراف ہونا چاہئے اور جو نقصان ہو چکا اس کی تلافی و رفو گری اس طرح ہونی چاہئے کہ دھیرے دھیرے اس کے آثار مٹتے چلے جائیں اور اداروں کی عزت مکمل طور پر بحال ہو۔

متعلقہ خبریں