Daily Mashriq

وزیر داخلہ کی نرالی منطق

وزیر داخلہ کی نرالی منطق

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نہال ہاشمی کی طرح جنرل مشرف کو بھی جیل میں ڈالے تو مان لیں گے کہ عدلیہ آزاد ہے۔ وزیر داخلہ کی اس نرالی منطق پر خود سے یہ سوال دریافت کیا جانا چاہئے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت کس حکومت نے دی تھی؟ امر واقعہ یہ ہے کہ عدلیہ سے اپنی مرضی کے فیصلوں کا مطالبہ اور مطالبہ تسلیم نہ ہونے تک عدلیہ کو آزاد نہ ماننا ملک کے وزیر داخلہ کو زیب نہیں دیتا۔ نہال ہاشمی کو سزا پورے نظام کو دھمکانے کے جرم میں ہوئی۔ گو سنجیدہ حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہاشمی کی غیر مشروط معافی قبول کرلی جانی چاہئے لیکن یہ امر بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ انصاف اپنا راستہ خود بناتا ہے افراد یا گروہوں کی پسند پر فیصلے ہونے لگیں تو نظام عدل کی عمارت کو زمین بوس ہونے میں چند لمحے لگتے ہیں۔ ہم وزیر داخلہ کی خدمت میں عرض کریں گے کہ وہ اپنی وزارت کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ وزارت داخلہ ماضی کی طرح محض لمبی پریس کانفرنسوں اور بیانات سے عوام کا جی بہلانے کی بجائے قواعد کے مطابق کام بھی کرے۔

کالاش کے علاقے میں فروغ سیاحت کی سعی

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے وادی کالاش کے تحفظ اور فروغ کیلئے بمبوریت،بریر اور رنبور میں گھروں کی تزئین و آرائش ، بحالی اورعبادت گاہ کے قیام سمیت کالاشی قبرستانوں کو اپنی تحویل میں لینے کا فیصلہ اور سیلاب سے متاثرہ عجائب گھر کی بحالی سمیت مذہبی رسومات کیلئے مخصوص جگہ کی تیاری کا منصوبہ دلچسپی کا باعث ہے۔ منصوبے کا مقصد چترال اور شمالی علاقہ جات کے ہندو کش کے پہاڑی سلسلہ میں آباد اقلیتی برادری کو بچانااور غیر ملکی سیاحوں کو اس خطے کی جانب راغب کرنا بھی ہے۔کالاش تہذیب و ثقافت کو محفوظ کرنے اور اس کی ترویج کی مساعی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن ہمارے تئیں محولہ اقدامات سے کالاش تہذیب و ثقافت کے مٹتے آثار کی روک تھام تو ضرور ممکن ہوگی لیکن اگر علاقے میں سیاحت کا فروغ بھی ضروری مقصد ٹھہرتا ہے تو اس کیلئے دیگر اقدامات کی بھی ضرورت ہوگی جس میں سر فہرست کالاش وادی کے تمام حصوں تک سیاحوں کو آزاد انہ رسائی دینا اور ٹرانسپورٹ کا معقول بندوبست کرنا شامل ہے ۔اس وقت کا لاش ویلی کے سارے حصوں تک سیاحوں کو رسائی نہ ملنے کے باعث سیاح کالاش ویلی کے قدرتی مناظر اور کالاش تہذیب و ثقافت سے پوری طرح آگاہی حاصل نہیں کر پاتے ۔ہمارے خیال میں ادھورے پن اور تشنگی کے ہوتے ہوئے محولہ اقدامات کا نتیجہ خیز ہونا شاید ہی ممکن ہو ۔ لواری ٹنل کی تعمیر اور چترال کے قابل رسائی علاقہ بن جانے کے بعد سیاحوں کا اس پر امن وادی کی طرف متوجہ ہونا فطری امر ہے لیکن چترال تک بہ سہولت رسائی صرف پی آئی اے کی پروازوں ہی سے ممکن ہے۔ چترال کی حقیقی سیاحت پشاور سے لیکر بروغل تک کی سیاحت ہی سے ممکن ہے۔ کالاش ویلی کے ساتھ ساتھ چترال بھر میں قابل دید مقامات کی کمی نہیں بنا بریں چترال تک سیاحوں کیلئے باسہولت ٹرانسپورٹ پر بھی توجہ دینی چاہیئے تاکہ کالاش ویلی کے ساتھ ساتھ سیاح چترال بھر کی جی بھر کر سیاحت سے لطف اندوز ہو سکیں ۔

شعبہ صحافت جامعہ پشاور کی زبوں حالی

جامعہ پشاور کے شعبہ صحافت میں پی ایچ ڈی سکالر ز کی کمی کے باعث دوسرے سال بھی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلے نہ ہونا ہی مسئلہ نہیں بلکہ جامع پشاور میں صحافت کی تعلیم دینے والے شعبے میں بھی طلبہ کی تعلیم و تربیت بھی اپنی جگہ سوالیہ نشان کا باعث ہے ۔ امر واقع یہ ہے کہ جامعہ پشاور کے شعبہ صحافت سے طالب علموں کی بڑی تعداد فارغ التحصیل ضرور ہوتی ہے مگر ان میں سے شاذونا درہی کا عملی صحافت میںقدم رکھنا اس امر پر دال ہے کہ طالب علموں کی غالب اکثریت آخری ترجیح کے طور پر ہی شعبہ صحافت میں داخلہ لیتی ہے۔ یہ درست ہے کہ خیبر پختونخوا میڈیا کے میدان میں ابھی دیگر بڑے شہرو ں کا ہم پلہ نہیں لیکن یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ یہاں کے اخبارات و رسائل اور الیکٹرانک میڈیا سمیت شعبہ تعلقات عامہ کے اداروں کو ایسے تعلیم یافتہ افراد کی اشد ضرورت ہے جو ان کے معیار اور ضروریات پر پورا اتر تے ہوں ۔جامعہ پشاور سے فارغ التحصیل طلبہ کا مقامی اخباروں سے رجوع کرنے پر ان کے محض ڈگری ہولڈر ہونے کا عقدہ کھلتا ہے مذکورہ شعبے کو واقعی شعبہ صحافت بنانے کا تقاضا یہ ہوگا کہ نہ صرف صحافت میں تخصص کرانے کیلئے اساتذہ کرام کی کمی دور کی جائے بلکہ پورے شعبے کو کم از کم اس قدر فعال ضرور بنایا جائے کہ فارغ التحصیل طلبہ عملی صحافت میں جگہ بنانے کے قابل ہو سکیں۔توقع کی جانی چاہیئے کہ رئیس الجامعہ اور شعبہ صحافت کے صدر نشین کو ان مسائل اور امور کا بخوبی ادراک ہے اور وہ اس سلسلے میں پوری تن دہی کے ساتھ کوشاں بھی ہوں گے ۔

متعلقہ خبریں