Daily Mashriq

کیا پارلیمنٹ سپریم ہے؟؟

کیا پارلیمنٹ سپریم ہے؟؟

پاکستان میں وفاقی پارلیمانی نظام قائم ہے اسلئے یہاں نظام حکومت کی جو صورت بنے گی وہ اپنی روح میں کماحقہ نہ تو پارلیمانی طرز حکومت ہو سکتی ہے جیسا کہ برطانیہ میں ہے اور نہ ہی امریکہ کی طرز پر خالصتاً وفاقی نظام لاگو ہوگا چونکہ امریکہ میں صدارتی نظام کام کر رہا ہے۔ ہمارے معزز چیف جسٹس نے ایک سے زیادہ مرتبہ فرمایا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اور ہر بار میں نے اپنے تئیں سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ کیا پاکستان میں پارلیمنٹ کو ویسی بالادستی حاصل ہو سکتی ہے جیسی کہ برطانیہ میں ہے۔

برطانیہ میں بلاشبہ پارلیمنٹ کو سپریم سمجھا جاتا ہے اور یہ بلا روک ٹوک ہر کام کر سکتی ہے۔ اگرچہ سماج اور روایات کی بندشیں برطانوی پارلیمنٹ کو شتر بے مہار بننے سے روکتی ہیں مگر قانونی اعتبار سے برطانوی پارلیمنٹ کی راہ میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور یہ شاید اسلئے ہے کہ برطانوی آئین کا زیادہ تر حصہ تحریری نہیں ہے بلکہ یہ روایات ہیں جو برطانیہ کے نظام حکومت کو چلا رہی ہیں۔ روایات کے سہارے چلنے والی پارلیمنٹ کیا سماجی روایات کیخلاف یا ان سے ہٹ کر کام سرانجام دینے کی جرأت کر سکتی ہے اور وہ بھی ایک ایسے ملک میں جو اپنی ہیئت کے لحاظ سے ایک اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم نے سلطنت برطانیہ سے آزادی حاصل کی لیکن اس کا پارلیمانی نظام امور مملکت کی انجام دہی میں ہمارا زادراہ بنا رہا۔

پارلیمانی نظام کا ایک فیچر رسمی سربراہ مملکت کا منصب ہوتا ہے مگر پاکستان بننے کے وقت ایک نیا تجربہ یہ ہوا کہ قائداعظم نئی مملکت کے گورنر جنرل بن گئے۔ قائداعظم کی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم اور کابینہ نے اپنی اتھارٹی ان کے حق میں سرنڈر کرنے کا اعلان کیا مگر بعد ازاں اس اتھارٹی کا غلط استعمال غلام محمد نے کیا اور پارلیمانی نظام تلپٹ ہو کر رہ گیا۔ قائداعظم پاکستان کو وفاقی نظام حکومت کے تحت چلانے کے آرزومند تھے کیونکہ پاکستان مختلف اکائیوں کا مجموعہ تھا۔ اس لحاظ سے امریکہ کا وفاقی نظام ایک کامیاب ماڈل کے طور پر ہمارے سامنے موجود تھا۔ اکائیوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے جہاں پارلیمنٹ کا ایک ہاؤس اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ وہاں تمام یونٹس کی یکساں نمائندگی ہو وہیں ایک اعلیٰ عدالت وجود میں آتی ہے جو یونٹس کے مابین اُٹھنے والے تنازعات اور اختلافی امور کو حل کر سکے۔ اس اعلیٰ عدالت کو ’’جوڈیشل رویو‘‘ یعنی عدالتی نظر ثانی کا اختیار بھی دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے منظور شدہ قوانین کو عدالتی نظرثانی کے مرحلے سے گزارا جاتا ہے چنا نچہ عدالت عظمیٰ اگر کسی قانون کو خلاف آئین سمجھے تو وہ اسے کالعدم قرار دینے کا اختیار رکھتی ہے ۔

وفاقی نظام کا جو ماڈل امریکہ سے ہمیں ملا وہ اختیارات کی علیحدگی (SEPARTION OF POWERS)کے اصول پرقائم ہے ۔ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ اپنے اختیارات کو استعمال کرنے میں آزاد ہیں، انہیں یہ اختیارات مملکت کے آئین نے عطا کئے ہیں اور یوں حدود کا متعین بھی کر دیاگیا ہے۔ امریکی صدارتی نظام میں وفاقی حکومت کا یہ ماڈل انتہائی کامیاب ہے، انتظامیہ چونکہ مست گھوڑے کی مانند ہوتی ہے لہٰذا اس کو ابتداء ہی میں بے لگام ہونے سے بچا لیا گیا۔ جان مارشل کے جوڈیشل ایکٹوازم کو مثبت طور پر لیا گیا اور انتظامیہ نے آہوکار مچانے کی بجائے عدالتی نظرثانی کے اصول کو لاگو ہونے میں مدد فراہم کی۔ پاکستان سمیت دنیا کے جن ممالک میں وفاقی نظام کا تجربہ کیا گیا وہاں عدالتی نظرثانی کے اس اصول کو تسلیم کیا گیا۔ پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت نے آزادی کے بعد جس آئین کے تحت نظام حکومت کی بنیاد رکھی وہ اپنی شکل میں وفاقی وپارلیمانی تھا‘ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے بھارتی تجربے کو مد ظر رکھتے ہوئے وفاقی پارلیمانی نظام کی جانب قدم بڑھایا اور اپنے پہلے آئین (1956) کو انہی خطوط پر استوار کیا جن پر 1949ء میں بھارتی آئین ساز اسمبلی نے اتفاق کیا اور آئینی شکل میں یہ اصول 26جنوری 1950ء میں نافذالعمل ہوئے۔ بھارت میں پارلیمانی نظام وفاقی ڈھانچے کی بنیاد پر قائم ہوا اور وہاں پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنے کی بجائے آئین کی بالادستی کو تسلیم کیا گیا۔پاکستان کا آئینی سفر انتہائی دشوار گزار رہا ہے مگر 1973 کے آئین کے نتیجے میں ایک وسیع البنیاد اتفاق رائے سامنے آیا جس پر آج بھی پوری قوم یکجان اور یک زبان ہے۔ وفاقی ڈھانچے کی بنیاد پر قائم پارلیمانی نظام میں اداروں کے اختیارات بڑے واضح ہیں لیکن اس کے باوجود انتظامیہ کو عدلیہ سے شکوہ رہتا ہے کہ وہ اس کے اختیار حکومت پر قد غن لگاتی ہے۔ مفاد عامہ اور بنیادی حقوق کے معاملات میں آئین نے آرٹیکل 184 کے تحت عدلیہ کی مداخلت کا جواز مہیا کیا ہے جسے پارلیمنٹ خود تسلیم کرتی ہے لہٰذا یہ کہنا بے جا ہے کہ عدلیہ انتظامی امور میں مداخلت کی مرتکب ہو رہی ہے۔

دوسری طرف اس سوچ کا اظہار بھی درست نہیں ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے۔ میری رائے میں وفاقی ڈھانچے کے اندر کوئی ادارہ سپریم ہونے کا دعویدار نہیں ہو سکتا بلکہ یہ آئین ہے۔ عدلیہ سمیت تمام ادارے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے حق کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ ایک اچھی بات ہے مگر پارلیمنٹ کو اپنا یہ حق کیسے استعمال کرنا ہے یہ انتہائی اہم بات ہے۔ یہ پارلیمنٹ کا اجتماعی شعور تھا جس نے این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش ہونے کی اجازت نہ دی اور دوسری طرف یہ پارلیمنٹ کی اجتماعی بے حسی تھی جب ایک نااہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کیلئے قانون سازی کی گئی اور عدلیہ سے ٹکراؤ کی خواہ مخواہ کوشش کی گئی۔ پارلیمنٹ کو سپریم تسلیم کرکے کیا اسے من مانی کااختیار دیا جاسکتا ہے؟۔

متعلقہ خبریں