Daily Mashriq


گوانتانا موبے جیل

گوانتانا موبے جیل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میںکئی اہم اعلانات کئے ہیں، جن میں گوانتانا موبے جیل کی دوبارہ بحالی بھی شامل ہے۔ اپنے پالیسی بیان میں گوانتانا موبے جیل کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کر کے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ کہ امریکہ سیاسی قیدیوں کی سزا مزید سخت کرنے کیلئے پرانے شکنجے کو فعال کر رہے ہیں جس میں اُن سیاسی قیدیوں کو ڈالا جائے گا جو امریکی پالیسیوں کی مخالفت کر رہے ہیں اور سب سے بڑے جمہوریت کے علمبردار ملک ہونے کے ناطے سرحدات سے دور قائم عقوبت خانوں میں قید تنہائی میں ڈالے جائیںگے۔

1903ء میںکیوبا اور امریکہ کے مابین گوانتانا موبے کا معاہدہ عمل میں لایا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جیل میں دوسرے ممالک سے لائے ہوئے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ 2012ء تک 779 قیدیوں کو لایا گیا۔ جس میں زیادہ تعداد 29 فیصد افغانیوں کی، 17 فیصد سعودی عربیہ، 15فیصد یمن، 9 فیصد پاکستانیوں اور 3 فیصد الجیرین کی تھی۔ تقریباً 50 مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے اس جیل میں ڈالے گئے۔

گوانتانا موبے جیل کا قیام جنوری 2002ء کو عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ اُن قیدیوں کیلئے مخصوص تھا جو خطرناک قیدی تصور کئے جاتے تھے۔ اس میں اکثر ایسے قیدی رکھے گئے تھے۔ جن کو لمبے عرصے تک جیل میں رکھنا مقصود ہوتا تھا۔ ابتداء میں اس جیل کی لوکیشن کو خفیہ رکھا گیا تھا لیکن بعد میں امریکہ میں فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے دباؤ کی وجہ سے یہ جیل منظر عام پر آیا۔اس جیل میں جو اذیتیں دی جاتی رہیں اکثر قیدیوں نے خودکشی کی کوشش کی، جس کو امریکی حکومت نے خودکشی کی بجائے خود اپنے آپ کو زخمی کرنے کا نام دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق41 قیدیوں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ مختلف اوقات میں مختلف رپورٹس منظر عام پر آئیں، جس میں خودکشی اور خودکشی کرنے کی کوشش دونوں شامل ہیں لیکن کسی بھی مستند تعداد کا ذکر کسی بھی رپورٹ میں نہیں آیا ہے۔ 2005ء میں ایک رپورٹ کے مطابق 3 قیدیوں نے خودکشی کی جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان اعداد وشمار سے اتفاق نہیں کرتی ہیں۔

ریڈکراس کی ایک ٹیم نے 2004ء میں گوانتانا موبے جیل کا دورہ کیا۔ جس نے بعد میں ایک خفیہ رپورٹ نیویارک ٹائمز میں2004ء میں شائع کی۔ اس رپورٹ میں جیل کے اندر بدترین حالات کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں مارنا، بے عزتی، قید تنہائی اور ناموافق ٹمپریچر شامل ہیں۔

سابق امریکی صدر اوبامہ نے22 جنوری 2009ء کو اس جیل کو بند کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کئے لیکن8 سال گزرنے کے بعد بھی جنوری 2017 ء تک 41 قیدی اس جیل میں پڑے رہے۔ امریکہ کے سابق صدر اوبامہ نے اپنے دور حکومت میں کافی کوششیں کی کہ وہ اس جیل کو بند کردے لیکن ہر مرحلہ پر مشکلات نظر آئیں۔ جیل میں قیدیوں کی تعداد بہت کم کر دی گئی تھی لیکن گوانتانا موبے جیل کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جاسکا۔

اوبامہ حکومت کے اختتام تک پھر بھی جیل میں کئی قیدی رہ گئے تھے۔ امریکہ میں حکومت تبدیل ہوئی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے صدر کی حیثیت سے حلف لیا تو باقی پالیسیوں کی طرح اس جیل کے بارے میں یکسر تبدیلی آئی اور ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے مناسب سمجھا کہ اس جیل کو بند نہ کیا جائے اور اس کی بحالی شروع کر دی جائے۔ صدر ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں خاص طور پر اس جیل کا ذکر کیا اور اس کی بحالی کے احکامات جاری کئے۔ 31 جنوری 2018ء کو صدر ٹرمپ نے اس جیل کو کھلا رکھنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط ثبت کر دئیے۔1898ء میں امریکی نیول بیس گوانتانا موبے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جب امریکہ نے سپین سے کیوبا کا کنٹرول حاصل کیا۔ 2002 ء سے امریکہ نے اس بیس کو افغانستان سے لائے ہوئے قیدیوں کو رکھنے کیلئے استعمال کیا جبکہ بعد میں عراق سے لا ئے گئے قیدی بھی اس بیس میں رکھے گئے۔گوانتانا موبے جیل کو دوبارہ فعال کرنے سے امریکہ کے ارادوں کا پتہ چلتا ہے۔ کیا وہ دوبارہ افغانستان، پاکستان اور عراق سے قیدی لاکر اس میں بسائیںگے؟ لیکن اتنا ضرور ہے کہ امریکہ گوانتانا موبے جیل کو دوبارہ تیار کر کے مزید قیدیوں کو ٹھہرانے کا بندوبست کر رہا ہے جو مستقبل میں امریکی پالیسیوں کی عکاسی کر رہا ہے۔

دنیا میں رسوائے زمانہ قسم کی جیلوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ سب کا احاطہ کرنا مشکل ہے لیکن چند جیلوں کے نام یہ ہیں۔ تہاڑ جیل (بھارت) میں ہے، جس میں قیدیوں کی گنجائش 6250 ہے اور تہاڑ جیل قیدیوں پر ظلم اور تشدد کیلئے مشہور ہے۔ بنگ کوئینگ جیل بنکاک (تھائی لینڈ) میں مجرم کو پھانسی دینے سے قبل دو گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے۔ ریکرز جزیرہ جیل ہے جو نیویارک امریکہ میںقائم ہے۔ پاکستان میں ’’مچھ‘‘ جیل کی سختیاں اور قید تنہائی مشہور ہیں جس میں کئی سیاستدانوں نے جیل کاٹی ہے ٹرمپ کے اس اقدام سے مسلمان ممالک میں اضطراب پھیلے گا اور امریکہ کے خلاف نفرت کے جذبات میںمزید اضافہ ہوگا ۔ جو یروشلم کے اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد بھڑک اٹھے تھے ۔

متعلقہ خبریں