Daily Mashriq

الوداع کوئٹہ

الوداع کوئٹہ

کے خشک درخت جو بہار کے موسم کے لمس کے منتظر تھے بڑے بڑے احاطوں میں کھڑے تھے۔ مٹی کی لپائی سے تعمیر کئے گئے احاطے جو منظر کا ہاتھ تھا م کر اسے میلوں تک لے جاتے تھے، ایک کے بعد ایک اور چٹیل پہاڑ جن کے پیچ وخم ایسے ملائم محسوس ہوتے تھے گویا کسی کپڑے سے سلوٹ بنائی گئی ہو۔ بلوچستان کی خوبصورتی کے بارے میں لکھنا مشکل ہے کیونکہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں قدرت کی صناعی کے سامنے الفاظ کے لبادے چھوٹے پڑنے لگتے ہیں۔ ہر ایک چہرہ ایک تصویر تھا۔ بازار کے نکڑ پر سٹال کے اندر بیٹھا چائے بناتا وہ شخص تصویر معلوم ہوتا تھا اور ریڑھی پر بیر بیچتا نوجوان بھی۔ شیلا باغ کے ریلوے سٹیشن کی سیڑھیوں پر کھڑا وہ بوڑھا شخص بھی ایک تصویر تھا۔ کئی بار ان لوگوں سے بات کرنے میں مجھے جھجھک بھی محسوس ہوئی جیسے میں قدرت کی صناعی میں منحل ہونے جا رہی ہوں۔ کئی بار یہ محسوس ہوا کہ یہ لوگ نہیں شاید کوئی تصویر ہیں، مجسمہ ہیں۔ ان سے بات کرنا میرے جیسوں کے بس سے باہر ہے۔ یہ تو شاید مائیکل اینجلو ہی کر سکتا تھا۔ ان کے چہروں کے نقوش میں جو کہانیاں ہیں انہیں سمجھنا، انہیں کھولنے کی جسارت کرنا بھی اس سطح کے کسی آرٹسٹ کا کا م تھا۔ میں تو ایک معمولی لکھاری ہوں کہاں ان کے چہروں کے حسن کو لفظوں میں باندھ سکتی ہوں۔ شیلا باغ ریلوے سٹیشن سے جب ہم کھوجک ٹنل کی طرف روانہ ہوئے اور میں نے مڑکر دیکھا تو وہ ہمارے ساتھ ہی تھا۔ اس کی داڑھی کے سفید بال، اس کے چہرے کی لکیریں، اس کے جھریوں بھر ے ہاتھ لیکن اس کی چال میں عجب سا طنطنہ تھا۔ میں نے اپنے بھائیوں جیسے بیج میٹ آغا وسیم احمد کو کہا، میں نے اس بوڑھے آدمی کیساتھ بچوں کی ایک تصویر ضرور کھینچنی ہے۔ یہ شخص تو ایک تصویر لگتا ہے۔ آغا صاحب ہنس پڑے کہنے لگے یہ راستہ گزر لیں۔ ٹنل کے دوسری جانب جہاں سڑک قریب آئے گی اور گاڑیاں کھڑی ہونگی، میں اپنے کیمرے سے تمہیں ایک شاندار تصویر کھینچ دوں گا۔ میں مطمئن ہوگئی کیونکہ آغا وسیم احمد ایک اعلیٰ پائے کے فوٹوگرافر بھی ہیں، ان کی کئی تصویروں کو بین الاقوامی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔ کھوجک ٹنل انسانی مہارت کا ایک شاہکار ہے۔ اس کی لمبائی 3.91کلومیٹر ہے اور اسے 1891میں کھولا گیا تھا۔ اس ٹنل کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں جو آج بھی لوگ اس وثوق اور یقین سے سناتے ہیں گویا کل کی بات ہو اور سب باتیں ان کے سامنے ہی ہوئی ہوں۔ اگرچہ ان باتوں کی تصدیق کرنا مشکل ہے لیکن اس سرنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس انجینئر نے اسے تعمیر کیا اسے ایک مخصوص وقت دیا گیا کہ اس نے اس وقت میں اس سرنگ کو مکمل کرنا ہے۔ اپنے وقت مقررہ پر کام مکمل کرنے کیلئے اس نے دونوں جانب سے سرنگ کی تعمیر کا کام شروع کروایا اور حساب لگایا کہ کس طرح کام کروایا جائے کہ یہ دونوں جانب کی سرنگیں آپس میں ایک دوسرے سے مل جائیں۔ اس روز جبکہ دونوں سرنگوں کو ملنا تھا اس سے ایک رات قبل اس نے دوبارہ حساب کتاب کیا تو اسے محسوس ہوا کہ اس کے ابتدائی حساب میں کچھ غلطی ہوگئی ہے، یہ دونوں سرنگیں تو آپس میںمل نہ سکیں گی۔ وہ اپنی اس غلطی سے اس قدر دلبرداشتہ ہوا کہ اس نے رات کو ہی اپنے آپ کو گولی مارلی اور اگلے دن جب دوبارہ کام شروع ہوا تو دونوں جانب کی سرنگیں آپس میں مل گئیں اور یوں یہ سرنگ مکمل ہوگئی۔ یہی باتیں کرتے ہم سرنگ کے دوسری جانب نکل آئے اور میری آنکھوں نے وہ منظر دیکھا کہ مُنہ سے بے اختیار سبحان اللہ نکلا۔ ایسا خوبصورت درہ، ایسے مطمئن پہاڑ کہ انہیں دیکھ کر انسان سوچتا ہے کہ اگر ممکن ہو سکے تو اس سکون کا کچھ حصہ اپنے لئے یہاں سے ساتھ لیتا جائے۔ سورج کی روشنی جب ان پتھروں پر پڑتی ہے تو وہ ایسے چمکتے ہیں جیسے پانی کے بنے ہوئے ہوں، ان پہاڑوں کی ڈھلانوں اور یہاں کے لوگوں کے چہروں پر ایک جیسا اطمینان اور ایک جیسی خوبصورتی ہے۔ ان کے لہجوں میں بھی کوئی عجلت نہیں۔ یہ کیسے کمال لوگ ہیں میں کسی دنیاوی معاشرتی پیمانے سے اپنے اس احساس کو ماپنا نہیں چاہتی کیونکہ یہ اس علاقے کے حسن کیساتھ زیادتی ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ کوئی مجھے یہ بتائے کہ بلوچستان ابھی تک آباد نہیں ہوا۔ میں اس خاموشی اور سکون کی محبت میں گرفتار ہو گئی ہوں، یہاں میری یادوں کی چبھن بھی ماند پڑنے لگتی ہے۔ اس بیابانی میں عجب سا ٹھہراؤ اور سکون ہے۔ سڑکوں پر تیزی سے گاڑیاں چلاتے بلوچوں کے چہروں کی رعونت بھی اچھی محسوس ہوتی ہے شاید اسلئے بھی کہ وہ ہمارے بھائی ہیں اور شاید اسلئے کہ بلوچستان میں اللہ کی صناعی اور ایک ہی رنگ ہے۔ دل سے بے اختیار سبحان اللہ کی آواز آتی ہے۔ آج میں کوئٹہ سے واپس لوٹ رہی ہوں لیکن یہاں کی ہوا کو یہ بتا کر جا رہی ہوں کہ اسے میرے حصے کا اطمینان اور سکون سنبھال کر رکھنا ہے، میں اپنا حصہ وصول کرنے پھر آؤں گی۔ یہ میرا حق ہے اور میں جانتی ہوں کہ یہ میرا حصہ سنبھال لے گی۔ میں جب بھی آؤں گی یہ میری جھولی میں میرا حصہ ڈالے گی۔ الوداع کوئٹہ۔

متعلقہ خبریں