Daily Mashriq


ہمارے رہنما اور جوزف سٹالن

ہمارے رہنما اور جوزف سٹالن

کی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر جوزف سٹالن کے بقول عام لوگوں کیلئے یہ کافی ہے کہ عام انتخابات منعقد کئے گئے۔ وہ لوگ جو انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہیں اُن کی فیصلہ سازی میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور وہ لوگ جو ووٹوں کی گنتی کرتے اور جن کو ووٹ ڈالے جاتے ہیں وہ ہر چیز کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک دفعہ جوزف سٹالن اپنے ساتھ پارلیمنٹ میں ایک مرغا لے آیا۔ سٹالن نے ایک ایک کرکے اس کے پر نوچ لئے۔ مرغا درد سے بلبلاتا رہا۔ پھر مرغے کو فرش پر چھوڑ دیا اور جیب سے کچھ دانے نکالے اور مرغ کے آگے ڈال کر چلنے لگا۔ مرغ دانہ چگتا اور سٹالن کے پیچھے چلنے لگا اور آخرکار مرغا ان کے قدموں میں آکھڑا ہوا۔ اس کے بعد سٹالن نے ایک مشہور تاریخی فقرہ بولا سرمایہ دارانہ ریاستوں کے عوام اس مرغ کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کے حکمران سب سے پہلے ان کا سب کچھ لوٹ کر ان کو اپاہج کرتے ہیں اور بعد میں تھوڑی سی خوراک دے کر ان کو اپنا گرویدہ بناتے ہیں اور چند سکوں اور چند دانوں کے عوض معاشی غلامی کا شکار اور اجتما عی شعور سے محروم عام لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان نما درندوں نے انہیں اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے۔ پاکستان جیسے نام نہاد جمہوری ملک میں بھی 21کروڑ عوام کیساتھ یہی ہوتا آیا ہے۔۔ حکمران جب قومی خزانے سے کوئی پُل، نالی، سکول وکالج یا اور کوئی عمارت تعمیر کراتے یا بجلی ٹرانسفامر لگاتے ہیں تو اس پر اپنے نام کی تختی لگاتے ہیں اور ہم خوش ہو جاتے ہیں۔ ہم بھی تالیاں اور شادیانے بجاتے ہیں کہ ایم این اے، ایم پی اے یا سینیٹر نے ہمارے لئے اتنا کچھ کیا اور جب حکمران طبقے کے لوگ جلسے میں تقریر کرتے ہیں تو ہمارے اوپر احسان جتاتے ہیں کہ آپ لوگوں کیلئے یہ سب کچھ میں نے کیا۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم ہر کام خواہ وہ بچے کا سکول، کالج میں ایڈمشن ہو، ہسپتال میں علاج یا تھانہ کچہری میں چھوٹے سے چھوٹا کام کیوں نہ ہو بس ہم ان ہی کے محتاج ہوں۔ الیکشن میں ابھی کافی وقت ہے مگر بدقسمتی سے ہم ان سیاستدانوں کے نام اور پارٹی پر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر تو حکومت اور اداروں کا کسی حد تک کنٹرول ہے مگر بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈر اور کارکن جس انداز سے ایک دوسرے کیخلاف نفرت آمیز زبان استعمال کرتے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ گالی گلوچ کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ خادم رضوی جو گالی ملک کے سارے سیاستدانوں، ججز حضرات، ٹی وی اینکرز کو دیتے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سب سیاستدان ایک ہیں اور آپس میں رشتہ دار ہیں۔ گزشتہ روز پشاور میں نواز شریف کا جلسہ تھا۔ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے جلسے میں عمران خان اور ججز حضرات کو انتہائی سخت الفاط میں ہدف تنقید بنایا۔ اپنی حکومت کے کارنامے بتا ئے، اگر ہم نواز شریف حکومت کی اب تک کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو نواز شریف کے دور حکومت میں ہر پاکستانی ایک لاکھ 10 ہزار روپے کا قرض دار ہے۔ پیپلز پارٹی نے2013 میں جب حکومت چھوڑی تھی تو اس وقت یہی قرضہ 77 ہزار روپے فی کس تھا۔ پاکستان کا کل قرضہ ملک کی اقتصادیات کا 65 فیصد ہے جبکہ جنوبی ایشیاء میں بھارت کا 52 ، بھوٹان اور نیپال کا 30 اور بنگلہ دیش کا25 فیصد ہے۔ وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق60 کی دہائی میں پاکستان نے جر منی کو 20 سال کیلئے12 کروڑ روپے قرضہ دیا تھا مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمران عیاشی اور نااہلی کی وجہ سے قرضوں پہ قرضے لے رہے ہیں۔ سال1991 سے سال 2013 تک مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں نے جس میں نواز شریف اور مشرف بھی شامل ہیں 172 کے قریب اثاثے 467 ارب روپے میں فروخت کئے گئے اور یہ ادارے منظور نظر افراد کو20 گنا کم قیمت پر بیچے گئے وفاقی حکومت نے موٹروے اور ائیر پورٹس کے بعد سرکاری ٹی وی یعنی پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی عمارتوں کو بھی گروی رکھ دیا ہے۔ 3 ڈالر یعنی 300 روپے فی کس کے حساب سے اس وقت تقریباً 13 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عالمی مالیاتی بینک کے مطابق پاکستان بین الاقوامی انسانی وسائل کے لحاظ سے 184 ممالک کی فہرست میں 147 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کے 50 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی، 50 فیصد لوگوں کو ٹائلٹ اور 50 فیصد لوگوں کے گھروںمیں نکاسی آب اور صفائی ستھرائی کی سہولت میسر نہیں۔ 10 ہزار آبادی کیلئے 5 ڈاکٹر، 10 ہزار آبادی کیلئے 5 بیڈ اور5 نرس دستیاب ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی شرح اموات دو ہزار میں 120 ہے۔ پاکستان میں خواندگی کی شرح 55 فیصد ہے، تعلیم پر قومی وسائل کا کم ازکم 6 فیصد خرچ کرنا چاہئے مگر وطن عزیز میں تعلیم پر قومی وسائل کا صرف 2 فیصد خرچ کیا جاتا ہے۔ دنیا کے 200 ممالک میں 130 ممالک ایسے ہیں جو پاکستان کیساتھ یا پاکستان کے بعد دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے ہیں مگر ان 130ممالک میں سماجی اقتصادی لحاظ سے پاکستان سب سے نیچے ہے۔ پاکستان میں ہر سال 35 لاکھ نوجوان نوکری کیلئے تیار ہو رہے ہیں مگر ان نوجوانوں کو کھپانے کیلئے حکومت کے پاس کوئی انتظام نہیں۔ پاکستان کی 84 ممالک کیساتھ تجارت ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان کا تجارتی خسارہ 6.5 بلین ڈالر ہے۔ سال 2013 سے سال 2015 تک پاکستان کی برآمدات میں 14 فیصد کمی واقع ہوئی، یہ کمی ماضی میں25 فیصد تھی اور نواز حکومت میں 20 فیصد ہوگئی۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں 43 فیصد کمی ہوئی۔ ملک کی 5 فیصد اشرافیہ اور حکمران ملکی وسائل کو لوٹتے رہتے ہیں اور اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں