Daily Mashriq

نظام تعلیم اور اُردو زبان کی ناقدری

نظام تعلیم اور اُردو زبان کی ناقدری

یقیناً گزشتہ چار برسوں میں خیبر پختونخوا میں بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بہت اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور اُس کے نتائج مستقبل میںضرور سامنے آئینگے۔ یہ بات بھی بہت خوش آئند ہے کہ پاکستان میں خیبر پختونخوا پنجاب کے بعد تعلیم کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے۔ موجودہ حکومت کے وزیر تعلیم عاطف خان پختونخوا میں بچوں کی تعلیم کے حوالے سے ایک بے چین وبے قرار شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس بات میں بھی شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ کسی بھی حکومت سے بڑھ کر تعلیم کیلئے وسائل فراہم کئے ہیں۔ ویسے تو حکومت کا دعویٰ بجٹ کا چار فیصد تعلیم کیلئے مختص کرنے کا ہے لیکن اس میں اگر تھوڑا سا مبالغہ بھی ہو، تب بھی اس بات میں شک نہیں کہ پرائمری سکولوں کا جال بچھانے کیساتھ ساتھ دو کمروں اور تین اساتذہ سے بڑھا کر کم ازکم پانچ، چھ کمروں اور چھ سات اساتذہ پر مشتمل پرائمری سکولوں کی ترقی کا سہرا بھی ان کے سروں پر سجتا ہے۔ اگرچہ خامیاں اور کوتاہیاں اب بھی موجود ہیں اور کئی ایک دور پار کے پہاڑی اور دیہاتی علاقوں میں سارے سکولوں کی صورتحال زیادہ اطمینان بخش نہیں لیکن شہری علاقوں میں سکولوں کی عمارت، تعلیمی سازوسامان، اساتذہ کی فراہمی اور اُن کو اوقات حاضری کا پابند بنانا اور مانیٹرنگ سیل کے افراد نے بہت خوشگوار تبدیلی کا احساس دلایا ہے۔ اساتذہ کی این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی اور کوالیفائیڈ نوجوان فارغ التحصیل لوگوں کو سکولوں میں پڑھانے کے مواقع فراہم کرنا بھی بہت بڑا کام ہے لیکن سوچنے اور غور وفکر کی بات یہ ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود ہمارا معیار تعلیم ماضی کی نسبت پستی کی طرف کیوں مائل ہے۔ سکولوں، اساتذہ، کتب اور تعلیمی ایڈز کی فراوانی کے باوجود ہمارے طلبہ کی تعلیمی استعداد ماضی قریب کے سادہ سکولوں اور اساتذہ کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مگر افسوسناک مثال یہ ہے کہ میٹرک اور ایف اے، ایف ایس سی پاس طلبہ کی اُردو املا اتنی کمزور ہے کہ انسان اس حالت کے پیش نظر پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے اندیشوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اُردو ہماری قومی زبان ہے اور اسی سبب انٹرمیڈیٹ تک اُردو لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کی اکثریت نصاب میں شامل اُردو کتاب کے اسباق کا صحیح تلفظ، مضاف اور مضاف الیہ اور ح، ق، ع وغیرہ کے صحیح مخارج سے قاصر ہیں۔ شعر کو شعر کے لوازمات اور تقاضوں کے مطابق پڑھنا تو آج کل جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ حضرت اقبالؒ کے اشعار تو سر کے اوپر سے گزر جاتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ کلاس روم میں پڑھاتے وقت موزوں اور ضروری موقع پر علامہ اقبالؒ یا اور کسی شاعر کا شعر سناتے ہوئے اس مخمصے میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ شعر سناؤں کہ نہ سناؤں، سناؤں تو پھر سمجھانا بھی پڑے گا اور جن لوگوں کو شعر سنانے کے بعد سمجھانا بھی پڑے تو شعر سنانے کا فائدہ ہی کیا اور اگر سمجھانے کے بعد بھی حاضرین ٹس سے مس نہ ہوں تو کیا سر پیٹنے کو جی نہیں چاہے گا۔۔۔ علامہ اقبال ؒ کی شاعری کے ضروری حصے جو کبھی طلبہ کیلئے بہت شان سے نصاب کا حصہ ہو کر پڑھا ئے جاتے تھے، آج جدیدیت، لبرل ازم اور این جی اوز کے طفیل ایسے عنقا ہو گئے ہیں کہ گویا اقبال ؒ کے افکار کا نصاب تعلیم سے کوئی تعلق ہی نہیں اور سچ پوچھو تو قوموں پر ایسے حالات آیا ہی کرتے ہیں کہ جب اُن پر غیروں کے براہ راست یا بالواسطہ فکری اثرات غالب آجاتے ہیں تو ’’غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر‘‘

اس گھر کا سب نظام ہے غیروں کے ہاتھوں

باہر ہے میرے نام کی تختی لگی ہوئی

آج میرے ملک وصوبے میں نسلی تفاوت (Generation Gap) اس حد تک آیا ہے کہ تندور سے روٹی لینے والا بچہ ان پڑھ یا واجبی پڑھے لکھے تندورچی سے فور یا فائیو روٹیاں مانگتا ہے لیکن چار یا پانچ روٹیاں طلب کرنے کے قابل نہیں۔۔۔

حضرت اقبال ؒ اور دیگر اُردو زبان کے مستند شعراء وادباء کی روحیں ضرور تڑپ رہی ہونگی کہ آج اُن کے دیس میں اُن کی فکری وروحانی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنیوالے بہت کم رہ گئے ہیں اور جو تھے وہ ایک ایک کر کے جا رہے ہیں اور جو باقی ہیں وہ تیار بیٹھے ہیں۔

جو بادہ کشتی تھے پرانے وہ اُٹھتے جا رہے ہیں

کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی

سائنسی مضامین وعلوم کی قدر وقیمت، ضرورت اور اہمیت اپنی جگہ، انگریزی کی بین الاقوامی افادیت اور ناگزیریت بھی تسلیم، لیکن کیا دنیا میں کوئی دوسرا ملک بھی ہوگا جہاں ملکی زبان کیساتھ ایسی بے اعتنائی برتی جا رہی ہو اور قوم کے تعلیم وتعلم پر اُس کے مضر اثرات مرتب ہو رہے ہوں۔ چین، روس، فرانس اور بعض دیگر ملکوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ ہم عجیب لوگ ہیں کہ عدالت عالیہ کے حکم کے باوجود اُردوکو دفتری زبان کے طور پر اختیار کرنے سے گریزاں ہیں۔ حکومت کے کارپردازوں میں سے بالخصوص وزارت تعلیم سے وابستہ لوگوں کے دل میں اگر واقعی کہیں قوم وملک کا درد ہے تو وقت آں پہنچا ہے کہ قرآن وسنت کو بنیاد بنا کر پورے ملک کیلئے یکساں نصاب تعلیم کو بغیر کسی تاخیر کے رائج کیا جائے۔ اس کے فوائد یقینی ہیں۔

متعلقہ خبریں