Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت ابن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک درخت کے پاس جب پہنچتے تو اس کے نیچے دوپہر کو آرام فرماتے اور اس کی وجہ یہ بتاتے کہ حضور اکرمؐ نے اس درخت کے نیچے دوپہر کو آرام فرمایا تھا۔

حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ تھے‘ چلتے چلتے جب وہ ایک جگہ کے پاس سے گزرے تو راستہ چھوڑ کر ایک طرف ہو لئے‘ ساتھیوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ راستہ کیوں چھوڑ دیا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے حضور اکرمؐ کو یہاں ایسے ہی کرتے دیکھا تھا‘ اس لئے میں نے بھی ایسا ہی کیا۔

حضرت نافعؒ کہتے ہیں: حضرت ابن عمرؓ مکہ مکرمہ کے راستے میں (سیدھا نہیں چلتے تھے بلکہ کبھی راستے کے دائیں طرف) سواری کو موڑ لیا کرتے تھے (کبھی بائیں طرف) اور فرمایا کرتے تھے: میں ایسا اس لئے کرتا ہوں کہ میری سواری کا پائوں حضور اکرمؐ کی سواری کے پائوں والی جگہ پر نہ پڑ جائے۔یہ حضورؐ کے سچے عاشق تھے ۔ان سے محبت کا اظہار تھا کہ جو کام حضورؐنے جس جگہ کیا تھا وہ اسی جگہ وہی کام کرتے تھے ۔ آ پ ؐ سے محبت ہی ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔

سیدہ زنیرہؓ فرعون وقت ابو جہل کی خادمہ تھیں۔ آپؓ نے کلمہ پڑھ لیا تو ابو جہل کو بھی پتہ چل گیا۔ اس نے آکر پوچھا کیا کلمہ پڑھ لیا؟ فرمایا: ہاں! آپؓ بڑی عمر کی تھیں‘ مشقتیں نہیں اٹھا سکتی تھیں مگر ابو جہل نے اپنے دوستوں کو ایک دن بلایا اور ان کے سامنے بلا کر انہیں مارنا شروع کیا لیکن برداشت کرتی رہیں کیونکہ وہ تو حق تعالیٰ کے نام پر اس سے بڑی تکالیف بھی برداشت کرنے کے لئے تیار تھیں۔ جب ابو جہل نے دیکھا کہ اتنا مارنے کے باوجود ان کی زبان سے کچھ نہیں نکلا تو اس نے آپؓ کے سر میں کوئی چیز دے ماری جس سے آپؓ کی بینائی زائل ہوگئی اور آپ نا بیناہوگئیں۔ اب کفار نے مذاق کرنا شروع کردیا اور کہنے لگے:

دیکھا ہمارے بتوں کی پوجا چھوڑ چکی تھی‘ لہٰذا ہمارے معبودوں نے تجھے اندھا کردیا۔ جب سیدہ زنیرہؓ نے یہ بات سنی تو آپؓ برداشت نہ کرسکیں۔ چنانچہ فوراً تڑپ اٹھیں۔ اسی وقت کمرے میں جا کر سجدہ میں گر گئیں اور اپنے محبوب حقیقی سے راز و نیاز کی باتیں کرنے لگ گئیں۔ عرض کیا! اے میرے رب! وہ تو یوں کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں نے تمہاری بینائی چھین لی ہے‘ خدایا! جب میں کچھ نہیں تھی تو تو نے مجھے بنایا۔ بینائی بھی عطا کردی۔ اب تو نے ہی بینائی واپس لی ہے۔

یا الٰہی! تو مجھے دوبارہ بینائی عطا فرمادے تاکہ ان پر تیری عظمت کھل جائے۔ ابھی دعا والے ہاتھ چہرے پر نہیں پھیرے تھے کہ رب العالمین نے آپؓ کی بینائی لوٹادی۔ اس وقت مرد تو مرد خواتین میں بھی یوں محبت الٰہی کا جذبہ بھرا ہوا تھا۔

(سنہرے واقعات)

متعلقہ خبریں