Daily Mashriq


سابق حکومتی اقدامات کا تسلسل یا نئے اقدامات

سابق حکومتی اقدامات کا تسلسل یا نئے اقدامات

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے غربت میں کمی لانے اور نادار افراد کے علاج کیلئے اقدامات خوش آئند اقدامات قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی اپنے دور حکومت میں اس قسم کے اقدامات کے اعلانات کئے اور اُن کا باقاعدہ افتتاح کرنے کے بعد اُن پر عملدرآمد بھی کیا گیا اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ اقدامات اُنہی اقدامات کا تسلسل ہی قرار پاتے ہیں، بہرحال ہمیں یہاں تقابلی جائزہ مطلوب نہیں بلکہ یہاں ہم اس امر کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے اقدامات سابق حکومت کے اقدامات سے کس حد تک مختلف اور مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ سے ملک کے ڈیڑھ کروڑ غریب خاندان مستفید ہوں گے، مریض150 سے زائد سرکاری ونجی ہسپتالوں میں علاج کرواسکیں گے۔ وزیراعظم نے اس امر کا اعادہ کیا کہ یہ ہیلتھ کارڈ ہم کے پی میں لیکر آئے تھے، اس سے بہت فرق پڑا۔ امر واقع یہ ہے کہ وطن عزیز میں علاج معالجہ کی سہولیات اور خاص طور پر وہ افراد جو ناداری کے باعث علاج اور ادویات کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے ان کیلئے بیماری ہر طرح سے مشکلات اور مصائب ساتھ لیکر آتی ہے۔ وطن عزیز میں ڈاکٹر سے رجوع کرنے پر ویسے بھی جھجھک کا کلچر ہے، اس جھجھک کی ایک وجہ عسرت ضرور ہے لیکن اس کے علاوہ بھی لوگ اپنے بروقت علاج کیلئے مستند طبی ماہر سے رجوع کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ جہاں غربت اور تعلیم کی کمی ہو وہ لوگ تو گھر کے دروازے پر آئے ہوئے طبی عملے کے سامنے آنے سے گھبراتے ہیں کہ مبادا کوئی بیماری نہ نکل آئے اور علاج کرانے کی مشکل کا سامنا ہو۔ اگر سروے کیا جائے تو ہسپتالوں میں مریض لائے ہی اس وقت جاتے ہیں جب مریض تکلیف اور بیماری برداشت کرتے کرتے نڈھال ہوچکا ہو۔ ویسے بھی ہمارا رویہ اس بارے میں یہ ہے کہ جب تک کوئی اس کیفیت کو نہ پہنچ جائے وہ اپنے علاج پر توجہ نہیں دیتا۔ جس معاشرے کے غالب ترین حصے کا یہ وتیرہ ہو وہاں علاج کی بہتر اور مفت سہولتیں جتنے نزدیک باسہولت باکفایت یا مفت ہوں تو بہتر ہے کہ لوگ اس سے استفادے پر تیار ہوں۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ بیماری کی تشخیص، علاج اور ادویات کے مہنگا ہونے کے باعث عوام الناس سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ ان حالات میں حکومت کی طرف سے عوام کو مفت علاج کی فراہمی کسی نعمت سے کم نہیں۔ خیبر پختونخوا میں اس کا تجربہ ضرور ہوچکا ہے لیکن اس سے استفادہ کرنے والے کئی وجوہات کی بناء مطمئن نہیں بلکہ اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ صوبے میں جتنے افراد کو صحت کارڈ جاری کئے گئے تھے ان میں سے کتنے افراد نے اس سہولت سے فائدہ اُٹھایا اور کتنا فائدہ اُٹھایا۔ جنہوں نے اس سہولت سے استفادہ نہ کیا اس کی وجوہات کیا تھیں۔ آیا ان کو اس کی ضرورت ہی نہ پڑی یا پھر دیگر وجوہات تھیں، جن لوگوں نے اس سہولت سے فائدہ اُٹھایا ان کے تجربات اور اطمینان کا درجہ کیا تھا اور وہ اس سہولت کے انتظامات ومعاملات میں کس حد تک اور کیا کیا تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت نے اس سہولت کی فراہمی کیلئے کتنی رقم خرچ کی اور اس سے علاج معالجے پر خرچ ہونے والی رقم کتنی تھی اور اس کا تناسب کیا تھا۔ اس ضمن میں ایک عمومی رائے یہ ہے کہ چونکہ یہ سہولت صرف داخل مریضوں کیلئے ہی مختص ہے اس لئے صحت کارڈ کے حاملین اس سے کماحقہ استفادہ نہیں کر سکے۔ ایسا ممکن نہیں کہ ہر شخص ہسپتال میں داخل ہو اور ان کو داخلہ کی سہولت ملے لیکن ایسے بھی افراد کی تعداد کم نہ ہوگی جن کے پاس اگرصحت کارڈ کی سہولت نہ ہوتی تو وہ اپنے علاج معالجے کے متحمل نہ ہوتے اور خدانخواستہ ان کی بیماری بڑھ جاتی۔ بہرحال ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کے مفت علاج کا پروگرام خامیوں اور خرابیوں کے امکانات سمیت ایک احسن قدم ہے جس پر عملدرآمد سے حکومت عام آدمی کو کم ازکم اتنی امید تو دلاسکے گی کہ بیمار ہونے کی صورت میں حکومت کم ازکم ان کے علاج معالجے کا تو مفت انتظام کرنے کے قابل ہے اور حکومت کو عام آدمی کی مشکلات کا احساس ہی نہیں وہ اس ضمن میں عملی اقدامات بھی کررہی ہے۔ جہاں تک ملک میں غربت کے خاتمے کے پروگرام اور سکیموں کا سوال ہے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا شافی علاج خود حکومت کے پاس بھی نہیں۔ غربت مکاؤ مہم سابق دور میں بھی شروع کی گئی تھی لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج نہ نکل سکے البتہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، بیت المال اور اس طرح کے دیگر سرکاری امدادی اداروں کو مربوط بنا کر ایک نظم کے تحت غربت میں کمی لانے کی سعی احسن ہوگی۔ مربوط اور منظم کوششوں سے وسائل کا یکجا کرکے استعمال کیا جائے توغربت کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملنے کی توقع ہے اور اس کا کسی حد تک نتیجہ خیز ہونا بھی ممکن ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ محولہ منصوبوں اور اقدامات کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لیا جائے گا اور اس میں پائے جانے والی خرابیاں اور پیچیدگیاں ختم کر کے ان پروگراموں کو اس طرح سے استوار کیا جائے گا کہ اس سے عوام زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں۔

متعلقہ خبریں