Daily Mashriq

ناموں کی تبدیلی کا معاملہ

ناموں کی تبدیلی کا معاملہ

باچا خان انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا نام تبدیل کرکے دوبارہ پشاور انٹرنیشنل ایئر پورٹ رکھنے سے بہت سوں کو اختلاف ہوگا سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بحث چل رہی ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو پشاور ایئرپورٹ کا نام کسی شخصیت سے منسوب کرنے سے اس بین الاقوامی ہوائی اڈے کیساتھ ساتھ صوبائی دارالحکومت کی شناخت بھی متاثر ہوئی تھی جس پر اس وقت توجہ دلانے کے باوجود توجہ نہیں دی گئی اس کا اس لئے بھی جواز نہ تھا کہ اس ایئرپورٹ کا پرانا سرکاری نام موزوں اور اس کی شناخت کا حامل تھا جسے تبدیل کرنے کا کوئی اصولی جواز نہ تھا۔ لہٰذا اس حوالے سے گنجائش موجود ہے لیکن دوسری جانب جن ہسپتالوں اور جامعات کو اس شخصیت یا کسی اور شخصیت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ان ناموں کی تبدیلی درست اقدام نہ ہوگا کیونکہ ان محترم شخصیات کی شخصیت وکردار اور احترام کا تقاضا ہے کہ ان کے ناموں سے ہسپتال اور جامعات منسوب کئے جائیں۔ تاریخی ناموں کی تبدیلی کے بعد نیا اور سب کیلئے قابل قبول نام نہ رکھے جانے کے فارمولے کے تحت تو صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا رکھنے سے صوبے کی آبادی کی تو شاید نمائندگی ہو لیکن رقبے کے لحاظ سے صوبے کا نام خیبر پختونخوا رکھنا ایک متنازعہ عمل تھا اور اس پر اعتراضات بھی اٹھائے گئے اور اب بھی اعتراضات موجود ہیں اس لئے اس پر بھی ایک مرتبہ پھر غور ہونا چاہئے۔

پنشن کی سہل ادائیگی کی تیاری

وزیراعظم پاکستان کی تبدیلی کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے احکامات کی روشنی میں پینشنرز کو سہولت دینے کیلئے ایسے میکینزم کی تیاری جس کے تحت سرکاری ملازم کو ریٹائر ہوتے ہی اس کی پنشن اور تمام مراعات فوری مل جائیں، ایک سنجیدہ اور احسن قدم ہوگا اس کی ابتدا محکمہ تعلیم سے کرنے سے اساتذہ کو دردر کی ٹھوکریں کھانے سے نجات ملے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محکمہ تعلیم کا ایک مثالی قدم ہوگا جہاں تک پنشن کے اس طرح کے انتظامات کا تعلق ہے سرکاری اداروں میں ہی اس قسم کی مشکلات ہوتی ہیں۔ خودمختار اداروں جیسے سٹیٹ بنک اور پی آئی اے میں پنشن پر جانے والوں کو فائلیں بغل میں دبائے دفتر، دفتر پھرنا نہیں پڑتا بلکہ ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر آنے پر ان کے پنشن کے کاغذات وواجبات وغیرہ تمام امور کی پوری تیاری ہوتی ہے اور مدت ریٹائرمنٹ کے چند دنوں کے اندراندر پنشنر کو اس کے واجبات مل جاتے ہیں۔ اس ماڈل کو سرکاری اداروں میں متعارف کرانے میں تھوڑی بہت مشکلات ہوں گی، قواعد وضوابط میں بھی ترمیم کی شاید ضرورت پڑے۔ اس کمپوٹرائزڈ دور میں اب ریکارڈ بٹن دباتے ممکن ہیں بنابریں سرکاری امور کو جتنا سہل اور آسان بنا دیا جائے اس پر کام ہونا چاہئے نہ صرف پنشن کا کام بلکہ سرکاری امور نمٹانے کے فرنگی دور کے جو قوانین اور ضوابط ہیں ان سب کا خاتمہ ہونا چاہئے۔

لشمینیا کی پھیلتی وباء سے صرف نظر کیوں؟

خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں لشمینیا مچھروں نے ہزاروں بچوں اور خواتین کے چہرے بگاڑ دینے اور ہسپتالوں میں 50 ہزار سے زائد افراد کے اس مرض میں مبتلا ہونے کی اطلاعات پریشان کن اور فوری توجہ طلب ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ اُنکیلئے سرکاری سطح پر مطلوبہ علاج کابندوبست نہیں۔محکمہ صحت اور اس ضمن میں کردار کے حامل اداروں کی کارکردگی کا پول اس وقت کھل جاتا ہے جب کسی علاقے میں لشمینیا کے مریض سامنے آتے ہیں یا پھر ڈینگی کی وباء آتی ہے اور تو اور اس وقت صوبے کے ہسپتالوں بلکہ مارکیٹ میں کتے کے کاٹے کے انجکشن بھی دستیاب نہیں جس کے باعث مریضوں کا بروقت علاج نہیں ہو پاتا۔ اس ساری صورتحال کی وجوہات اسباب وعوامل اور نتائج سے متعلقہ ہسپتالوں کے اعلیٰ حکام کو وزیراعلیٰ اور وزیر صحت کے ہسپتالوں پر چھاپوں کے دوران توجہ دلانا چاہئے۔ حکام کو جہاں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی غیرموجودگی اور فرائض کی ادائیگی میں تساہل کا نوٹس لینا چاہئے اور برموقع ان کیخلاف کارروائی کی ہدایت کرنی چاہئے ایسے مواقع پر حکام اپنی ذمہ داریوں اور محکمہ صحت کی ذمہ داریوں میں کوتاہی پر بھی نظر ڈالیں تاکہ دوطرفہ احتساب ہو۔ ذرائع ابلاغ میں ایک عرصے سے لشمینیا کے مریضوں میں اضافہ کی خبریں شائع ہورہی ہیں۔ رپورٹیں دکھائی جارہی ہیں لیکن اس ضمن میں کسی اعلیٰ حاکم کی جانب سے نوٹس نہ لیا جانا بھی کوئی کہانی نہیں حقیقت ہے۔ اس طرح کے طرزعمل کی گنجائش نہیں جہاں عملے کی کوتاہی وہاں عملہ قصوروار گردانا جائے جہاں محکمے کی ذمہ داری ادھوری ہو وہاں محکمے کی اصلاح ہونی چاہئے اور جہاں حکومتی اقدامات اور وسائل کی کمی ہو وہاں حکمران ذمہ داری قبول کریں۔ اس کے علاوہ اقدامات یکطرفہ ٹریفک کے مانند ہوں گے جن کے ثمرآور ہونے کا امکان نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں