Daily Mashriq


صحت کے مسائل

صحت کے مسائل

وزیر اعظم عمران خان نے کم آمدنی والے لوگوںکو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کیلئے صحت انصاف کارڈ کی سکیم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سکیم کے تحت سال میں سات لاکھ بیس ہزار روپے تک کے علاج کے اخراجات کی سہولت حاصل ہوگی۔ پہلے مرحلے میں اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں نادار خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ مہیا کیے جائیں گے اس کے بعد پنجاب کے ایک کروڑ لوگوں کو بھی اس سکیم میں شامل کیاجائے گا۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ خاندان میں ایک فرد بیمار ہو جائے تو سارے خاندان کے لیے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ بعض خاندان اپنی جمع پونجی تک علاج پر خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک پروگرام مسلم لیگ ن کی سابق حکومت نے چار سال پہلے وزیر اعظم کے قومی صحت پروگرام کے نام سے شروع کیا تھا۔ اس پروگرام میں اسلام آباد کے علاوہ بلوچستان‘ پنجاب‘ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پسماندہ اضلاع کو شامل کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے پروگرام کے بارے میں قومی صحت کے وزیر عامر محمود کیانی نے کہا ہے کہ آئندہ دو سال تک ڈیڑھ کروڑ لوگوں تک یہ سہولت مہیا کی جائے گی اور 2030ء میں ملک کے ہر شخص کو صحت انصاف کارڈ کی سہولت میسر ہو گی۔ ضرورت مندوںکا تعین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے جو سروے کیا گیا ہے اس کی بنا پر کیا جائیگا جن کی آمدنی دو ڈالر یومیہ سے کم ہے۔ صحت کے بیمہ پر مبنی یہ سکیم اور اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی حکومت کی سکیم دونوں ایک اچھا آغاز شمار کی جانی چاہیں تاہم صحت کے مسائل کہیں زیادہ ہیں اور ان کا تعلق عمومی غربت‘ پسماندگی اور جہالت کیساتھ بھی ہے۔ محض علاج معالجے کو صحت کے مسائل کا حل نہیں کہا جا سکتا۔ بیماریوں کا انسداد اہم ترین سوال ہے جس پر توجہ کی ضرورت مقدم ہونی چاہیے۔ صحت انصاف کارڈ کے حامل دل کے امراض‘ جھلسنے کے زخموں‘ ذیابیطس‘ ڈائیلائسس‘ سرطان‘ نیورو سرجری اور ہنگامی حالت کے علاج کی ضروریات کیلئے نامزد ہسپتالوں سے رجوع کر سکیں گے اور ہسپتال سال میں سات لاکھ بیس ہزار روپے تک کی علاج کی سہولت انہیں فراہم کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ اس فہرست میں یرقان‘ پولیو اور فالج ایسے موذی امراض شامل نہیں ہیں۔ وزیر صحت نے کہا ہے کہ 2030ء میں ایسا وقت آ سکتا ہے جب یہ سکیم سارے پاکستان کا احاطہ کرے گی۔ ہر چند کہ یہ سہولت ضرورت کی نسبت بہت کم ہے تاہم بیماریوںکا علاج فراہم کرنے کی طرف ایک صحیح قدم ہے۔ جب کہ صحت کی حفاظت کیلئے اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر یہ بات قابلِ غور ہونی چاہیے کہ جن بیماریوںکا ذکر کیا گیا ہے ان کے لاحق ہونے کی وجوہ کیا ہیں اور ان کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے۔ دل کے امراض کی وجوہ میں ڈپریشن‘ فکرمندی بھی شامل ہیں جو سماجی عدم تحفظ کی دین ہے۔ جھلسنے کے واقعات یا تو آتشزدگی کے باعث وقوع پذیر ہوتے ہیں یا بعض خواتین پر تشدد کی وجہ سے سامنے آتے ہیں۔ ان کو روکنے کیلئے خواتین کو سماجی تحفظ فراہم کرنا اور آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کیلئے متعلقہ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ذیابیطس فکر مندی اور بدپرہیزی کے باعث لاحق ہوتی ہے ‘اس کا تدارک بھی سماجی تحفظ اور سماجی رویوں کی اصلاح میں ہے۔ ڈائیلائسس کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب گردے کام کرنا چھوڑ دیں اور اس کی وجہ بالعموم ناصاف پانی کا استعمال ہوتی ہے جب کہ ہمارے ملک میں پینے کا اسی فیصد پانی مضر صحت بیان کیا جاتا ہے۔ سرطان کی وجوہ کا ابھی تک احاطہ نہیں کیا جا سکا ہے تاہم اس کی ایک وجہ دوائیوں کا کثرت سے اور خود تشخیصی استعمال ‘ پلاسٹک کی بنی ہوئی چیزوں کا کثرت سے استعمال بتائی جاتی ہے جبکہ ہمارے ہاں کھانے کی ہر چیز پلاسٹک کے لفافوں میں بند ملتی ہے۔ نیوروسرجری اور علاج کے ہنگامی تقاضے مثال کے طور پر زچگی کے مسائل اور حادثات کے بعد پیداہونے والے مسائل کو بیماری تصور نہیں کیا جا سکتا لیکن ایسی صورت میں بعض اوقات علاج سات لاکھ بیس ہزار روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔ ایسی صورت حال کو روکنے کیلئے حاملہ خواتین کی مسلسل نگہداشت کو اس سکیم میں شامل ہونا چاہیے تھا اور نیوروسرجری کیلئے فنڈز میں الگ خصوصی اضافہ ہونا ضروری تھا۔ علاج معالجہ انتہائی اہم ضرورت ہیں لیکن بیماریوں کی روک تھام کیلئے اقدامات بھی اتنے ہی ضروری سمجھے جانے چاہیں۔ دوسری طرف معاشرے میں حفظانِ صحت کے اصولوں کی افادیت اور ان کی پابندی کیلئے شعور اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ سستے غسلخانے فراہم کرنا اور کمیونٹی کو ان کی صفائی ستھرائی قائم رکھنے پر آمادہ کرنا بہت ضروری ہونا چاہیے۔ ہمارے کارخانہ دار اپنے آپ کو سماجی ذمہ داری سے ماورا سمجھتے ہیں اور قوانین اور ضابطوں کے باوجود کارخانوں کا استعمال شدہ زہریلا پانی نہروں اور دریاؤں میں چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ پانی زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی میں شامل ہو جاتا ہے۔ گندگی کی صفائی اور استعمال شدہ لفافوں ‘ پلاسٹک کی بوتلوں اور ڈبوں کو ٹھکانے لگانے کا کوئی بہتر طریقہ بڑے شہروں میں بھی کم ہی نظر آتا ہے۔ یہ سب کچھ براہ راست صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ معاشرے میں ناداری اور دولتمندی کا فرق اس قدر زیادہ ہے کہ اس سے ذہنی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں جو بیماریوںکا سبب بنتی ہیں ۔ باغوں‘ میدانوں اور صحت مند تفریح کے ٹھکانوں کی کمی بھی صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ الغرض صحت کے مسائل کے حل محض علاج معالجہ اور صرف چند بیماریوں کے علاج کیلئے مخصوص رقم مختص کرنے میں نہیں ہے جبکہ یہ سہولت بھی پاکستان تک 2030ء میں پہنچے گی۔ صحت کے مسائل کو کم کرنے کیلئے صحت مند طرز زندگی کی پسندیدگی ‘ صحت محافظ پانی اور خوراک‘ کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کیخلاف سختی اور اجتماعیت کے احترام کا ہونا بھی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں