Daily Mashriq


تجربوں سے اجتناب لازم ہے

تجربوں سے اجتناب لازم ہے

تجربوں کے شوقین کسی نئے تجربہ کیلئے سنجیدہ ہیں۔ کیا پچھلے 71برسوں کے دوران یہاں جتنے تجربے ہوئے ان کے نتائج سبق آموز نہیں۔ پچھلے چند دنوں سے ان دو سوالوں میں پھنسا ہوا ہوں۔ چار اور جو کچھ ہو رہا ہے اس پر طالب علم کی دل گرفتگی بجا ہے۔ ہماری نسل نے عوامی جمہوریت کے خواب دیکھے، تعبیروں کے لئے بساط مطابق جدوجہد کی، خواب تعبیروںسے پہلے چوری ہوگئے۔ پورے چار مارشل لا بھگت چکی، نسل کے روشن چراغ بھجتے جارہے ہیں۔ مایوسیوں کی جگہ اب بھی اُمید پرستی قائم ہے۔ اس کثیرالقومی ملک کو ایک سوشل ڈیموکریٹ ریاست کی صورت میں ہی قائم ودائم رکھا جا سکتا ہے۔ انصاف ہو اور مساوات، استحصال نام کی کوئی چیز نہ ہو۔ یہ سب اس طور ممکن ہے جب آبادی کے اکثریتی طبقات کے اندر سے صاحب علم وفہم قیادت اُبھر کر سامنے آئے۔ فی الوقت مارکیٹ میں جو قیادتیں دستیاب ہیں ان پر بحث اُٹھانے کا فائدہ کوئی نہیں مگر اصل مسئلہ یا یوں کہہ لیں طاقت کے اصل مراکز اور نچلے طبقات کے لوگوں کی سوچ میں فرق ہے۔ نچلے طبقوں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ طبقاتی نظام کی بندگلی سے عوامی جمہوریت کیلئے راستہ نکالنا آسان ہے لیکن یہ آسانی مشکل میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی۔ ہمارے ہاں چند طبقے اور قوتیں ایسی ہیں جنہیں زندگی اور طاقت کے رزق کیلئے ایک غدار اور ایک کافر کی ضرورت رہتی ہے۔ 71برسوں کے دوران غدار اور کافر بدلتے رہے، سوچ بدلی نہ ضرورت۔ آج بھی ہم جہاں کھڑے ہیں وہ کوئی قابل فخر مقام ہرگز نہیں۔ غدار اور کافر تراشنے والی فیکٹریاں بند کرنا ہوں گی ان سے ہمیں71برسوں کے دوران کچھ نہیں ملا۔ ہمیںسمجھنا ہوگا کہ قدیم قومی شناختوں سے محبت ماں بولی پر فخر اپنی تہذیبی وثقافتی روایات اور تاریخ سے عشق کا مطلب یہ ہے زندگی کی رمق باقی ہے۔ بدقسمتی سے یہاں اس کا مطلب یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کوئی ایک یا چند طبقات انحراف کی راہ پر چل نکلے ہیں لیکن ایسا ہے نہیں۔ 21 ویں صدی کے دوسرے عشرے کے نویں سال سے گزرتے ہوئے لوگ اصل میں یہ سوچتے ہیں کہ طبقاتی خلیج کیوں بڑھ رہی ہے۔ بالادست طبقات خوشحال سے خوشحال تر ہوتے جارہے ہیں اور کمزور طبقات کیلئے سانس لینا بھی دشوار ہوا جارہا ہے۔ انصاف طبقاتی بنیادوں پر ملتا ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے انحراف ہورہا ہے۔ ایک بھی معاملہ ایسا نہیں جس میں لوگوں کے اکثریتی طبقات کی فلاح کیلئے کوئی حکمت عملی ہو۔ اس پر ستم یہ ہے کہ اگر کوئی عوامی حقوق اور مساوات کے حوالے سے آواز اُٹھاتے ہوئے دستور کی ان شکوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جو ریاست کو عوامی حقوق کے حوالے سے تائید کرتی ہیں تو اسے منہ زور، منحرف اور بیرونی قوتوں کا آلہ کار قرار دینے میں پل بھر کی تاخیر نہیں کی جاتی۔ بہت احترام سے عرض کروں ہم ایسی تقسیم کا شکار ہو چکے کہ اپنی اپنی پسند کے ظالم ومظلوم رکھنے لگے ہیں۔ سماجی تعلق رکھنے میں عقیدہ اور نسلی شناخت دیکھتے ہیں یہ صورتحال کسی بھی طور مثبت نہیں اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔ یہ اسی طور ممکن ہے جب مختلف اقوام کے ترقی پسند زمین زادے متحد ہوکر استحصالی نظام کے خاتمے کیلئے جدوجہد کریں۔ مکرر عرض کرتا ہوں جس تجربے کی طرف ہمارا ہانکا ہو رہا ہے اس سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔ سوچ بدلنا ہوگی، دستور میں دیئے گئے شہری، معاشی اور سیاسی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ پاکستان ہمارا، ہم سب کا ملک ہے۔ اپنی قدیم قومی شناختوں اور ماں بولیوں سے والہانہ محبت کا مطلب پاکستان سے انکار ہرگز نہیں۔ فتوؤں کی چاند ماری سے رزق پاتے ہوؤں کو بطور خاص یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری بقامستقبل دونوں کی ضمانت ایک ایسا نظام ہے جس میں خطے کی اقدام کو مساوی حقوق حاصل ہوں کسی کو کسی پر بالادستی حاصل نہ ہو۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ منتخب اداروں تک اکثریتی طبقات کی رسائی ہوسکے، بالادست طبقات طاقت اور وسائل سے حق نمائندگی حاصل کرتے چلے آرہے ہیں، اس طور طبقاتی نظام تو مستحکم ہوتا ہے عوام ویسے کے ویسے ہیں۔ نئے تجربے کرنے کافر کافر اور غدار غدار کھیلنے کے بجائے نظام میں اصلاحات پر غور کیا جائے، قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جائے، افسر شاہی بے لگام نہ ہو۔ ہر شخص اور ادارہ قانون کو جوابدہ ہو۔ انصاف بلاامتیاز فراہم کیا جائے، وسائل منصفانہ طور پر تقسیم ہوں، سماجی تعمیر وترقی میں عام آدمی بھی خود کو شریک سمجھے یہ سب اس طور ممکن ہوگا جب نفرتوں اور تعصبات کیساتھ فتوؤں کی چاند ماری کے کاروبار کی سختی کیساتھ حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ باردیگر عرض ہے کہ اس امر پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے کہ پاکستان کے مستقبل کے لئے کیا ضروری ہے؟ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ ایک ایسا نظام جو فلاحی ریاست کے خواب کو تعبیر دے سکے، لوگوں کا ریاست پر اعتماد بحال کرائے۔ مساوات کے ابدی اصول پر عمل کو یقینی بنائے، استحصال کی ہر صورت کی حوصلہ شکنی کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے اور پالیسی ساز عصری ضرورتوں کو نظرانداز کر کے اپنی فہم کی لاٹھی سے اس ملک کے لوگوں کو ہانکتے رہیں گے یا پھر وہ اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کریں گے کہ اگر قانون کی حکمرانی سے مزید منہ موڑا گیا تو اس سے نقصان ہوگا؟۔ ہماری دانست میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اور لوگوں کے درمیان پچھلی بداعتمادی کا خاتمہ بہت ضروری ہے تاکہ روشن خوابوں کی تعبیر حاصل کی جاسکے۔

متعلقہ خبریں