Daily Mashriq

بینک، بیروزگار نوجوان اورپولیس

بینک، بیروزگار نوجوان اورپولیس

خدمت خلق کے اس ہفتہ وار سلسلہ وار کالم میں بہت سے ایسے پیغامات بھی موصول ہوتے ہیں جو ہوتے تو کسی مسئلے کے حوالے سے ہیں لیکن مسئلہ یا تو تفصیل سے بیان نہیں ہواہوتا یا پھر محض ایک اشارہ ہی دے دیا جاتا ہے جس پر لکھنا ممکن نہیںہوتا۔ ایک بنک منیجر کا باربار یہ پیغام موصول ہو رہا ہے کہ آپ بنکوں کے اوقات کار کے حوالے سے لکھیں، بنکوں کے اوقات کار سبھی کو معلوم ہیں اور ان اوقات کار کی پابندی میں بنک اہلکار عوام کی جو درگت بناتے ہیں اس موقع پر میں ان کا تذکرہ کرنا چاہوں گی۔ بنکوں کے اوقات کار کے بعد چونکہ کچھ وقت مزید لگا کر اسی دن کے کام کو نمٹانا اور اگلے روز کیلئے تیاری کرنی ہوتی ہے اس لئے جیسے ہی ساڑھے تین بج جاتے ہیں بنک کائونٹر پر کیش وصولی اور چیک پاس کرنے کے عمل کو باربار التوا میں رکھتے ہوئے عملہ دوسرا کام نمٹانے لگ جاتا ہے جس کے باعث کم از کم ایک گھنٹہ لائن میں کھڑے ہونے کے بعد کسی صارف کا نمبر آتا ہے اور جو لوگ بل جمع کرانے یا دوسرے کام سے بنک میں جھانکتے ہیں وہ لمبی لائن اور سست روی دیکھ کر واپس چلے جاتے ہیں۔ صارفین اپنی شکایت لیکر بنک منیجر کے پاس جاتے ہیں تو وہ طفل تسلیاں دینے لگتا ہے ۔ ایسے بنکوں کے برانچوں اور اس کے عملے کے حوالے سے میرے پاس تفصیلات موجود ہیں لیکن فی الوقت سٹیٹ بنک کی توجہ میں اس جانب مبذول کرائوں گی کہ جہاں جہاں کاروباری افراد کو بنکوں سے واسطہ پڑتا ہے ان بنکوں کے شاخوں کی اپنے طور نگرانی کر کے صورتحال معلوم کر کے کارروائی کی جائے تاکہ صارفین کی شکایات کا ازالہ ہو۔ خاص طور پرسوئیکارنو چوک سے شعبہ چوک نمک منڈی، نیوفروٹ مارکیٹ، ارباب روڈپشاور صدر اور بھانہ ماڑی وغیرہ کے کاروباری حلقوں کی مشکلات دور کی جائیں۔ ضلع ملاکنڈ سے محمد اسماعیل نے اپنا دکھڑا اس طرح سے بیان کیا ہے کہ جہاں اس سے ہمدردی ہونا فطری امر ہے وہاں ملک میں بیروزگاری اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا سرکاری اسامیوں کیلئے ٹیسٹ لینے والے اداروں بشمول خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن پر سے اُٹھتے اعتماد کا پورا پورا اظہار ہوتا ہے۔ یہ نوجوان ماسٹر ڈگری کا حامل ہے مگر مجبوراً اس نے محکمہ جیل خانہ جات خیبر پختونخوا میں گریڈ پانچ کی آسامی کیلئے درخواست دی جس کا تحریری اور فزیکل امتحان دونوں ہوچکے ہیں اور ڈسٹرکٹ میں اول پوزیشن حاصل کی لیکن چار ماہ سے زائد کا عرصہ ہوا تقرری کا کوئی پروانہ نہیں آیا۔ جب بھی فون کر کے پوچھا تو انتظار کا کہا جاتا ہے۔ اگرچہ محنت اور روزگار میں کوئی عار اچھی بات نہیں لیکن سولہ سال کی محنت کے بعد اگر ایک نوجوان کو گریڈ پانچ کی آسامی کو قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے تو یہ ہمارے نظام کی ناکامی ہے۔ مذکورہ نوجوان کی قابلیت اور استعداد نہیں تھی تو وہ سولہ جماعتیں کیسے پاس کر گیا اور اگر وہ اس قابل تھا تو پھر ان کو کس گریڈ میں بھرتی کیا جارہا ہے اور وہاں بھی ان کو خدشہ ہے کہ فزیکل ٹیسٹ اور تحریری امتحان میں اول آنے کے باوجود کہیں ان سے ہاتھ نہ ہو جائے۔ ان کا یہ خدشہ بلا سبب بھی نہیں کہ ہمارے ہاں میرٹ کا دعویٰ تو بہت دیکھنے کو ملتا ہے مگر سرکاری نوکریاں اپنوں میں ریوڑھیوں کی طرح بانٹ دی جاتی ہیں۔ خدشات اور انتظار کے لمحات بھی جان لیوا ہوتے ہیں اس کے باوجود کم ازکم فون پر ان کو تسلی تو دی جاسکتی ہے۔ محکمے کے حکام اگر ان کو انتظار کرنے کی بجائے یہ یقین دلائیں کہ آپ کا حق آپ کو ضرور ملے گا اور تاخیر کی تھوڑی بہت وجوہات سے بھی نوجوان کو آگاہ کرنے کی زحمت کریں تو ان کا کیا جائیگا۔ اگلا ایس ایم ایس بھی باجوڑ سلارزئی سے نوجوان بادشاہ محمد کا سرکاری اسامیوں ہی کے حوالے سے ہے۔ ان کو شکایت ہے کہ وہ جب بھی کہیں درخواست دیتا ہے ٹیسٹ اور انٹرویو کے وقت پہلے سے کم گریڈ میں برسر روزگار ہونے کے باوجود درجنوں اُمیدواران کیساتھ ٹیسٹ وانٹرویو میں آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اتنی بیروزگاری ہے تو پھر جو لوگ سرکاری ملازمتوں پر ہیں ان کو تو کم ازکم بیروزگاروں کیلئے جگہ چھوڑ دینی چاہئے۔ ایک اخلاقی اصول کے تحت تو آپ کی بات میں وزن ہے لیکن آگے بڑھنے اور ترقی کی جدوجہد اور سعی بسیار وباربار کرنا ہر نوجوان کا حق ہے۔ جو نوجوان سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی تعلیمی قابلیت سے کہیںکم گریڈ پر نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں وہ پوری تیاری کیساتھ اور اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے محکمانہ وساطت سے درخواستیں دیتے ہیں اور مسابقت میں شامل ہوتے ہیں۔ اگر ہمارا نظام اس بات کا حامل ہوتا کہ یہاں حقدار کو اس کے حق سے کم نہ ملتا یا پھر وہ اپنے حق سے کم نہ لینے پر مجبور نہ ہوتا تو کیا بات تھی۔ بیچارے ایسا نہ کریں تو کیا کریں۔ اس لئے دل چھوٹا نہ کریں ہر نوجوان کو اپنی قسمت آزمانے دیں اور خود اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ ملاکنڈ کے سپیشل فورس پولیس کے اہلکاروں نے ایک مرتبہ پھر اپنا دیرینہ مطالبہ دہرایا ہے کہ یا تو ان کی ملازمت مستقل کر دی جائے یا پھر کم ازکم ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ ایک قاری ارمغان عزیز نے فروٹ فار آل پروگرام کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی تفصیلات سے عوام کو آگاہ کرنے اور عوام کو اس مہم میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس قاری نے سوائے ایک چھوٹی سی قطع اراضی کے علاوہ کسی اور جگہ اس قسم کی تیاری نظر نہ آنے کی بات کی ہے۔ میرے خیال میں ضروری نہیں کہ شہر کے مرکزی علاقوں میں ہی اس پروگرام کے مناظر تلاش کئے جائیں لیکن بہرحال اس نوجوان قاری کی اس پروگرام میں دلچسپی اور عوام کو بھی اس نافع پروگرام میں شرکت کا موقع دینے کی تجویز اچھی ہے۔ شجرکاری اور میوہ دار پودے لگانے کیلئے جس جس کو جہاں جہاں ایک پودا لگاکر اس کی حفاظت کرنے کا موقع میسر آئے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ حکومت اس حوالے سے ایک معلوماتی مہم شروع کرے تو بہتر ہوگا، ویسے بھی موسم بہار کی شجرکاری شروع ہونے کو ہے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں