Daily Mashriq


حج سبسڈی، متبادل نقطۂ نظر

حج سبسڈی، متبادل نقطۂ نظر

پاکستان اس وقت جن معاشی مشکلات سے دوچار ہے، اس سے نکلنے کیلئے حکومت جب کوئی اقدام اُٹھاتی ہے تو اہل الرائے اور باشعور لوگ اس کی اس کے باوجود تائید کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے ان اقدامات سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن جب حکومت یہ کہتی ہے کہ مہنگائی کی یہ لہر عارضی ہے اور بہت جلد اکانومی صحیح ٹریک پر آکر عوام کیلئے سہولیات کا باعث بن جائے گی۔ اسی تناظر میں پچھلے دنوں جب حج پر سبسڈی کے خاتمے کا اعلان ہوا اور اپوزیشن کی طرف سے اس پر سخت تنقید ہوئی تو میری رائے اور تحریر وتقریر حکومت کے حق میں تھی اور میری کئی دیگر لوگوں کی طرح یہی رائے تھی کہ حج صاحب نصاب لوگوں پر فرض ہے لہٰذا حکومت سبسڈی کو ختم کر کے بچ جانے والی رقم کو غریب عوام کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال میں لائے گی تو اس میں کوئی دوسری رائے کیا ہو سکتی تھی؟ لیکن پچھلے دن ڈاکٹر زاہد مغل کی ایک بہت اہم اور منطق پر پوری اُترنے والی تحریر سوشل میڈیا پر نظروں سے گزری اور اس کے علاوہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر ظاہر شاہ نے حج کے اخراجات کی تفصیل لکھ کر میری پہلی رائے میں تبدیلی پیدا کی ہے۔ان دونوں تحریروں کے علاوہ سینیٹر مشتاق احمد (امیر جماعت پختونخوا) نے فون کر کے بہت مدلل انداز میں یہ مؤقف پیش کیا کہ حکومت سبسڈی ختم کر کے حاجیوں پر خواہ مخواہ مالی بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں، اگرچہ عبادات میں مال کا خرچ کرنا افضل ہوتا ہے لیکن پاکستان میں عام طور پر متوسط طبقہ کے لوگ خصوصی بچت کے ذریعے دیارمقدس کی زیارتوں کو زندگی کا نچوڑ سمجھتے ہیں لہٰذا اُن کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ اُن پر لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپے کا اضافہ اسلئے کیا جائے کہ حکومت حج سے اپنے دیگر خساروں کو پورا کرنے کی کوشش میں ہے۔ بالخصوص پی آئی اے کا سال بھر کا خسارہ۔۔۔ لیکن حکومت بہانہ یہ کر رہی ہے کہ سعودی عرب میں رہائش، کھانا پینا اور یہاں تک کہ آب زم زم بھی مہنگا ہوگیا ہے اس لئے گویا حکومت مجبوری کے تحت سبسڈی واپس لے رہی ہے لیکن محترم سینیٹر صاحب نے مجھے اعداد وشمار دیئے اور یہ نکتہ بھی سامنے لائے کہ حکومت حاجیوں سے مہینوں پہلے جو اربوں روپے وصول کر لیتی ہے اُس پر بھی مارک اپ (منافع) کے ذریعے کروڑوں اربوں کما سکتی ہے علاوہ ازیں، سعودی عرب میں حجاج کرام کو چالیس، پنتالیس دن قیام پر محض اس لئے مجبور کیا جاتا ہے کہ وطن عزیز سے جدہ، مدینہ منورہ وغیرہ تک حج پروازوں پر پی آئی اے کی اجارہ داری قائم رہے اور سال بھر کی کمائی کو محفوظ بنا سکے کیونکہ سال کے دیگر مہینوں میں توکوئی مجبوری کے تحت ہی موجودہ پی آئی اے میں سفر کی خواہش کرتا ہے۔ڈاکٹر ظاہر شاہ نے پاکستان سے آنے جانے کے ٹکٹس سے لیکر سعودی عرب میں قیام وطعام اور قربانی تک کا الگ حساب کر کے کوئی تین لاکھ سے زائد روپے کا اندازہ لگایا ہے اور اس سے سبسڈی بھی منہا کر دی ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ حج کے اخراجات کے موضوع پر ایک غیرجانبدار کمیٹی یا حکومت اور اپوزیشن کے اراکین پر مشتمل کمیٹی بنا کر اس حوالے سے پورے معاملے کو وضاحت کیساتھ عوام اور حجاج کرام کے سامنے لایا جائے۔ اگر حکومت نے واقعی سعودی عرب میں مہنگائی کے سبب اخراجات میں اضافہ کیا ہے تو عوام مطمئن ہو جائیں لیکن اگر حج کے اخراجات میں حکومت اور اس مقدس عبادت میں پیسہ کمانے میں ملوث مختلف مافیاز کے سبب اضافہ ہوا ہے تو یہ کسی صورت روا نہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کا کام یہ بھی ہوتا ہے کہ سعودی عرب جیسے امیر ترین برادر اسلامی ملک کے حج سے متعلق وزارت اور اداروں کے مقتدر حضرات سے ملکر اخراجات میں کمی کیلئے درخواست کریں۔حکومت اس بات کو بھی مدنظر رکھے کہ خطے کے دیگر ممالک چین، بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ سے بھی تو لوگ حج پر جارہے ہوںگے اُن کیساتھ بھی گفت وشنید سے اس بات میں پیش رفت ہوسکتی ہے کہ اُن سے کم نہ سہی اُن کے برابر تو لایا جا سکتا ہے۔ اس وقت چونکہ اس موضوع کے حق ومخالفت میں مختلف اخبارات اور چینلز پر مختلف آراء پیش کی جارہی ہیں اور عوام کی آراء بھی اس لحاظ سے منتشر ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایوان بالا وزیریں میں اپوزیشن کے اراکین کے سامنے ٹھوس دلائل اور اعداد وشمار لائے تاکہ حج جیسی فرض ومقدس عبادت کے حوالے سے یہ شور وغوغا ختم ہو اور دنیا میں پاکستان کا تماشا نہ بنے۔ حکومت کو اس بات کا بھی اب خیال رکھنا ہوگا کہ آخر ہر معاملے اور موضع پر غیرضروری بحث ومباحثہ اور اعتراض وتنقید آخر کیوں ہوتی ہے۔ اس میں حکومت اور قوم کی قیمتی توانائی اور وسائل ضائع ہوتے ہیں اس لئے اس قسم کی چیزوں سے گریز واجتناب ہی بہتر ہے۔

متعلقہ خبریں