Daily Mashriq


میڈیکل بورڈ کی نوازشریف کو امراضِ قلب کے ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز

میڈیکل بورڈ کی نوازشریف کو امراضِ قلب کے ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز

لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کا معائنہ کرنے کے لیے تشکیل دیا جانے ولا سروسز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے انہیں قلب کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے باعث امراضِ قلب کے طبی مرکز منتقل کرنے کی تجویز دے دی۔

بورڈ کے سربراہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں موجود امراضِ قلب کے کسی بھی خصوصی ہسپتال میں ممکن ہے۔

گفتگو کرتے ہوئے سروسز ہسپتال میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ ’سروسز ہسپتال میں ہم نے نوازشریف کا معائنہ کیا اور خون، ہارمون، بائیو کیمسٹری، ریڈیولوجی، قلب، گردوں دماغ اور آنکھوں کے ٹیسٹ کیے گئے۔

اس کے ساتھ ان کا سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ اور کل ڈوپلر ٹیسٹ بھی کیا گیا، جس کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد میڈیکل بورڈ نے متفقہ طور پر اس بات کا فیصلہ کیا کہ نوازشریف کو دل کے علاج کی ضرورت ہے اور اس کے لیے انہیں امرضِ قلب ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ ’بورڈ کی تشخیص کے مطابق، نوازشریف کے دل کی شریانوں میں خون کے بہاؤ میں کچھ مسائل ہیں جنہیں لازمی معالجِ قلب کو دکھانا ضروری ہے، انہوں نے بتایا کہ دل کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے ہم نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے رابطہ کیا جس پر بورڈ نے ان کی ادویات میں معمولی ردو بدل بھی کیا ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کا علاج پاکستان میں ممکن ہے تو پروفیسر ایاز کا کہنا تھا کہ ’ان کا علاج پاکستان میں ممکن ہے، ہم نے تجویز دی تھی کہ دل کی پیچیدگیوں کے سبب ان کا معالجِ قلب سے معائنہ کروانا ضروری ہے‘۔

ذرائع کے مطابق حکومتِ پنجاب کا سروسز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ کی تجویز کی روشنی میں نوازشریف کی دل کی تکلیف کا معائنہ کرنے کے لیے 5واں میڈیکل بورڈ بنانے کا ارادہ ہے۔

دوسری جانب مریم نواز کی والد کی عیادت کے لیے سروسز ہسپتال آمد کے موقع پر جب ان سے نواز شریف کے لندن میں علاج کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میاں صاحب واپس جیل جانا چاہیں گے‘۔

واضح رہے کہ دو روز قبل صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحس چوہان نے دعویٰ کیا تھا کہ نوازشریف علاج کے لیے لندن جانا چاہتے ہیں اور ’شریف خاندان اور مسلم لیگ (ن) اس کے لیے نوازشریف کی صحت کو جواز بنا کر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ وہ شریف خاندان کے لیے ریلیف کے خواہشمند ہیں‘۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم کو تیسرے میڈیکل بورڈ کی تجویز پر کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کی گیا تھا، جو العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں 7 سال کی قید بھگت رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں