Daily Mashriq


آسمان پر یہ 2 سفید لکیریں کیوں بنتی ہیں؟

آسمان پر یہ 2 سفید لکیریں کیوں بنتی ہیں؟

کیا آپ کو ایسا منظر دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جب آسمان پر 2 سفید لکیریں نظر آتی ہیں جو کچھ دیر میں تحلیل ہوجاتی ہیں؟

اگر ہاں تو کبھی سوچا کہ یہ لکیریں کیوں ہوتی ہیں اور ان کے بننے کی وجہ کیا ہے؟

اگر ہاں تو اس کے پیچھے کافی دلچسپ وجہ چھپی ہوئی ہے۔

ویسے یہ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ لکیریں درحقیقت طیاروں کی پرواز کے دوران بنتی ہے مگر ان کے بننے کی وجہ کیا ہوتی ہے؟

آسمان پر ان سفید لکیروں کو ویپر ٹریلز کہا جاتا ہے اور یہ درحقیقت ایوی ایشن فیول جلنے کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

جب ایندھن جلتا ہے تو وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی بناتا ہے جو کسی بھی طیارے کے پیچھے ننھے قطروں کو چھوڑ جاتے ہیں۔

اگر آپ زیادہ توجہ سے دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ کسی طیارے اور ان لکیروں کے درمیان ایک خلا ہوتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ گیس کو ان قطروں کی شکل میں ڈھلنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔

یہ طیاروں کی بلندی، درجہ حرارت اور ہوا میں نمی پر ہوتا ہے کہ ان لکیروں کی موٹائی اور دورانیہ کتنا ہوتا ہے۔

پتلی اور جلد تحلیل ہونے والی لکیر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بلندی پر ہوا میں نمی کم ہے جبکہ موٹی اور دیر تک برقرار رہنے والی لکیر ہوا میں نمی کی نشانی ثابت ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں