Daily Mashriq


افغانستان میں قیام امن کے تقاضے

افغانستان میں قیام امن کے تقاضے

امریکا نے افغانستان کی غیر موجودگی میں ماسکو میں ہونے والے سہ فریقی افغان مذاکراتی عمل کے حوالے سے اس اْمید کا اظہار کیا ہے کہ یہ اجلاس امن کے قیام میں مدد فراہم کرے گا۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ماسکو میں پاکستان، چین اور روس کے درمیان افغان امن مذاکرات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں افغانستان کو شریک نہ کیے جانے پر اس نے شدید احتجاج کیا تھا۔ سہ فریقی اجلاس کے بعد روس، چین اور پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ اور ملک کی خراب ہوتی سیکورٹی صورت حال پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ امریکا افغانستان کی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اس درخواست سے اچھی طرح واقف ہے جس میں گلبدین حکمتیار کے خلاف مقامی اور بین الاقوامی پابندیاں اٹھانے کیلئے کہا گیا ہے، جس نے حال ہی میں افغانستان سے امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔روس چین اور پاکستان کی سہ فریقی کانفرنس سے متعلق افغانستان او رامریکہ کا ابتداء میں جو رویہ تھا اس میں اب نرمی اور تبدیلی اس امر کا مظہر ہے کہ دونوں ممالک کو اس امر کا احساس ہو چکا ہے کہ افغا نستان کے مسئلے کے حل کی چابی ان کے پاس نہیں، افغا نستان کے مسئلے کے حل کی چابی سہ فریقی ممالک کے پاس بھی نہیں اور اگر ان ممالک کو ملا بھی دیا جائے تب بھی چابی ان کے پاس نہیں الایہ کہ ایران اور بھارت کو بھی ان کی اہمیت کے بقدر موقع دیا جائے۔ ہمارے تئیں ان کو اعتما د میں لینا کافی ہوگا مگر ان ممالک کو افغانستان میں امن سے زیادہ اپنے مفادات سے دلچسپی ہے۔ خاص طور پر بھارت افغانستان میں پاکستان کے خلاف پراکسی وار لڑ رہا ہے جبکہ روس کی پاکستان سے قربت اور بھارت کے امریکہ سے پینگیںبڑھانے کے بعد بھارت کا روس کے حوالے سے رویہ بھی مثبت رہنے کا امکان نہیں ۔سہ فریقی ممالک خطے کے اہم ممالک ہیں اور ان کا مفاد خطے میں قیام امن سے ہے۔ تا پی گیس پائپ لائن سی پیک اور وسطیٰ ایشیا ئی ممالک سے زمینی روابط اور تجارت بڑھانے کے لئے افغانستان میں قیام امن ضروری ہے جبکہ بھارت اور امریکہ کا اس قسم کا مفاد وابستہ نہیں بلکہ ان کو افغانستان میں اپنی اہمیت اور اپنے مفادات کی حد تک دلچسپی ہے جب تک یہ ممالک اس ضمن میں خلوص اور دیا نتداری کا مظاہرہ نہیں کرتے اور ایران مصلحت سے باز نہیں آتا اور خطے میں روس چین اور پاکستان ایک طرف امریکہ بھارت اور ایران دوسری طرف مزاحم رہیں گے افغانستان کی حکومت کٹھ پتلی اور کٹی ہوئی پتنگ کی طرح رہے گی تب تک صورتحال میں بہتری کی توقع ہی عبث ہے ۔ دنیا کو افغانستان کا امن مطلوب ہے اور افغان حکام کو داخلی استحکام اور قیام امن میں دلچسپی ہے تو اس کا تقا ضا ہے کہ وہ دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلنے کی بجائے اپنی بقاء اور استحکام کیلئے خطے کے ممالک کے ساتھ رواداری اور اعتماد کی فضا پیدا کرے اور کسی ملک کو داخلی معاملات میں مداخلت اور اپنی مرضی کرنے کی اجازت نہ دے تب جا کر افغانستان میں قیام امن کا خواب پورا ہونے کا امکان ہے۔ فی الوقت افغانستان میں قیام امن کی سمت ہی واضح نہیں جس کی وجہ سے اس کے حوالے سے ہونے والی ہو سعی لا حاصل ٹھہرتی ہے ۔

تحفظ نسواں کی طرف اہم پیشرفت

پنجاب حکومت کی طرف سے صوبے میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ویمن سیفٹی ایپ متعارف کرانے کا اقدام احسن عمل ہے جس سے خواتین میں تحفظ کا احساس بڑھے گا۔ویمن سیفٹی ایپ کا مقصد خواتین کی مشکلات کو حل کرنا ہے، یہ ایپ خصوصی طور پر خواتین کے لیے بنائی گئی ہے تاکہ وہ ہراساں ہونے یا کسی مشکل صورتحال میں مدد کی کال دے سکیں۔ اس ایپ کے ذریعے خواتین کسی علاقے کو غیر محفوظ بھی قرار دے سکیں گی، جس کے بعد حکومتی ٹیم وہاں کا جائزہ لے گی اور اسی حساب سے وہاں پٹرولنگ، اسٹریٹ لائٹ کا نہ ہونا یا جو بھی مسئلہ ہو اسے حل کرنے کیلئے اقدامات کیئے جائیں گے ۔ پنجاب میں تحفظ نسواں کے سلسلے میں خاصے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ہمارے تئیں پنجاب حکومت کایہ تجربہ خواتین کیلئے خاصا سود مند ثابت ہوگا اور اگر اس منصوبے کو غیر روایتی انداز میں کامیاب بنانے کے لئے بروقت اور فوری اقدامات یقینی بنا ئے جاتے ہیں تو یہ تحفظ نسوا ں کے حوالے سے ایک اہم اور عملی پیشرفت ہوگی ۔ اس منصوبے کا دوسرے صوبوں کو بھی جائزہ لے کر اپنے ماحول اور حالات کے مطابق مناسب تغیر و تبد ل کے ساتھ اپنے ہاں رائج کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ تحفظ نسواں بل کی منظور ی اور تحفظ نسوا ں کے اب تک کے صو بوں کے اقدامات کما حقہ کافی ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔ اس پر تسلسل سے کام کر کے ہی خواتین کو تحفظ کا ماحول اور احساس فراہم کرنا ممکن ہوگا۔

متعلقہ خبریں