Daily Mashriq


جو وعدہ کر و

جو وعدہ کر و

ایک زبردست خشک سالی کے ساتھ مو سم میں بھی تبدیلی نئے عیسوی سال کی آمد کے ساتھ رونما ہو ئی ہے کہ پا کستان کے پہاڑی علاقوں پر برف پڑنا شروع ہو ئی ہے۔ اس سے گلیشیئرجو تیزی سے پگھل رہے تھے ان میں ٹھہر اؤ ہو جا ئے گا۔ میدانی علا قو ں میں بھی خنکی بڑھ گئی ہے۔ خشک سالی انسانی صحت کے لحاظ سے کم ہو گئی ہے مگر زراعت کے لیے کوئی خاص تبدیلی نہیں ہے کیونکہ محکمہ مو سمیات جس کو بارش کہہ رہے ہیں وہ بوندا باند ی بھی نہیں ہے بلکہ جھلّا ہے۔ جیسے کہ زمین پر چھڑکا ؤ سا ہو گیا ہے۔ اس کے بعد جنوری میں بارش کا مبہم سا امکا ن ہے ساتھ ہی ان کا علم یہ بھی کہتا ہے کہ امسا ل سردی کی شدت میں کمی رہے گی ۔ جغرافیائی مو سم کی تبدیلی انسانی زندگی کے علا وہ نبا ت ، اور دیگر جاندار پر بھی گہر ے اثرات مر تب کرتی ہے چنانچہ ، سائنسدانو ں نے ایک رپورٹ مرتب کی ہے کہ دنیا میں نقل مکا نی کی سب سے بڑی وجہ مو سم میں تبدیلی ہے کیو ں کہ دنیا کے درجہ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے سمند رو ں میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جس کی وجہ سے لو گ نقل مکا نی کر رہے ہیں ، یہ منطق کہا ں تک درست ہے اس بارے میں فی الحال بحث کی ضرورت نہیں مگر یہ بات درست ہے کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کم سردی کی وجہ سے موسم کی بنیا د پر نقل مکا نی کر نے والے پر ندے وقت سے پہلے اپنے ٹھکانو ں کو لو ٹ رہے ہیں تاکہ وقت پر اپنی افزائش نسل کرسکیں۔ انسانوںسے تو یہ پرند ے اور جانو ر بہتر ہیں کہ اپنے گھر و ں کو واپس قدرتی عوامل کی وجہ سے جارہے ہیں مگر انسان جن میں لا کھو ں نہیں بلکہ کروڑوں انسان ہیں وہ جنگی جنو ن ، تعصب ، دہشت ، اور نہ جا نے کن کن آفتو ں کی وجہ سے ہجرت پر مجبور ہیں۔ ان کی آباد کا ری کا کوئی ٹھکا نہ نہیں ہے ، مو سم کی جہا ں تبدیلی ہو رہی ہے وہا ں سیاسی تبدیلی بھی اس نئے سال خوب دھو م کے ساتھ ہو رہی ہے۔ اوباما جا رہے ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ آرہے ہیں ۔ اوباما جا تے ہوئے دو کا م ایسے کر گئے ہیں ایک تو یہ کہ انہو ں نے سلا متی کو نسل میں اسرائیل کی قر ار داد کی منظوری کے لیے راہ دی۔ صیہونی قوت کے بارے میں شروع سے یہ تاثرہے کہ وہ اوباما سے چڑتی ہے اور ڈونلڈ کو کا میا ب کر نے میں یہ ہی بغض کا رفر ما تھا۔ اسرائیل کے خلاف قرار داد منظور ہو نے پر ڈونلڈٹرمپ کے گردے اسی بنا پر لا ل ہو رہے ہیں۔ دوسرا اوباما کا یہ کا م بھی قابل تعریف ہے کہ جاتے جا تے وہ تقریبا ًدوسو قید یوں کو معافی دیتے جارہے ہیں تاکہ وہ معاشرے میں کوئی کر دار ادا کرنے سے محروم نہ رہ جا ئیں۔ اس مو قع پر دختر پا کستان وامّہ کی یا د آئی ہے کہ جو کئی سالو ں سے امریکا کے عقوبت خانے میں نا کر دہ گنا ہو ں کی سز ا اپنے حکمر انوں کی نا اہلی کی بنا ء پر سہہ رہی ہے ڈاکٹر عافیہ کی رہا ئی پرمیاں نو از شریف سمیت کئی سیا ست دانوں نے اپنی سیا ست کی دکا ن چمکا ئی ، مگر ان میںخوف خدا نہیں پا یا گیا۔ ایک مظلو م خاتون جس کے اپنے ملک پر کچھ اسلا می اصولو ں کے مطا بق حقوق ہیں وہ کا ل کوٹھڑی میں پڑی غیر وں کے ظلم وشدائد سہہ رہی ہے۔ میاں نو از شریف سے توقع تھی اور ان کی خاندانی روایا ت کے پیش نظر قوم کو یقین تھا کہ وہ ایک غیرت مند پا کستانی ہو نے کے نا تے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے کو سنجید ہ لیں گے اور اپنے وعدہ کو خلوص کے ساتھ نبھا ئیں گے مگر اب ان کی ترجیحات کچھ اور ہی نظر آرہی ہیں۔ کیا پا کستان کے ارباب حل وعقد کو یہ احساس نہیں ہے کہ حشر کے روز جو ڈاکٹر عافیہ کے سوال پر جو محشر اٹھے گا اس کا ان کے پا س کیا جو اب اور کیا جواز ہوگا ۔ میا ں نو از شریف کو اس وقت پانا ما لیکس کی پڑی ہو ئی ہے۔ اقتدار تو آنی جانی شے ہے وہ پہلے بھی دو مر تبہ اقتدار سے محروم ہو چکے ہیں۔ جس شخص نے اپنے مفاد کی خاطر آئین پا کستان کو روندا ، میا ں صاحب کو گھپ کا ل کوٹھڑی میں ڈال دیا تھا ، یہ اللہ کا انصاف ہی تو ہے کہ آج نہ صرف وہ اپنے بچاؤ کی بھیک مانگتا پھر رہا ہے بلکہ ملک سے فرار کے لیے بھی اس نے نا جا ئز راستہ اختیا ر کیا۔ اس سے بڑھ کر کیا ذلت ہو سکتی ہے کہ اپنے ملک میں اس کے لیے پنا ہ نہیں ہے ، اگرمیاں نواز شریف حقیقت کو سمجھیں تو ان کو جو تیسر ی مرتبہ اقتدار ملا ہے وہ اللہ کی جانب سے عزت افزائی ہے ، مگر دیکھا جا ئے تو میاںنو از شریف نے کراچی کے گورنر ہا ؤس میں جو ڈاکٹر عافیہ کی والدہ سے وعدہ کیا تھا۔ اس سے انحراف نے ان پر اللہ کی جانب سے آزمائش آئی ہے اللہ کی طرف سے عقل مندو ں کے لیے نشانیا ں ہو ا کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کی طرف سے بارہا کہا گیا ہے کہ اگر حکومت پاکستان ایک خط امریکی حکومت کو لکھ دے تو امریکا ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان کے حوالے کر دے گا وہ اس کے لیے تیا ربھی ہے۔ اوباما قید یو ں کی رہا ئی کے جو احکامات جاری کر رہے ہیں یہ ایک سنہر ی موقع ہے اب بھی ڈاٹر عافیہ کے وکیل نے یاددہا نی کرائی ہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ ایک خط اوباما حکومت کو بھیج دے ،وکیل حیران ہے کہ پاکستانی حکا م خط لکھنے سے کیوں کتر ارہے ہیں۔29جنو ری کو اوباما صدارت کا قلمدان ڈونلڈ ٹرمپ کے سپر د کردیں گے بہت تھو ڑا وقت رہ گیا ہے۔ اگر اس کو ضائع کر دیا تو قوم اپنے حکمرانو ں کو اس غفلت پر کبھی معاف نہیں کر ے گی یا پھر قوم کو بتایا جائے کہ وہ کیا ہیچ ہے جو ان کو خط لکھنے سے مانع کیے ہو ئے ہے۔ پاکستانی قوم نے ہمیشہ قربانیا ں دی ہیں۔ وہ یہ کڑوا گھونٹ بھی پی سکتی ہے اگر کوئی حقیقت مانع ہو قوم کو بتایا جائے ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کہا جا تارہا ہے ہے کہ وزارت خارجہ کی جانب سے خط لکھا گیا تھا مگر امریکا نے اس کا کوئی جو اب نہیں دیا ، خط لکھنے کی بات مشکو ک ہے ، اگر ایسا کوئی عمل ہو ا ہے تو اس کا حوالہ دیا جا ئے کم از کم ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کے علم میںلا یا جا ئے اور خط کے مند رجا ت کی نقول اور ریفرنس وغیر ہ وکیل کو فراہم کر دئیے جائیں تاکہ وہ ان حوالہ جا ت کی بنیا د پر کار روائی کو آگے بڑھا سکے۔ یاد رہے کہ مو سم کی تبدیلی سے چڑیوں کا چہچہانا بھی بند ہو جا تا ہے ۔

متعلقہ خبریں