Daily Mashriq


زڑہ لوئے کے مڑہ

زڑہ لوئے کے مڑہ

صاحبو! آپ کو مردان یا پشاورکی کسی بڑی یا چھوٹی تکوں کی دکان پر کڑھائی کے تکے کے انتظار میں صبر آزما اور پر اذیت لمحوں سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہوگا۔ اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو اس کا تجربہ ضرور حاصل کیجئے۔ تزکیہ نفس کے لئے بہت ضروری ہے بلکہ ہم تو یہ مشورہ بھی دیں گے کہ اس تجربے کے لئے اگر آپ مردان کی ان دو ایک دکانوں میں بیٹھ جائیں جن کے نام ایک ایسی نشہ آور چیز پر رکھے گئے ہیں جن کا استعمال جرم سمجھا جاتا ہے اور اگر اس چیز کی ایک جو برابر مقدار بھی آپ کی جیب سے برآمد ہوگئی تو پھر آپ کو جیل کی ہوا کھانا پڑے گی۔ بہر حال یہ ایک دوسرا موضوع ہے جس پر کسی دوسرے موقع پر بات کریں گے۔ 

بتانا یہ مقصود تھا کہ آپ شوق تکہ خورنی میں کسی دکان پر جا کر بیٹھتے ہیں تو دوسرے ہی لمحے ایک تیز و طرار ملازم آپ کے قریب آتا ہے اور کاندھے پر پڑی ایک میلی سی جھاڑن سے میز صاف کرتے ہوئے آپ سے آرڈر لیتا ہے اور پلک جھپکنے میں چھلاوے کی طرح غائب ہوجاتا ہے۔ آپ کی دو تین انگڑائیوں' چار پانچ جمائیوں اور بھوکی ڈکاروںکے جواب میں آ پ کے سامنے کٹی ہوئی پیاز کی ایک پلیٹ رکھتے ہوئے مسکراتا ہے اور کہتا ہے صیب' دادے راغلے' ابھی لایا۔ اس پر ایک بار صدیاں گزر جانے کا احساس ہوتا ہے۔ بھوک سے نڈھال ہوتے ہوئے جب آپ کمزور اور منمناتیہوئی آواز میں یاد دہانی کراتے ہیں تو دور ہی سے جواب آتا ہے 'صیب تیاریگی' بس تیار ہو رہے ہیں۔ ایک آنچ کی کسر رہتی ہے البتہ آپ کی اس یاددہانی کے جواب میں تندوری روٹیوں کا ایک انبار ضرور آپ کے سامنے کھڑا کردیاجاتا ہے۔ روٹیوں سے اٹھتی ہوئی سوندھی خوشبو آپ کی بھوک کو مزید چمکاتی ہے۔ آپ مجبوراً روٹیوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیتے ہیں۔ نوالے پر نوالے توڑنے کے بعد دھواں اٹھتی کڑھائی بدست ملازم نمودار ہوتاہے اور آپ جب اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں تو آپ کے قریب سے گزرتے ہوئے تکوں کی یہ کڑھائی دوسرے گاہک کے سامنے رکھ دیتا ہے اور آپ کو تسلی آمیز نظروں سے گویا کہتا ہے بس لایا ہی لایا۔ آپ صبر کا گھونٹ پی کر ایک بار پھر پیاز کے ٹکڑوں اور روٹی سے شغل فرمانا شروع کردیتے ہیں۔ہر روز صبح سویرے اخبارات میں جب ہماری نظر اپنے حکمرانوں کے ان بیانات پر پڑتی ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ کے تمام مسائل بہت جلد حل ہو جائیں گے۔ غربت کا صفایا کردیا جائے گا' مہنگائی کا ذکر قصہ پارینہ بن جائے گا۔گھر گھر میں تیل کے کنویں کھودے جائیں گے۔ پٹرول ندی نالوں میں پانی کی طرح بہنے لگے گا' ڈیموں کی تعمیر سے ملک کو مفت بجلی کی سپلائی شروع ہو جائے گی۔امریکہ اور برطانیہ سے لوگ آپ کی جوتیاں سیدھی کرنے آئیںگے۔

یونیورسٹیا ں علم کے خزانے مفت میں تقسیم کرنے لگیں گی۔ بے روز گاری کچھ یوں غائب ہو جائے گی جیسے گدھے کے سرپر سینگ نہیں ملتے۔ تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی تکوں کی دکان پر بیٹھے ہیں فی الوقت تو ہمیں تکوں کی دکان کے چرب زبان اور تیز و طرار ملازم لڑکے کی دادے راغلے کے بہلاوے اور حکمرانوں کے تسلی آمیز بیانات میں مستقبل کی سہانی تصویروں پر مبنی اعلانات میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ تکے تو خیر جب آئیں تب آئیں گے اس وقت تو ہم ان کے انتظار میں سوکھی روٹیاں توڑ رہے ہیں۔ پیاز کی کترنوں پر گزر اوقات ہو رہا ہے۔ مہنگائی سے دوچار ہیں' بے روزگاری سے نپٹ رہے ہیں۔ بجلی کے نرخوں سے مشت و گریبان ہیں۔ تن ڈھانپنے کے لئے کپڑا کون خرید سکتا ہے۔ عام جوتے کی قیمت دو ہزار ہوتی ہے اس ہو شربا گرانی میں جبکہ زکام کے علاج پر بھی تین چار ہزار روپے خرچ ہو جاتے ہیں 500روپے دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدور کا جسم و جاں سے رشتہ قائم کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ تکوں کی دکان میں ملازم لڑکے کے جواب کی طرح دادے راغلم ابھی آیا حضور! کی طرح مقتدر حکمرانوں کے بیانات آتے ہیں کہ اس سال ٹیکسوں کی آمدن میںخاطر خواہ اضافہ ہوگا۔برآمدات بھی بڑھیںگی اوریہ سب ہماری معاشی خوشحالی کی دلیل ہے۔تکے بھی بہت جلد آپ کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے۔ ہر پندرہ روز بعد پٹرولیم کی قیمتوں میں رد و بدل ہماری مجبوری سمجھئے۔ قوم کو قربانی دینے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہئے۔ قوم کی قربانی کے بغیر ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کیسے کھڑا کیا جاسکتا ہے۔

جب ملک معاشی لحاظ سے ترقی کرے گا تو دیکھنا پٹرول کی قیمتیں خود بخود گر جائیں گی۔ تنخواہوں میں اضافہ قومی معیشت سے وابستہ ہے فی الوقت آپ تکوں کے انتظار میں سوکھی روٹیاں مروڑئیے' پیاز چبائیے' تکوں کے آنے کا انتظار کیجئے۔ قوم کو برداشت کا حوصلہ پیدا کرنا چاہئے۔ امن و امان کے تکوں کی پلیٹ خوشحالی کے لذیذ پکوان بہت جلد تمہاری میز پر ہوں گے۔ یہ چیزیں جب آئیں گی تب آئیں گی اس وقت بیانات کی سوکھی روٹیاں حاضر ہیں۔ پیاز ٹماٹر کا کچومر پیش خدمت ہے۔ قوم کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ مایوسی اچھی بات نہیں ہوتی۔ اپنا مورال بلند رکھئے۔ بیانات کا سلاد' اعلانات کی سوکھی روٹیاں اور پھر تکے۔ مڑہ زڑہ لوئے کے۔