مثالی استاد

مثالی استاد

کسی نے سچ کہا ہے کہ تاریخ کھوٹے کو توکبھی تسلیم نہیں کرتی اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کھرے کو کھرا تسلیم کرنے میں صدیاں بیت جاتی ہیں ۔ ہر انسان اس دنیا میں آتا ہے اور زندگی ، گزار کر ایک نہ ایک دن دار فانی سے دارالبقا ء کی طرف سفر اختیار کر لیتا ہے اورظاہراً وفات کے بعد بس دنیا سے اُس انسان کا رابطہ منقطع ہو جاتا ہے لیکن حدیث کے مفہوم کے مطابق تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی وفات کے بعد بھی سلسلہ اعمال میں خیر و بھلائی کا اندراج ہوتا رہتا ہے ۔ ان تین خوش قسمت افراد میں ایک وہ استاد بھی شامل ہے جس نے علم حاصل کر کے خو د بھی اُس پر عمل کیا ہو اور دوسروں کو بھی سکھا یا ہو ۔ یعنی اپنے پیچھے ایسے شاگرد چھوڑ ے ہوں جو اُن کی وفات کے بعد اپنے نیک و صالح اعمال کے ذریعے اپنے استاد کے لئے صدقہ جاریہ کا سبب بنتے ہوں ، تاریخ ایسے ہی لوگوں کویاد رکھتی ہے ۔ ہمارے ممدوح و موصوف استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر عبد المتین بھی انشاء اللہ اُنہیں اساتذہ کرام میں شمار ہونگے جن کا حدیث مبارک میں تذکر ہ آیا ہے ۔ اسلامیہ کالج پشاور جیسے تاریخی تعلیمی ادارے کے مایہ ناز پرنسپل کی حیثیت سے یقینا آپ کا کردار ناقابل فراموش ہے ۔ اور اس حیثیت میں بلا مبالغہ آپ ہزاروں طلبہ کے استاد گرامی ہیں اور طلبہ وطالبات اپنی نمازوں میں اپنے والدین کے لئے جو دعا مانگتے ہیں اُس میں اساتذہ کا نام بھی لیا جاتا ہے اور اگر شاگر د اساتذہ کانام نہ بھی لیں تو والدین کے لئے دعائوں میں اساتذہ خود بخود شامل ہوتے ہیںکیونکہ اساتذہ ، طلبہ و طالبات کے روحانی ماں باپ ہوتے ہیں ۔ اسلامیہ کالج میں آپ کے مثالی کردار ہی کے سبب حکومت وقت نے آپ کو پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے فرائض کی ادائیگی کے لئے چنا ۔ اُس وقت یونیورسٹی میں نقل کے رجحان نے مافیا کی صورت اختیار کی تھی جس نے صوبے کے اس تاریخی اور اکلوتی یونیورسٹی کے نام کو بٹہ سا لگا دیا تھا اور کئی ایک لوگوں کا خیال تھا کہ اب دوبارہ نقل کے اس جن کوبوتل میں بند کرنا کسی کے بس میں نہیںہے ۔ لیکن ڈاکٹر عبد المتین نے جس حکمت کے ساتھ یہ تاریخی کارنامہ سر انجام دیا وہ شاید اُس دور میں پشاوریونیورسٹی سے منسلک ہر فرد کے ذہن میں آپ کی اس دنیا سے رخصتی پر یاد آیا ہوگا ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار صلاحیتوں اور نعمتوں سے نوازا تھا ۔ آپ صحیح معنوں میں ایک بہترین ماہر تعلیم اور ماہر نفسیات تھے ۔ آپ نے ان دو بڑے تعلیمی اداروں کی سربراہی اور قیادت کے دوران ہر استاد ملازم اور طالب علم سے اُس کی صلاحیت اور عقل و فکر کے مطابق بات کی ۔ پروفیسر عبدالمتین صوبہ خیبر پختونخوا کے اُن گنے چنے افراد بلکہ شخصیات میں سے تھے جن کو صحیح معنوں میں پڑھا لکھا،(Educated Learend)کہا جاتا ہے ۔ آپ کی تحریر و تقریر بہت شاندار ہوتی تھی ۔ آپ لکھتے اور بولتے وقت ایک ایک لفظ چُن چُن کر استعمال کرتے تھے ۔ اُن کے ساتھ میرے ذاتی تعلق کے دو حصے ہیں ، ایک وہ حصہ جب طالب علم تھا اورایک وہ حصہ جب میں استاد (لیکچرار ) ہو چکا طالب علم کی حیثیت سے میں نے ایک امتحان میں جب صوبے میں پوزیشن حاصل کی تو وائس چانسلر اور ایک مثالی استاد کی حیثیت سے اُنہوں نے مجھے ایک تعریفی سند عطا کی ۔ جس کی ایک ایک سطر کے بارے میں میں نے کئی بار اپنے دوستوں اور شاگردوں سے کہا کہ اس سند کی ہر سطر میرے لئے ہزار روپے سے زیادہ قیمتی ہے ، یہ اس زمانے کی بات ہے جب لیکچر ر کی تنخوا ہ تین ہزار روپے تھی ۔ 

تعلق کے دوسرے حصے میں جب اُن کے ساتھ ملاقاتیں تسلسل کے ساتھ ہونے لگیں اور ایک طرح کی تھوڑی بے تکلفی اور دوستی کی صورت میں تبدیل ہوئیں تو میں نے اُن کو وہ سند دکھائی ۔ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا یہ آ پ کے لئے آگے نکلنے کے لئےstimuli (مہمیز ) دینے کے لئے لکھاتھا ۔ حکیم محمد سعید شہید پاکستان کی قائم کر دہ ہمدرد کی مجلس شوریٰ میں اُن کے ساتھ ہر ماہ کے دوسرے ہفتے میں ملاقات ہوتی تھی ۔ شوریٰ ہمدرد کے چیئر مین کی حیثیت سے اُنہوں نے مختلف موضو عات پر جس دانشورانہ اورعلمی و تحقیقی انداز میں حاضر ین شوریٰ ہمدرد کو اپنے نابغہ روز گار خیالات و افکار سے روشناس کر دیا ہے ، اُس سے میں نے بھی جی بھر کر لطف و استفادہ اُٹھا یا ہے ۔ عالمی سیاسیات پر ان کی گہر ی نظر تھی ۔ امریکہ اور مغرب کو وہ بہت گہرائی اور گیرائی سے جانتے تھے ، کہ آپ نے وہاں ایک عمر بتائی تھی ۔ مغرب پر گہری نظر کے ساتھ عمر کے آخری عشرے میں اسلام کا عمیق مطالعہ کر کے آپ کی تحریر و تقریر سہ آتشہ ہوگئی تھی ۔ آپ عمر مستعار میں حق و صدا قت کی راہ پر چلنے کے سبب اتنے مطمئن تھے کہ ایک بار مجھ سے کہا کہ جب میں رات کو سو نے لگتا ہوں تو مجھے جنت کے باغ باغیچے اور ہزار ہا رنگ خوبصورت پھول نظر آنے لگتے ہیں ۔ آئیں مل کر اُن کی مغفرت کے لئے ہاتھ اُٹھا ئیں ۔ حق مغفرت کرے عجیب آزاد مرد تھا ۔

اداریہ