Daily Mashriq


امریکی امداد کی معطلی‘خود انحصاری پر توجہ دی جائے

امریکی امداد کی معطلی‘خود انحصاری پر توجہ دی جائے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی آمیز ٹویٹ پر عملدرآمد کے اقدام کے طور پر سیکورٹی امداد روکنے کا اعلان کیاگیا ہے ۔ہمارے تئیں امریکی امداد کی معطلی پاکستان پر امریکی دبائو بڑھانے کے حربے کے سوا کچھ نہیں اس سے پاکستان پر اثرات سے انکار نہیں لیکن اس امریکی اقدام کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے پاکستان کو اپنی ترجیحات میں تبدیلی لانے اور خود انحصاری پر توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان مخالف اس متنازع ٹویٹ کے چند روز بعد سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی طرف سے امداد کی مد میں 33ارب ڈالر دینے کے باوجود پاکستان نے امریکا کو جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا۔اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نورت کے مطابق یہ اعلان ہمیشہ کے لیے نہیں اور اس سے صرف فوجی امداد پر اثر پڑے گا۔سرکاری ذرائع کے مطابق پیش کیے گئے منصوبے میں تمام امداد روکی نہیں گئی ہے بلکہ اس میں کچھ شرائط کے ساتھ فیصلے کا عندیہ دیاگیا ہے۔سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان کی وضاحت سے اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ امریکہ پاکستان کو صرف فوجی تعاون کی مد میں امداد منجمد کرنے پر اکتفا کرے گا۔ علاوہ ازیں پاکستان کو ملنے والی امداد جاری رہے گی۔ اسے فوجی امداد کی بندش سے تعبیر کرنا شاید درست نہ ہوگا کیونکہ امریکہ اب بھی شرائط پوری اور اطمینان کے حصول کے بعد اس منجمد امداد کو بھی جاری کرنے پر تیار ہے۔ اس ضمن میں مزید سنجیدگی کا عندیہ اس بات سے بھی ملتا ہے کہ امریکہ اس امداد کو کسی اور مد میں خرچ نہیں کرے گا۔اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ امریکہ اسلام آباد سے حقانی نیٹ ورک اور ا فغان طالبان کے ساتھ جماعت الدعوۃ اور دیگر تنظیموں کے خلاف اپنی تسلی کے مطابق کارروائی کا خواہاں ہے جبکہ پاکستان شواہد اور ٹھوس ثبوت پیش کرنے پر مزید کارروائی پر آمادگی کااظہار کرتا آیا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں اس عمل کے لئے ڈو مور کاجامع لفظ مستعمل ہے کچھ عرصے سے پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے واضح طور پر ’’نو مور‘‘ کا موقف سامنے آیا جس کے بعد امریکہ نے دبائو بڑھانے کے اقدامات میں تیزی لائی ہے۔جہاں تک حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی کا تعلق ہے حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے پاس افغانستان میں اتنی جگہ موجودہے کہ ان کو پاکستان میں کمین گاہوں کی ضرورت ہی نہیں علاوہ ازیں امریکہ خود اس امر کو تسلیم کرچکا ہے کہ تیرہ فیصد افغان علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے اور تیس فیصد پر کسی کا بھی اختیار نہیں۔ پاک امریکہ تعلقات میں اتار چڑھائو اور دفاعی امداد کی معطلی ‘ پریسلر ترمیم کے تحت شرائط عائد کرنے کے عمل سے ہم پہلے ہی گزر چکے ہیں۔ اب کے بار اس معاملے میں تھوڑی سی سنجیدگی اور سختی کے ساتھ کم و بیش صورتحال پہلے کی طرح ہی ہے البتہ اس مرتبہ کسی کارروائی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کی جن تیاریوں کا عندیہ دیاگیاہے اس سے عوام میں تشویش فطری امر ہے۔ قوم اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے بعد سے خاص طور پر خدشات کا شکار ہے۔ بہر حال امریکہ کی طرف سے کسی بھی قسم کی ممکنہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کے لئے پاک فضائیہ کو انتہائی چوکسی کی حالت میں رکھا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ممکنہ خطرات کا پیشگی ادراک اور پوری تیاری کی حالت میں رہنے کے باوجود اس طرح کی کسی صورتحال کے پیش آنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ جہاں تک اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لئے آپریشن کا سوال ہے اس میں انکار کے باوجود بھی مفاہمت کی موجودگی خارج از امکان نہ تھی اور نہ ہی ڈرون حملوں میں ظاہر کی گئی بے بسی حقیقی ہے۔ اس وقت بھی اگر پاکستان کی طرف سے تیاریوں کی حالت اور اعلان کا جائزہ لیاجائے تو اس میں محض اس امر کا عندیہ ہی ملتا ہے کہ بندوبستی علاقوں میں ڈرون حملے کی کسی ممکنہ کوشش پر ڈرون مار گرانے کا اعلان کیاگیا ہے۔ قبائلی علاقے میں ڈرون مار گرانے کی مثالیں تو موجود ہیں لیکن کسی خاموش مفاہمت کے تحت قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے ہوتے رہے ہیں اور اب بھی پاکستان کے بیانیہ میں سرحدی قبائلی علاقوں میں اس کی گنجائش کا عندیہ دکھائی دیتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں قوم کا جذباتی ہونا اپنی جگہ ہماری قیادت کو اس امر کا احساس ہے کہ معاملات کو خرابی کی بجائے کوئی نہ کوئی راہ نکالنے کی سعی کی طرف لے جایا جائے۔ مناسب حکمت عملی یہی نظر آتی ہے کہ جہاں جہاں تعاون کے امکانات ہوں اور معاملات کی درست نشاندہی سامنے آئے وہاں کسی دبائو میں آئے بغیر اصلاح کی سعی ہونی چاہئے اور جہاں خواہ مخواہ کا دبائو ڈالا جائے اس کو دلیل کے ساتھ رد کیا جائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اب امریکی امداد پر انحصار کم سے کم کرکے اپنے وسائل خود پیدا کرنے اور فوجی ساز و سامان کی خریداری کی ترجیحات میں تبدیلی لائی جائے۔اس صورتحال میں بہر حال ہمیں بھی مزید شفافیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے لئے انگشت نمائی کا موقع باقی نہ رہے۔

متعلقہ خبریں