Daily Mashriq


صوبے کی پن بجلی اور وفاق کا رویہ

صوبے کی پن بجلی اور وفاق کا رویہ

کونسل آف کامن انٹرسٹ یعنی مشترکہ مفادات کونسل کس مرض کی د وا ہے یہ بات آج تک ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ اب ایک بار پھر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پن بجلی نیشنل گرڈ میں نہ لے جانے کا معاملہ سی سی آئی میں اٹھائیں گے۔ وفاقی حکمران بجلی کی قلت کی گردان کرتے نظر آتے ہیں لیکن صوبہ میں تیار پن بجلی قومی گرڈ میں شامل نہیں کی جا رہی۔ ادھر گزشتہ روز وفاقی وزیر عابد شیر علی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ نیلم جہلم سے پیدا ہونے والی بجلی مارچ تک نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی جبکہ جون تک پیداوار 26ہزار میگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔ اس صورتحال پر یہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ 

کہاں تو ڈھونڈنے آیا گل اخلاص کی خوشبو

یہاں تو بغض اگتا ہے محبت کی زمینوں میں

پن بجلی کے معاملے میں خیبر پختونخوا کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں کا سا رویہ اختیار کیا جاتا ہے خواہ وہ صوبے کی بجلی پر اس کا حق ہو‘ بجلی کی قیمت کی ادائیگی کے حوالے سے اے جی این قاضی فارمولے پر عمل درآمد ہو‘ پن بجلی کے نئے منصوبے ہوں یا اب جبکہ بہ دقت تمام صوبے نے کئی نئے پراجیکٹس کو تکمیل تک پہنچا کر ان سے انتہائی سستی بجلی حاصل کرلی ہے اس بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کا معاملہ ہو‘ کہیں بھی اس صوبے کے ساتھ انصاف ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ پن بجلی منافع کے ضمن میں ایک طویل عرصے سے سالانہ رقم صرف 6ارب روپے پر منجمد کرکے اس صوبے کا نہ صرف حق غصب کیا جاتا رہا بلکہ اسی وجہ سے صوبہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ پن بجلی پیدا کرنے والے صوبے کے ساتھ بجلی کی تقسیم میں بھی ’’دشمنی‘‘ کی حد تک ناروا سلوک روا رکھا گیا اور طلب بڑھنے کی وجہ سے ہر صوبے کے لئے کوٹہ مقرر کرنے کے باوجود کبھی اس کوٹے پر بھی عمل درآمد کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی بلکہ اپنے مقررہ حصے سے بھی کہیں کم بجلی یہاں کے عوام کو مہیا کرکے بد ترین لوڈشیڈنگ مسلط کی گئی۔ جب مقامی تقسیم کار کمپنی کے خلاف عوام کبھی احتجاج پر اتر آتے ہیں تو متعلقہ حکام یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ قومی گرڈ سے کی جا رہی ہے۔ حالانکہ شیڈول کے مطابق مقامی طور پر لوڈشیڈنگ بھی باقاعدگی کے ساتھ الگ سے کی جاتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بجلی کے بلوں میں اضافی رقوم ڈالنے کی شکایات بھی عام ہیں۔ چلئے بجلی بلوں کو جانے دیجئے۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی شکایت پر بات کرلیتے ہیں۔ یعنی ایک جانب وفاق کی جانب سے بجلی کی کمی پر قابو پاکر ملک میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی جو باتیں کی جاتی ہیں تاکہ آنے والے انتخابات میں ایک بار پھر میدان مار کر اقتدار کے سنگھا سن پر براجمان ہوا جائے اور اس مقصد کے لئے بجلی کے سستے ترین ذریعہ یعنی پانی سے حاصل ہونے والی بجلی کے مقابلے میں ایل این جی‘ فرنس آئل‘ تھرکول وغیرہ سے استفادہ کو تیار ہے مگر خیبر پختونخوا میں موجود اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے پانی کے ذخائر سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے بلکہ صوبے نے اپنے وسائل سے جو چھوٹے چھوٹے منصوبے بروئے کار لا کر ان سے بجلی حاصل کرلی ہے نہ تو اس بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے پر تیار ہے جو نہ صرف سستی ترین بجلی ہے بلکہ صوبے کو مزید منصوبے شروع کرنے کی راہ میں بھی حتیٰ الامکان روڑے اٹکائے جانے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ اس کے بظاہر تو دو مقاصد دکھائی دیتے ہیں ایک تو یہ کہ جو منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں ان سے حاصل ہونے والی پن بجلی کو اگر قومی گرڈ میں شامل نہیں کیا جائے گا تو ظاہر ہے یہ منصوبے ناکام ہو کر رہ جائیں گے کیونکہ ان سے حاصل کی جانے والی بجلی سٹور تو کی نہیں جاسکتی اور بجلی پیدا ہونے میں تسلسل کے تقاضے پیدا ہونے والی بجلی کا مسلسل استعمال بھی ہے۔ اسی طرح جو بھاری مشینری کثیر رقوم (بلکہ زر مبادلہ بھی) خرچ کرکے نصب کی گئی ہے وہ بالآخر ناکارہ ہو کر زنگ آلود ہو جائے گی اور صوبے کو شدید نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا جو پہلے ہی اپنے وسائل میں کمی کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہے۔ د وسری بات یہ ہے کہ اگر بقول وزیر اعلیٰ صوبے کی حاصل شدہ تیار بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کے عوض وفاق صوبے کو اس پن بجلی کی مد میں فارمولے کے مطابق ادائیگی کرے گا جو لگتا ہے کہ اس مضبوط لابی کے طبع نازک پر گراں ہے جو پہلے ہی سے اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق صوبے کو اس کا حق دینے کے لئے تیار نہیں اور یہ جو رقم اب بڑھ کر اتنی ہوچکی ہے کہ اگر حقیقی منافع کی ادائیگی یقینی بنادی جائے تو صوبہ خود کفالت کی منزل پانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ مگر جو حکومت اور اس کا پروردہ ادارہ یعنی واپڈا صوبے کی پہلے ہی رقم پر سانپ بن کر بیٹھا ہوا ہو وہ صوبے سے مزید پن بجلی حاصل کرکے اس رقم میں کیوں اضافہ کرنے پر تیار ہوگا اور تیسری مگر اہم بات یہ ہے کہ پن بجلی کے مقابلے میں دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی مہنگی بجلی میں مستقل طور پر مبینہ کک بیکس اور کمیشنوں کا سلسلہ ہوتا ہے اس کے رکنے کے خدشات کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتاہے جبکہ یہاں تو پن بجلی کے منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ہی صرف دکاندار اور خریدار کے مابین شفاف طریقے سے لین دین ہی باقی رہ جاتی ہے۔ ان تمام حالات پر غور کیا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ ملکی اور قومی مفاد سے زیادہ ذاتی منفعت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کو ترقی کی راہ پر چلنے سے روکنے کی حکمت عملی کارفرما نظر آتی ہے۔ اس لئے اس مسئلے کو سی سی آئی یعنی کونسل آف کامن انٹرسٹ میں لے جانا ضروری ہے تاہم ماضی میں اس ادارے کے روئیے پر بھی اقوام متحدہ جیسے ادارے کا کردار واضح نظر آتا ہے جو صرف طاقتور ملکوں کے مفادات کے لئے تو فوری طور پر حرکت میں آجاتا ہے مگر پسماندہ اور کمزور ملکوں کے مسائل پر اپنے اجلاسوں میں نشستند و گفتند و برخواستند کا رویہ اختیار کرلیتا ہے۔

وہ کتنی دور سے پتھر اٹھاکے لایا تھا

میں سرکو پیش نہ کرتا تو اور کیا کرتا

متعلقہ خبریں