Daily Mashriq

طلبہ یونینز کی بحالی

طلبہ یونینز کی بحالی

گزشتہ کالم میں طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے سے اظہار خیال کیا تھا اس کالم میں بھی اسی موضوع پر بات کرتے ہیںطلبہ یونینز کو ضرور بحال کرنا چاہیئے کیونکہ یہ کسی بھی جمہوری نظام کے تحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ وہ حق خود ارادیت کا اظہار کرے اور اس کے ذریعے اپنے سیاسی موقف کو بیان کرکے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کرے اور یہ یقینا ایک حیران کن معاملہ ہے کہ کالجوں اور جامعات میں کلاس فورز‘ کلاس تھری اور اساتذہ تو اپنی انجمنوں کے ذریعے سیاست کرکے اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ہر وقت تیار رہیں لیکن ہزاروں طلبہ پر پابندی ہو۔ لیکن اس سلسلے میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کلاس فور و کلاس تھری اور اساتذہ اور طلبہ کے درمیان بہت فرق ہے۔ کلاس فور و تھری تو زیادہ سے زیادہ اپنے انکریمنٹس ‘ تنخواہوں ‘ اوقات کار‘ بچوں کے داخلے اور پنشن وغیرہ کے مسائل ہوں گے۔ اساتذہ کے بھی کم و بیش یہی مسائل ہوتے ہیں لیکن وہ ذرا آگے بڑھ کر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہوتے ہیں۔ اور ان کے بعض اہداف ذرا بڑھ کر ہوتے ہیں جس میں ذرا ہٹ کر ترقی وغیرہ پانا یا وی سی وغیرہ بننا ہی شامل ہوسکتا ہے۔ لیکن طلبہ کے حوالے سے میں اس بات پر آج بھی اصرار کروں گا کہ ان کو جامعات کے اندر اپنی یونینز کے انتخابات کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں میں بس اتنا ہی حصہ لینا چاہئے جتنی اس کی ضرورت ہے۔ یعنی انتخابات ہوجائیں تو منتخب طلبہ دیگر طلبہ کے جائز و ضروری مسائل مثلاً داخلہ سے لے کر ہاسٹلوں میں قیام و طعام تک حل کرانے کی تگ و دو کریں اور تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھیں۔ پورا سال یعنی دوبارہ انتخابات تک سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ میں طالب علمی کے دوران طلبہ یونینز کے ذریعے طلباء کے عملی سیاست میں سرگرم رہنے کے خلاف ہوں۔ اس سے طلبہ حصول علم سے محروم ہونے کے خدشات سے دو چار ہوتے ہیں۔ وہ نہ کلاسوں میں آتے ہیں اور نہ ہی امتحانات کی تیاری کے لئے وقت پاتے ہیں۔ عملی سیاست کے سبب ان کی سرگرمیاں دو چند ہوجاتی ہیں۔نتیجتاً امتحانی ہالوں کے اندر دھونس دبائو کا استعمال شروع ہوجاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں طلبہ یونینز کے طلبہ رہنمائوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں اور طلبہ جوانی اور سیاست کے نشے میں بعض معاملات صحیح طور پر سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور بعد میں ان پر واضح ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ جامعات میں طلبہ کی سیاست صرف طلبہ سیاست رہ نہیں سکتی۔ اس میں بہت سارے عامل شامل ہو کر بعض اوقات بیرونی مقاصد بھی حد درجہ فعال کردار کے حامل بن جاتے ہیں۔ پولینڈ میں طلبہ رہنما لیخ ولیسا کی آپ بیتی پڑھنے کے قابل ہے۔ حیات شیر پائو جیسے خوبصورت اور متحرک سیاستدان سے کیسے اور کیوں محروم ہوئے۔ جمعہ خان صوفی کی ’’فریب نا تمام‘‘ میں طلبہ کے لئے جو اسباق سامنے آئے ہیں وہ یہی ہیں کہ طلبہ سیاست ذہین اور نابغہ روز گار طلبہ کو اپنے اہداف سے ہٹا کر نا معلوم راستوں کا راہی بنا دیتی ہیں۔ میںنے تیس برس کی تعلیمی زندگی میں کسی سیاستدان طالب علم کو اپنے تعلیمی بل بوتے پر امتحان پاس کرتے بہت کم دیکھا ہے۔ الا ماشا ء اللہ۔ اور پھر یہ سیاستدان طلبہ یونیورسٹی چھوڑتے کہاں ہیں۔ کئی ایک مضامین میں ایم اے کے بعد ایم فل یا پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیتے ہیں اور عشروں تک یونیورسٹی میں سیاست کی کرسی پر براجمان رہ کر متوازی انتظامیہ بنوا کر جامعات کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں یونیوسٹی انتظامیہ اور اس متوازی انتظامیہ اور یونیورسٹی پولیس کے درمیان کشمکش دوڑ دھوپ اور چوہے بلی کا کھیل جاری رہتا ہے اور پڑھنے کے شوقین طلبہ درمیان میں پھنس کر سینڈوچ بنے ہوتے ہیں۔ ہڑتال ‘ جلوس اور دھرنا عام معمول ہوتے ہیں۔کسی زمانے میں طلبہ یونین کا صدر بربنائے عہدہ یونیورسٹی سینڈیکیٹ کا رکن ہوتا تھا۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں شاید اس کو گاڑی بمعہ قومی جھنڈا بھی فراہم ہوتی تھی ۔ اب ایسے صدر کے کلاس روم میں آنے اور استاد کے سامنے بیٹھ کر ’’یس سر‘ جی سر‘‘ کہنے کی کیا طبیعت ہوسکتی ہے اور استاد کے لیکچر کو سننے کے لئے اس کے پاس دل و دماغ اور وقت کیسے اور کہاں ہوسکتا ہے۔کہنا ہمیشہ سے آسان اور کرنا بہت مشکل کام ہے۔ کسی علمی مباحث میں بیٹھ کر بات کرنا کہ طلبہ یونینز کے ذریعے رواداری اور برداشت کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ انتخابات کے ذریعے سپورٹس مین سپرٹ پیدا ہوتی ہے۔ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ طلبہ یونین پر پابندی سے پہلے اور بعد میں طلبہ کے درمیان علاقائی‘ سیاسی اور دیگر اختلافات کے سبب خون ریز جھڑپیں ہوئی ہیں اور جامعات بند رہے ہیں۔ پشاور کی انجینئرنگ یونیورسٹی میں طالب علم کا قتل‘ پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت اور بلوچ و پختون طلبہ کے درمیان لڑائی و اختلافات‘ قائد اعظم یونیورسٹی کا ہفتوں بند رہنا‘ ابھی کل کی بات ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طلبہ یونینز ہوتے تو یہ نہ ہوتا ‘ ہوسکتا ہے لیکن طلبہ یونینز پر پابندی بھی تو ایک طالب علم کے قتل ہونے سے لگی تھی۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پارلیمنٹ ( ایوان بالا و زریں) کے ارکان پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے جو طلبہ یونینز کی بحالی سے ان کے لئے ایک جامع دستور و منشور اور قوانین و ضوابط طلبہ رہنمائوں کے مشورے کے ساتھ سامنے لائے اور پھر ان شرائط کی روشنی میں طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے۔

متعلقہ خبریں