Daily Mashriq


اور اب ایران

اور اب ایران

مسلمان ممالک کی زبوں حالی پر غور کریں تو یہ ممالک 70 فی صد وسائل ، 22 فی صد رقبے اور دنیا کی کل آبادی کا 23 فی صدہونے کے با وجود بھی امریکہ سے اقتصادیات میں پیچھے ہیں اور ان کے حکمران مسلمان ممالک کے عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہیں ۔ آج پوری دنیا کی اقتصادیات 75 ہزار ارب ڈالر ہے جبکہ امریکہ کی اقتصادیات 18000 ارب ڈالر ہے جو دنیا کا تقریباً24 فی صد ہے جبکہ57 اسلامی ممالک کی کل ملا کر اقتصادیات 24 فی صد ہے۔جاپان کا رقبہ3لاکھ 57ہزار مربع کلومیٹر ہے جو بلو چستان کے برابر ہے۔ پاکستان کی اقتصادیات 248 ارب ڈالر ہے جبکہ جاپان کی اقتصادیات 5 ہزار ارب ڈالرہے جو پاکستان کی اقتصادیات سے 20 گنا زیادہ ہے ۔رہنما اور حکمران اپنے ملکوں کی تقدیر بدل لیتے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے مسلمان ممالک کی نااہل قیادت اور ان کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اکثر اسلامی ممالک میںغُربت، افلاس، جہالت، بے رو ز گاری، مہنگائی ، لاقانونیت کا راج ہے۔ چند فی صد مسلم ممالک کی اشرافیہ نے حکمرانوں کی شکل میں 95 فی صد عوام کویر غمال بنایا ہوا ہے ۔اگر ہم مزید غور کریںتو مسلمان ممالک کے حکمران اس قابل ہی نہیں کہ وہ اپنے ملک اور عوام کے مسائل حل کرسکیں۔کیونکہ ان میں صلاحیت اوران کا تجربہ اتنا نہیں کہ اس کو بروئے کار لاکر مسلم اُمہ کے مسائل حل کئے جاسکیں۔ وہ قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر حکمران نہیں بنتے بلکہ یہ موروثی حکمران ہو تے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور دوسرے یو رپی ممالک، مسلمانوں کی ناگُفتہ بہ حالات اور مسائل سے فائدہ اُٹھاکر مسلم ممالک میں بغاوت جیسی صورت حال پیدا کرتے ہیں۔جسکی وجہ سے مسلم ریاستیں نہ صرف امریکہ کے زیر اثر ہوجاتی ہیں بلکہ امریکہ انکے وسائل کو بھی لوٹتاہے۔ اگر ہم ما ضی قریب میں دیکھیں تو شام، مصر، لیبیا، عراق کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اب جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی ان کو زیر کر چکے ہیں تو اب وہ ایران کے پیچھے لگ گئے ہیں ۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ٹرمپ کی کوشش ہے کہ پاکستان میں بھی حالات خراب کئے جائیں۔ امریکہ کی کو شش ہے کہ ایران میں موجودہ حکمرانوں کو تبدیل کرکے اپنی مر ضی کی حکومت قائم کی جائے۔ اگر ہم ایران کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو آج کل وہاں کے مسائل میں مہنگائی، لاقانونیت ، بے روز گاری، اشیائے خور د و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، امریکہ سے سال 2015 میں کئے گئے جوہری معاہدے ‘ ایران کے بینکوں میں رکھی گئی رقوم اور ان بینکوں کا دیوالیہ ہو جانا اور پھر عوام کاان دیوالیہ بینکوں میںڈوبی رقوم کی ناقابل واپسی اوراس کے خلاف احتجاج سر فہرست ہیں۔ اس وقت ایران میں بے روز گاری 13 فی صدہے جس میں گزشتہ سال کی نسبت 1.4 فی صد اضافہ ہوا۔ ایران کی 80 ملین آبادی میں 4 ملین افراد بے روز گار ہیں۔ بد قسمتی سے ایران میں 35 فی صد لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انڈے جو ایرانیوں کی مر غوب غذا ہے ۔اس کی قیمت میں 40 فی صد اضافہ ہوا۔ایران میں عوام کا پارہ اُس وقت مزید چڑھ گیا جب حسن روغانی نے ایران سے باہر سفر کرنے والوں پر مزید ٹیکس عائد کئے۔ انہی حالات میں گزشتہ چند دنوں میں ایران کے بڑے شہروں میں جن میں مشہد سر فہرست ہے ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج اور مظاہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا۔ایران کے قانون ساز وں نے ایرانی حا کموں اور لوگوں سے استدعا کی ہے کہ وہ اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کریں۔ایران کے قانون سازوں نے ایران کی حکومت سے یہ بھی استد عاکی ہے کہ وہ ایرانی عوام کے مسائل کو غور سے سُنیں اور ان کو حل کرنے کی کو شش کریں۔ایران کے اپوزیشن رہنمائوں نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جو ایٹمی معاہدہ طے پایا تھاوہ ناکام ہوا ہے اور اس سے ایرانی عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ادھر امریکہ ایران کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے فائدہ اُٹھاکر خفیہ طور پر ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کر رہا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ امریکہ کی خفیہ ایجنسیاں یہ کو شش کریں گی کہ وہ ایران کے عوام کے اقتصادی مسائل کو سیاسی مسائل میں تبدیل کر کے ایران میں حکومت کو تبدیل کر لیں۔وائٹ ہائوس اور ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کی گرفتاریوں کا بھی نو ٹس لیا ہے ۔ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی عوام کی مدد کریں اور اُنکے جو بنیادی حقوق ہیں اُنکے لئے کو ششیں کی جائیں۔ اگر ایران نے ایسا نہیں کیا تو ایران کی حکومت تبدیل کی جائے گی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ایرانی حکمرانوں اور مذہبی پیش وائوں کو ہوش کے نا خن لینے چاہئیں اور کو شش کرنی چاہئے کہ جتنا جلدی ہو ایران کے عوام کے مسائل حل کئے جائیں ۔ اتحاد اور اتفاق اُس صورت قائم ہوگا جب ایران کے عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ امریکہ کو بھی کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ کسی کو بھی اختیار حا صل نہیں ہو کہ وہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی مسائل سے فائدہ اُٹھاکر اس کو نقصان پہنچائے۔ امریکہ نے ابھی تک جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں ان میں ناکام رہا ہے۔ میں جمی کا رٹر کا وہ جملہ دہرائوں گا کہ طاقت اور قوت کے بل بوتے پر حکمرانی اور دلوں پر راج نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں