Daily Mashriq


ایک خوبصورت کردار

ایک خوبصورت کردار

ہمارا ایک دوست پیدائشی یا فطری کہانی کار ہے آپ اس کی بات سنتے سنتے ایک نئی کیفیت میں پوری طرح ٹرانسپورٹ ہوجاتے ہیںوہ کمبخت ایسی منظر کشی کرتا ہے کہ آپ تھوڑی دیر کے لیے اپنے آس پاس موجود ہر چیز کو مکمل طور پر بھلا بیٹھتے ہیں وہ مزے لے لے کر اپنے رشتہ داروں، دوستوں، پڑوسیوں کے قصے سناتا ہے ہر دو چار جملوں کے بعد ایک فلک شگاف قہقہہ لگاتا ہے آپ صاف طور پر محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنی باتوں سے خوب لطف اندوز ہورہا ہے۔ ہم اسے حیران ہو کر کہتے ہیں کہ یار تو لکھتا کیوں نہیں ہے تیرے اندر تو بلا کا کہانی کار چھپا ہوا ہے ہماری اس تجویز کو وہ دوچار قہقہوں میں اڑا دیتا ہے اور ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہوکر کہتا ہے سر جی! آپ فارغ ہیں میرا دماغ خراب ہے جو میں ناول لکھ کر لوگوں کا وقت ضائع کروں میں تو کوئی سنجیدہ کتاب بھی نہیں پڑھتا بس پاپولر ادب کا رسیا ہوں، ڈائجسٹ پڑھتا ہوں، جاسوسی کہانیاں اچھی لگتی ہیں ان کہانیوں میں حیران کن سیچوئیشنز ہوتی ہیں جتنی دیر تک آپ کہانی پڑھتے رہتے ہیں آپ سے نواز شریف اور عمران خان بھولے رہتے ہیں آپ ٹرمپ کی دھمکیوں سے بہت دور خوبصورت وادیوں میں کہانی کے کرداروں کے ساتھ گھوم پھر رہے ہوتے ہیں آپ کو طاہر القادری کے منصوبوں کی بھی کوئی خبر نہیں ہوتی کہ اس مرتبہ وہ دھرنا دے کر شریف برادران پر کس قسم کی مصیبتوں کا دروازہ کھولنے والے ہیں ! وہ قہقہہ لگاتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں کہتا ہے کہ سرجی ! جب سے یہ دنیا بنی ہے یہی قصے چل رہے ہیں قیامت تک یہ کھیل جاری رہیں گے آپ ہم ٹینشن لے کر کیا کریں اور پھر ذرا سوچیے ہم کر بھی کیا سکتے ہیں؟جس نے قوم کا سرمایہ لوٹا ہے اسے پریشان تو ہونا ہی ہے بڑی بڑی خواہشات بندے کو مار دیتی ہیں یہ تو مقابلے کی دنیا ہے سب خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہیں اور آپ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کوئلوں کی سوداگری ہے اس میں ہاتھ اور منہ دونوں کالے ہوجاتے ہیں اور پھر انجام کا بھی سب کو پتہ ہے آخر ایک دن زندگی کی پتنگ کٹ جاتی ہے بس دنیا کی دلچسپیاں ، اس کی دولت، اس کے عہدے ، جھوٹ موٹ کی شہرت، جھوٹی عزت آدمی کو سبز باغ دکھاتی رہتی ہے اور بندہ دنیا کی مکاریوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے !ہم حیران ہو کر اس کی طرف دیکھتے ہیں وہ ہمیں بڑا بے حس لگتا ہے جسے وطن عزیز کی نازک اور پیچیدہ صورتحال بالکل دکھی نہیں کرتی وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے کہ میں نے عرصہ ہوا سنجیدہ مطالعہ چھوڑ رکھا ہے بس کہانیاں پڑھتا ہوں !شاید یہی وجہ ہے کہ وہ آپ کو جو سچے واقعات سناتا ہے ان میں زبردست قسم کا تجسس اور حیرانی موجود ہوتی ہے، اس کی باتیں آپ کو قدم قدم پر حیران کرتی رہتی ہیں ۔ کل وہ ہمیں ایک جیتے جاگتے کردار کے بارے میں حیران کن انکشافات کر رہا تھا ہم بھی اس مہربان کو پچھلے کئی برسوں سے جانتے ہیں لیکن اس بندہ خدا نے اس کے بارے میں ایسی ایسی باتیں بتائیں کہ ہمارے چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ واہ جی واہ! وہ یقینا سچ کہتا ہے کہ ہر آدمی ایک داستان ہے۔ روپ بہروپ کی اس دنیا میں کبھی کبھی موٹی موٹی کتابوں کو چھوڑ کر انسانوں کو بھی پڑھتے رہا کریں !اس نے ہمارے سامنے ایک کلاس فور(نائب قاصد) کی زندگی کی کتاب کا ایک ورق کھول دیا۔ سرجی! پچھلے دنوں اس کی بیٹی کی شادی ہوئی جس پر اس نے چالیس لاکھ روپے لگا دیئے ! بھاری بھرکم جہیز بہترین شادی ہال میں نوابی کھانا! یار یہ کیا کہہ رہے ہو یہ کیسے ممکن ہے ؟کلاس فور کی ساری تنخواہ پندرہ بیس ہزار روپے بنتی ہے۔ یہ ممکن ہے جناب ! وہ بڑا وکھری ٹائپ کا کلاس فور ہے وہ بہترین الیکٹریشن ہے، بڑے بڑے بنگلوں کے ٹھیکے لیتا ہے اس جیسا دیانت دار بندہ پوری دنیا گھوم جائیں آپ کو نہیں ملے گا۔ صبح جاب کرتا ہے رات کو کام کرتا ہے اسے نہیں معلوم کہ تھکاوٹ کس چڑیا کا نام ہے !لاکھوں روپے اپنے ٹھیکوں میں کماتا ہے کام ایسا کرتا ہے کہ لوگ مہینوں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں،بہترین میٹریل شاندار کاریگر!خالی گھر میں کاریگروں کو بھجواتا ہے گھر میں فیملی موجود ہو تو وہاں جا کر خود کام کرتا ہے اس کے سامنے ہیروں کا ہار بھی پڑا ہو تو اس کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔

اپنے ایک پڑوسی کا قصہ سناتے ہوئے کہا کہ بیچارے کو اچانک ہارٹ اٹیک ہوگیا تھا ایک بیوہ اور چار جوان بیٹیاں چھوڑ گیا تھا میرے والد صاحب نے والدہ کو کہہ دیا تھا کہ گھر میں جو کچھ پکے ان کے گھرروزانہ بھجوانا ہے اور بیوہ کی دلجوئی کے لیے ان کے گھر بھی جاتی رہا کرو! صاحب میرے والد نے ان چاروں بیٹیوں کی شادیاں دھوم دھام سے کروائیں میرا والد کوئی بہت امیر آدمی نہیں تھا بس ان کی زندگی میں بڑی برکت تھی جو کچھ کماتے وہ بڑھتا چلا جاتا ! یہی کچھ میں نے اپنے والد سے سیکھا ہے ۔میرے پڑوس میں کچھ غریب لوگ رہتے تھے اس وقت میرے بچے بھی چھوٹے تھے میں ہر عید پر جو کپڑے اپنے بچوں کے لیے خریدتا وہی ان کے بچوں کے لیے بھی خریدتا ان کے لیے جوتے بھی خریدتا اور یہ سب کچھ اس لیے کرتاتھا کہ پڑوس میں رہنے والے بچے میرے بچوں کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار نہ ہوں!۔

متعلقہ خبریں