Daily Mashriq


جنگل میں جن ناچا

جنگل میں جن ناچا

آج میں ایک دلچسپ کہانی سنانے کے موڈ میں ہوں۔ کہتے ہیں کہ سر راہ چلتے چلتے ایک بھلے مانس کے ہاتھ ایک بوتل آگئی۔ اس نے وہ بوتل اٹھائی اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ اس بوتل کے اندر سے دبی دبی چیخوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ اس نے جب بوتل کے شیشے سے جھانک کر اندر دیکھا تو اسے ایک بھیانک شکل و صورت اور قد بت والا دیو نظر آیا جو بوتل کا شیشہ کھٹکھٹا کھٹکھٹا کر اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا رہا تھا۔ کون ہے بے! اس نے بوتل کے اندر بھیانک شکل و صورت والے کو مخاطب کرکے پوچھا۔ مم میں جن ہوں اور مجھے حرص و لالچ، زعم وعدہ شکنی ، دھوکہ دہی ،مکاری اور چال بازی، جیسی بہت سی بلاؤں نے مل کر اس بوتل کے اندر قید کردیا ہے۔ کیوں اور کس طرح قید کیا ہے ان سب نے مل کر تجھے؟۔ بھلے مانس نے بوتل کے اندر قید جن سے پوچھا۔ جی وہ مجھے بے وقوف بنا گئے۔ جن نے جواب دیا۔ ارے تو تم بے وقوف بنے کیوں؟۔ بھلے مانس نے سوال کیا۔ سب بتا دوں گا پہلے تم اس بوتل کا ڈھکنا کھول کر مجھے اس سے باہر نکالو۔ بوتل کے جن نے بھلے مانس کی منت سماجت کرتے ہوئے کہا۔ میں بے وقوف تھوڑا ہوں جو تجھے اس بوتل سے نکال باہر کروںگا۔ بھلے مانس نے بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا۔ جب بوتل کے جن نے دال گلتی نہ دیکھی ، تو وہ بھلے مانس کو کہنے لگا کہ اگر تم نے مجھے اس بوتل کی قید سے آزاد کردیا تو میں تجھے مالا مال کردوں گا۔ میں نہیں مانتا کہ تم ایسا کرو گے تم ایک جن ہو اور جن شیطان ابن شیطان ہوتے ہیں۔ وہ انسان کو تکلیف دیتے ہیں، ان سے گناہوں کا ارتکاب کرواتے ہیں انہیں بیمار کرتے ہیں اور کبھی کبھی مار بھی دیتے ہیں ۔ بھلے مانس نے بوتل میں بند جن کو جواب دیا جسے سن کر وہ زارو نزار رونے لگا اور حضرت سلیمانؑ کی قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔ عمر بھر کے لئے تمہارا ہو جاؤں گا ،تمہاری خدمت کروں گا اور جو تم کہو گے اسے حکم سمجھ کر پورا کروں گا۔ سچ کہتے ہو؟۔ بھلے مانس نے پوچھا۔ قسم لے لو۔ میں کوئی انسان ہوں جو جھوٹ بولوں گا۔ جن نے کہا ،اور بھلے مانس نے جن کی بات کا اعتبار کرتے ہوئے بوتل کا ڈھکنا کھولا اور وہ ’’ہو ہا ہا ہا‘‘ کرتا بوتل سے باہر آگیا۔ جن کا گرجدار قہقہہ سن کر بھلے مانس گھبرا سا گیا ، لیکن جیسے ہی جن نے اسے’ سرکار ‘کہہ کر پکارا تو اس کی جان میں جان آگئی۔ ’’کیا حکم ہے میری سرکار‘‘۔ جن نے کہا اور بھلے مانس نے تھرتھراتی آواز میں اسے کہیں سے’ حوصلہ ‘لانے کا آرڈر دے دیا۔ شوں شڑپ شاں شاں۔ جن بابے نے ایسا منتر پڑھا کہ بھلے مانس جن بابے سے حکمیہ لہجے میں بات کرتے ہوئے جو دل میں آتا مانگنے لگا اور جن بابا حیل کرتا اور نہ حجت اور آن واحد میں اس کی فرمائش پوری کردیتا۔ بھلا مانس جن بابا سے اوپر تلے فرمائشیں پوری کروارہا تھا اور جن بابا تھا کہ آن واحد میں پورا کر دکھاتا اس کا ہرکہا۔تھکن نام کی کوئی چیز بھی اس کے قریب نہیں آرہی تھی۔ اس نے جب آخری بار بھلے مانس کو’’ کیا حکم ہے میری سرکار‘‘ کہہ کر پکارا تو بھلے مانس تھکن کے مارے اونگھنے لگا۔ کیا حکم ہے میری سرکار۔ جن بابے نے قدرے زور دار آواز میں کہا۔ دفع ہوجاؤ۔ بھلے مانس نے اسے تلخ لہجے میں جواب دیا۔ کیوں ؟؟؟جن بابا بولا۔’ کیوں‘ تو لڑائی ہے، بھلا مانس بولا۔ پھر تیار ہوجاؤلڑنے کے لئے جن نے کہا۔ تیار ہوں ۔ بھلے مانس بولا، مگر یہ کیا بھلے مانس نے اتنا کہنا تھا کہ جن بابا خوفناک آواز میں ’’ہو ہاہا‘‘ کہہ کر لڑنے مرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ ارے ارے جن چاچے یہ تم کیا کررہے ہو، تم تو میرے غلام ہو اور مجھ ہی سے لڑنے لگے ہو‘‘۔ میں تمہارا غلام نہیں۔ تمہارے حکم کا غلام ہوں، تم نے مجھے لڑنے کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا سو میں تیار ہوگیا ہو ہاہاہا۔ ارے میں نے یہ کیا کہہ دیا جن بابا کو، بھلے مانس نے دل ہی دل میں سوچا۔ اس نے جن بابا کو کہا کہ میں اور کوئی حکم نہیں کرسکتا۔ میں تھک گیا ہوں۔ مجھے نیند آرہی ہے۔ ڈو مورDo More۔ جن بابا نے خالص امریکی لہجے میں کہا۔ ’نو مور ‘ بھلے مانس نے جواب دیا۔ ڈو مور۔ جن کہتا رہا لیکن تھکا ہارا بھلے مانس نیند کی آغوش میں جاکر خراٹے بھرنے لگا۔ جن کو بھلے مانس کا سوجانا اچھا نہ لگا ، تو وہ ’ڈو مور ‘کی بجائے’ نو مور نو مور‘ کی رٹ لگانے لگا۔ جب میں کہتا تھا ’نو مور‘ اس وقت تو ’ڈو مور ڈو مور‘ کہتا تھا۔ اور اب تو کہہ رہا ہے نو مور اور میں نہ ڈو کہہ سکتا ہوں نہ نو کیونکہ میں عاجز آگیا ہوں تجھے حکم دے دے کر۔ اب میرا حکم ہے جاؤ اور آرام سے سوجاؤ تاکہ میں بھی سکھ کا سانس لے سکوں۔ تم مجھے بیوقوف سمجھتے ہو کیا ۔اگر بے وقوف نہیں تو بوتل کے اندر گھس جاؤ۔ یہ بات سن کر جن بوتل کے اندر گھس گیا۔ کمٹمنٹ جو کی تھی اس نے حکم ماننے کی۔ بھلے مانس نے جن کو بوتل کے اندر پاکر فوراً بوتل کا ڈھکن بند کردیا۔ ارے ارے یہ تم کیا کر رہے ہو جن بابا بولا۔ خاموش رہو، بہت ناچ چکے، جنگل میں مور ناچا کرتے ہیں لیکن تونے ’مور مور ‘کا شور مچا کر ناچنا شروع کردیا بھلے مانس نے تحکمانہ لہجے میں جواب دیا۔ اور جن بابا خاموش ہونے سے پہلے صرف اتنا کہہ سکا کہ تونے مجھے بے وقوف بنایا ہے۔ بے وقوف کو کوئی کیا بے وقوف بنائے گا انکل سام ۔ بھلے مانس نے اتنا کہا اور بوتل دور پھینک دی وقت کے بہتے دھاروں میںاور ایسے میں مجھے اسداللہ غالب علیٰ کل غالب کی آواز آئی ۔

کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہاں ہے

جس میں کہ ایک بیضہ’ مور‘ آسمان ہے

متعلقہ خبریں