Daily Mashriq

خاموش خاموش

خاموش خاموش

یہ وہ کالم ہے جس کا وعدہ راحیل قاضی سے تھا۔ یہ وہ کالم ہے جس کا وعدہ بیگم اسد گیلانی سے تھا۔ یہ وہ کالم ہے جس کا وعدہ منصورہ سے تھاجس میں میرا بچپن گزرا ہے ۔ یہ وہ کالم ہے جس کا وعدہ ان مسکراتے چہروں سے تھا جنکی شفقت کی دھوپ میںمیرے جیسے بچے پروان چڑھے تھے ۔ یہ وہ کالم ہے جو ان لوگوں کو مخاطب کر کے لکھا جانا تھا جنہوں نے اسے کبھیپڑھنا نہیں تھا۔ یہ وہ محبت نامہ ہے جو ان لوگوں کے نام ہے جنہیں معلوم تو تھا کہ ان سے بہت محبت کی جاتی ہے لیکن شاید انہیں کبھی اس طرح بتایا نہیں گیا کہ وہ کتنے اہم تھے۔

مجھے یاد ہے وہ شام جب میری دادی نے مجھے فون کر کے بتایا تھا کہ میں قاضی حسین احمد کے گھر گئی تھی۔ تمہاری محبت میںوہ اٹھ کر اندر اس کمرے کی طرف چلے آئے جہاں میں بیگم قاضی کے پاس بیٹھی تھی اور اخبارات لے کر مجھ سے تمہاری باتیں کرتے رہے ۔وہ بہت خوش تھے کہ تم نے بہت اچھا کالم لکھا ہے ۔ میں اپنی دادی کی آواز کی خوشی میں آج بھی گم ہوں ۔اب نہ قاضی صاحب ہیں اور میری دادی بھی اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچ چکی ہیں۔ وہ محبتیں جوان سے کھو گئی تھیں ،وہ سب انہیںدوبارہ مل چکی ہیں۔ لیکن یہاں میرا دل خالی اور اندھیرا ہوتا جارہا ہے ۔ قاضی حسین احمد سے محبت ہمیں ورثے میں ملی تھی ۔ میرے دادا، میرے پاپا انکے بارے میں جس طرح بات کرتے ، مجھے معلوم تھا کہ قاضی صاحب کے لہجے کی شفقت میں ہمارا حصہ تھا۔ یہ محبت بھی بہت عجیب تھی۔ راحیل باجی کے چہرے میں مجھے آج بھی وہ محبت اور شفقت دکھائی دیتی ہے اسی لئے شاید ان سے میرا دل کا تعلق ہے ۔کیونکہ ان میں میری کتنی ہی محبتوں کی مجسم صورت ہے ۔ میرے دادا کی قاضی صاحب سے محبت ، میرے پاپا کی جانب قاضی صاحب کی شفقت اور محبت اور میرے پاپا کا ان سے رابطہ اور احترام ۔ جانے کتنے جذبے ہیں جو شاید لفظوں میں ڈھالے بھی نہیں جاسکتے ۔ قاضی صاحب دنیا سے رخصت ہوئے تو مجھے لگا شاید میرے ددھیال کا ایک حصہ مٹی تلے جا سویا اور میںپشاور سے واپسی کے راستے میں تھی تو مجھے میری دادی کا فون آیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں راحیل باجی سے مل آئی ہوں۔ آج وہ بھی میری طرح خالی ہوگئیں ، ان کا دل بھی میری طرح بجھ گیا تو وہ بہت روئی تھیں۔ جماعت اسلامی سے میں نے شاید کبھی اپنی وابستگی کو صحیح طور پر ناپا ہی نہیں۔ میں نے ہمیشہ لوگوں سے محبت کی۔ میرے دادا کو قاضی حسین احمد سے محبت تھی ۔ میرے پاپا نے اس محبت کو نبھایا اور مجھے سونپا۔ میری دادی نے ہمیشہ اس محبت کو میرے ہاتھ میں تھمایا اور قاضی صاحب نے کبھی اس میں کوئی دراڑ نہ آنے دی سو میں نے ان سے ہمیشہ بے حساب محبت کی' اتنی کہ آج بھی وہ میری دعائوں میں شامل ہیں۔ کیونکہ وہ میرے لئے میرے وجود کا' میرے ماضی کا حصہ تھے۔ وہی محبت آج مجھے راحیل باجی سے محسوس ہوتی ہے اور اب شاید اس میں میری غرض بھی شامل ہے کیونکہ میں ڈرتی ہوں میری دادی کے چلے جانے کے بعد کہیں منصورہ میرے لئے تاریک نہ ہوجائے۔ وہ گھر جس میں میرا بچپن زندہ تھا' جس کے صحن میں اپنی دادی کے جنازے کے آس پاس میں اپنی دادی کو اپنے ساتھ کھیلتے دیکھ رہی تھی۔ چڑیوں کے لئے بچی ہوئی روٹی کے ٹکڑے کرکے ڈالتے دیکھ رہی تھی۔ اس صحن کی منڈیر سے چڑھ کر میں مسجد جاتے اپنے دادا کو آوازیں دیا کرتی تھی۔ میں دیکھ سکتی تھی اس صحن میں' میں نے اپنی دادی کو یوں آرام سے لیٹے دیکھا جیسے ابھی اٹھ بیٹھیں گی۔ ان کے چہرے کی چمک حیران کن تھی۔ اس برآمدے کے ایک کونے میں' میں نے انہیں نہلایا' جہاں وہ کبھی اپنے بچپن میں ہمیں نہلایا کرتی تھیں۔ میری دادی نے مجھے محبت کرنا سکھایا تھا۔ اس محبت نے مجھے ہر بار راستہ دکھایا ہے۔ ہر بار مجھے بتایا کہ جو لوگ پردہ اٹھا کر دوسری جانب بھی چلے جائیں ان سے بھی رابطے ٹوٹا نہیں کرتے۔ محبت زندہ رہتی ہے بس صورت بدل جاتی ہے۔ میں نے راحیل باجی سے وعدہ کیا تھا کہ میں قاضی صاحب کے بارے میں ضرور لکھوں گی۔ ان کی برسی ہے اور مجھے یہ عہد ضرور دہرانا ہے۔ لیکن میری دادی نے میری آنکھوں کو دھندلا دیا ہے۔ میرے قلم کو بوجھل کردیا ہے۔ میرے لفظوں میں آنسو بھر دئیے ہیں۔ میرا بچپن اب مجھ سے مکمل کھو گیا ہے۔ کیونکہ میں کل اس گھر کو بند کر آئی ہوں جہاں وہ سب زندہ تھا۔ وہ صحن خاموش ہوگیا جس کی دیوار پھلانگ کر کئی بار میں اور عائشہ منصورہ میں موجود دفاتر کی جانب بھاگا کرتے تھے جہاں سے ہمارے دادا اور قاضی صاحب کئی بار اکٹھے نکلے اور ہمارے سروں پر پیار کرکے مسجد کی طرف بڑھ گئے۔ وہ کتنے خوبصورت لوگ تھے' کیسے شفیق' کیسے محبتوں سے بھرپور' ہنستے مسکراتے مگر اصول پسند' اللہ کی راہ میں کام کرنے والے' کیسے قد آور اور کیسے عاجز۔ آج وہ نہیں ہیں اور ہم باوجود کوشش کے ان جیسے نہیں ہوسکتے۔ میں خاموش ہوں' میرے دل کے اندھیرے کونے بڑھ رہے ہیں' خاموشی میں اضافہ ہو رہا ہے' میرے بڑے خاموش ہو رہے ہیں' میرا بچپن بھی خاموش ہوتا جا رہا ہے۔ زندگی کی دھوپ کی تمازت بڑھتی جاتی ہے اور سایہ گھٹتا جا رہا ہے۔ میں خاموش ہوں' بس خاموش کیونکہ اجل آکے کہتی ہے خاموش خاموش۔

متعلقہ خبریں