Daily Mashriq

تحریک آزادی کا ایک درخشندہ ستارہ

تحریک آزادی کا ایک درخشندہ ستارہ

جنوری 1897 ء کو پشاورسے چند کلو میٹردورکگہ ولہ میں پیداہونے والے عظیم مجاہداورتحریک آزادی کے ہیرو کا نام آج بھی زندہ ہے۔ صنوبرحسین جنہیںکاکاجی کے نام سے پہچانا جاتا ہے وہ شخصیت تھے جنہوں نے ایسے حالات میں جنگ آزادی کی تحریک میں حصہ لیکر انگریز سامراج کے خلاف آوازِ بغاوت بلندکی جب لوگ بغاوت توکیا انگریزوں کے خلاف بات کرنے سے بھی ڈرتے تھے۔اس دورمیں ایسے لوگ بھی تھے جو انگریزوں کی مخالفت تودرکنار بڑی بڑی جاگیروں اورخطابات کے حصول کیلئے شب وروز ان کی چاپلوسی اورخوشامدتھے۔ایسے حالات میں کاکاجی صنوبرحسین نے اپنی سرزمین سے انگریزوں کو نکالنے کا ارادہ کیاتھا۔ صنوبرحسین کاکاجی کو تعلیم کے حصول کا شوق تھا اور اسلامیہ ہائی سکول پشاورسے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اس زمانے میں تحریک آزادی کی جدوجہدشروع ہوچکی تھی ۔انگریزسامراج کے خلاف علمِ بغاوت بلندہوچکاتھا ۔ایسے میں کاکاجی صنوبرحسین نے ان تحریکوں میں حصہ لینا شروع کیا۔صنوبرحسین کاکاجی بنیادی طورپرسیاسی ذہن رکھنے والے نوجوان تھے اوراسی نے انکے اندرایک جوش اور ولولہ پیداکیا۔ 1920 میں انہوں نے ایک استادکی حیثیت سے سرکاری ملازمت سے مستعفی ہوکر باقاعدہ سیاست کا آغازکرکے جدوجہدکاراستہ اختیارکیا۔ صحافت در حقیقت انکی سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھا ۔انہوں نے اپنے ذہن و علم اورکاغذوقلم کے رشتے کو مضبوط کیا جس نے انگریزسامراج کی نیندیں حرام کردی تھیں۔ انہوں نے روزنامہ شعلہ ،سرفروش،سیلاب اور ہفت روزہ اسلم کا اجراء کرکے صحافت کے ذریعے انگریزوں کے ظلم و جبر کے خلاف اپنی آواز بلند رکھی ۔ سرفروش،شعلہ اورسیلاب قیام پاکستان سے پہلے کے اخبارات تھے اور سیاسی مقاصد کی غرض سے شائع ہوتے تھے جن پر پابندیاں لگائی گئیں جبکہ ہفت روزہ اسلم جو ادب کی ترویج کے لئے تھا قیام پاکستان کے بعدبھی شائع ہوتا رہا۔صبر و استقلال سے لبریز انکی شخصیت کے متعلق احمد ندیم قاسمی لاہور جیل میں ایک ساتھ گزارے گئے دنوں کی ایک بات کرتے ہیں کہ دوران اسیری انکی شخصیت میں صبر اور مضبوطی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔انہوں نے جھکنا نہیں سیکھا تھا وہ سخت بیمار ہونے کے باوجود بھی بیماری کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر تیار نہیں تھے۔وہ ترقی پسند سوچ رکھنے والے ایک انسان دوست شخصیت کے مالک تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہر وہ انسان ترقی پسند ہے جو پسے ہوئے طبقے کو انسانیت کے اعلیٰ مقام تک لانا چاہتا ہے۔ اللہ رب العزت کی ذات پر ایمان کی پختگی کا یہ عالم تھا کہ نماز کے بارے میں ہمیشہ تلقین کرتے تھے کہ ایک نماز ہی تو ہے جو انسان کو دنیاوی خدائوں کے آگے سجدے کرنے سے با ز رکھتی ہے۔اُنہوں نے انگریزوں کے خلاف عملی جدوجہد ایک اصلاحی اورسماجی تنظیم انجمنِ زمینداران سے شروع کی۔ظاہراً تو اس انجمن کاکام اصلاحی تھا لیکن اسکے ذریعے لوگوں میں اجتماعی سوچ کو اُجاگر کرکے انہیں ایک منظم تحریک بنانا مقصودتھا۔اسی انجمن کے ذریعے انہوں نے کسانوں کے مسائل حل کرنے کیلئے آوازاُٹھائی اپنے علاقے میں بچوں کیلئے سکول کھولنے کی کوششیں کی۔رفتہ رفتہ اُنکی سماجی خدمات اور سیاسی بصیرت نے انہیں ایک اورسیاسی تنظیم جمعیتِ نوجوانان بنانے پرمجبورکیا جوبعدمیں ہندوستان کا بڑا اورایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم بھارت سبھاکے نام سے پہچاناجانے لگا۔1930 میں قصہ خوانی بازارمیں جب انگریزوں کے ہاتھوں نہتے شہریوں کو بیدردی سے قتل کیاگیا تب جنگ آزادی کی تحریک نے مزید تیزی پکڑی اور کاکاجی صنوبرحسین بھارت سبھاکے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے گرفتار ہوئے۔انہوں نے حاجی صاحب ترنگرئی کے ساتھ تقریباً20سال جلاوطنی گزاری اورحاجی صاحب ترنگزئی کے قابل اعتماد ساتھیوں میں شمارہوتے تھے۔سبھاش چندربوس نے جب ہندوستان سے روس کی طرف براستہ پشاور اپنا سفرجاری رکھا تب پشاورسے کابل تک بحفاظت پہنچانے کا بندوبست بھی صنوبر حسین کاکاجی کے ذمہ تھاجو انہوں نے نبھایا۔ انہیں بین الاقوامی طور پر بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ماسکو میں عالمی کمیونسٹ پارٹی کی میٹنگ میںمدعو ہونے کے باوجود بھی جو وہ اس میں شرکت نہ کرسکے تو کرسی پر انکی تصویر لگاکرانکی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔وہ کمیونسٹ پارٹی، کرتی پارٹی، نوجوان بھارت سبھا کے بھی رکن رہے تاہم وہ مزدور کسان پارٹی کے دیرینہ رہنما بھی رہے۔قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ادبی اورسیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انگریز سامراج میں بھی وہ آزادی کے حصول کیلئے لڑتے رہے اورقیام پاکستان کے بعدبھی وہ اس جاگیردارانہ نظام سے تنگ عوام کے حقوق کے حصول کیلئے سرگرداں رہے۔جنگ آزادی اورجدوجہدکی تاریخ کا جب بھی ذکر ہوگا کاکاجی صنوبرحسین کا نام سماجی اورادبی اُفق پر ہمیشہ چمکتا دمکتانظرآئے گا۔

متعلقہ خبریں