Daily Mashriq

پاکستان اور بنگلہ دیش ماضی اور آج

پاکستان اور بنگلہ دیش ماضی اور آج

بنگلہ دیش کا قیام محب وطن پاکستانیوں کے لئے سوہان روح سے کم نہ تھا، اس عظیم سانحہ کے ابتدائی تین چار سال بہت جان گسل تھے۔ ایک طرف نوے ہزار پاکستانی جن میں چونتیسن ہزار فوجی اور باقی سویلین تھے ، بھارتی قید میں تھے۔ دوسری طرف مجیب الرحمن کی حکومت پاک افواج پر جنگی جرائم کے الزامات کے علاوہ پاکستان اور اس کی پروفیشنل افواج کو ہندوستان کی میڈیا مشینری کے زور پر بدنام کرنے کی بھر پور مہم چلائے ہوئے تھی۔ لیکن ذوالفقارعلی بھٹو کے بڑے کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ اُنہوں نے 27جون1974ء کو بنگلہ دیش کا تاریخی دورہ کر کے مجیب الرحمٰن سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنمائوں نے دسمبر1971ء کے تلخ وخون چکان واقعات وسانحات کو بھلا نے اور نئے سرے سے دوبرادر ملکوں کی حیثیت سے تعاون واُخوت پر مبنی تعلقات استوار کرنے کا اعلان کیا ۔ اس دورے کے دوران بنگلہ دیشی عوام نے ذوالفقارعلی بھٹو کاجو تاریخی استقبال کیا اُس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈھاکہ ائیر پورٹ سے صدارتی محل تک چارکلو میٹر فاصلہ پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ ڈھاکہ ایئر پورٹ پر بعض بنگالیوں نے''کرش انڈیا''کے نعرے بھی بُلند کئے ۔ مجیب الرحمن کے اسلامی سربراہ کانفرنس میں پاکستان اپنے پر اُنہیں شاہانہ استقبال وپروٹوکول دیا گیا ۔ اور بنگلہ دیش کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا ۔ یوں پاکستان اور بنگلہ دیش کے اسلامی دنیا کے درمیان برادرانہ تعلقات کا سلسلہ استوار ہوا۔لیکن بھارت کو ان دوبرادر ملکوں کے درمیان برادرانہ ودوستانہ تعلقات ایک آنکھ نہ بھائے۔ بھارت نے ذواالفقار بھٹو کے بنگلہ دیش کے دورے اور اُن کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے اعلان وعزائم پر بر ملا بغیر کسی شرم وحیا کے اپنی ناراضگی اور برہمی کا اس حد تک اظہار کیا کہ بنگلہ دیش میں1971ء سے مقیم اُن کا سفیربھارت چلا گیا۔ اور دس جولائی1974ء تک بھارت کا دوسرا سفیر بنگلہ دیش نہ آسکا۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دنوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کی بحالی کو بھارت نے اُس مشن ومنصوبے کی ناکامی سمجھا جس کے لئے اُس نے لاکھوں انسانوں کی جان مال آبرو کو دائو پر لگایا تھا۔15اگست1975ء کو صدر مجیب الرحمن کے قتل کے بعد جنرل ضیاء الرحمن اور جنرل ارشاد اور بعدمیں جنرل ضیاء ا لرحمن کی بیگم خالدہ ضیاء کی حکومتیں قائم ہوئیں تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بہت خوشگوار تعلقات قائم ہوئے ۔ اور دونوں ملکوں کے عوام اس پر بہت مطمئن ہونے لگے کہ 1971ء کی دلخراش یادوں کے باوجود جب بنگلہ دیش بھارت کے چُنگل اور حصار سے نکلنے لگا ہے تو ہم یوں سمجھیں گے کہ بھارت کی آنکھوں میں کھٹکنے کے لئے اب ایک کے بجائے دو اسلامی ملک اس کے پہلوئوں میں قائم ہیں ۔ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان اور دوقومی نظریہ کی سخت جانی ہے کہ بنگلہ دیش بہر حال بھارت کا صوبہ نہ بن سکا اور نہ ان شاء اللہ بنے گا۔جنرل ضیاء الرحمن نے سارک تنظیم کی بنیاد رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور اس تنظیم کے تحت ایک طرف جنوبی ایشیاء کے سات ملکوں کے درمیان تجارتی ،ثقافتی اور کھیلوں اور دیگر بہت سارے شعبوں میں تعاون بڑھنے لگا اور دوسری طرف نیپال، سری لنکااور بنگلہ دیش ، مالدیپ جیسے چھوٹے ملک بھارت کے استعماری پنجوں سے آزادی محسوس کرنے لگے۔یہ چھوٹے ملک مجبوری کے تحت بھارت کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں کیونکہ ان ملکوں اور پاکستان کے درمیان جغرافیائی لحاظ سے بھارت حائل ہے اور نیپال وبھوٹان جیسے ممالک تو لینڈ لاکڈ کہلاتے ہیں ۔ لیکن پنڈت چانیکہ کی سیاست سے یہ سب کچھ ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت ہوسکتا تھا۔ بھارت نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر شیخ حسینہ واجد کو اقتدار دلایا۔ اوریہ 1996کا سال تھا ، اُس وقت سے لیکر آج تک پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان حکومتی سطح پر تعلقات تلخ ترین مراحل سے گزرے ۔ شیخ حسینہ واجد نے اپنے والد کے برعکس 1971ء کے تلخ واقعات کو دوبارہ زندہ کرنے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ اُس زمانے میں پاکستان کے حمایتیوں کو چُن چُن کر تختہ دار تک پہنچایا اور سینکڑو سیاسی مخالفین بالخصوص جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے اور خالدہ ضیاء کے لوگوں کو جیلوں میں قید کیا اور خود خالدہ ضیاء گزشتہ کئی برسوں سے جیل میں ہے۔ تازہ انتخابات میں حسینہ واجد نے حصول اقتدار کے لئے جو اقدامات کئے اور جو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اُس پر بنگلہ دیش کی حزب اختلاف اور عالمی اداروں کی طرف سے کڑی تنقید سامنے آرہی ہے لیکن حسینہ واجد اقتدار کے نشے میں کسی قسم کی تنقید کو خاطر میں نہیں لاتی۔ اگرچہ اُس کا طویل اقتدار سکینڈلوں سے بھر پور ہے اور جابرانہ طرز حکومت کے لئے بدنام ہے اور پاکستان کے 1971ء کے واقعات کے تناظر میں دشمنوں کی طرح پیش آرہی ہے ۔ ان معاملات میں ان کو بھارتی حکومت اور''را'' کی بھر پور حمایت و تعاون حاصل ہے۔ایسے میں پاکستانی دانشوروں، صحافیوں ، سفارتکاروں اور عوام بالخصوص علماء کو چاہئے کہ وہ بنگلہ دیشی عوام ، علماء اور دانشوروں سے روابط رکھیں اور اُن پر واضح کرنے کی کوشش کریں کہ ایک مسلمان اور تحریک آزادی پاکستان میں بنگلہ دیش کے اہم کردار کی حیثیت سے پاکستانیوں کے دل اب بھی بنگالی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ پاکستانیوں اور بنگالیوںکا دین، مذہب ، جینا مرنا ، نفع ونقصان اور خوشی وغم اب بھی ایک ہیں۔ وسیع تر تناظر میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام ایک دن ضرور الگ الگ خود مختار ملکوں کے باشندے ہوتے ہوئے اخوت، تعاون اور یکجہتی پر مبنی تعلقات استوار کرنے پر مجبور ہوں گے ۔

متعلقہ خبریں