Daily Mashriq

اک مدت سے مری ماں نہیں سوئی

اک مدت سے مری ماں نہیں سوئی

ایک ماں اپنے بچے کو ٹھٹھرتے جاڑے سے بچانے کے لئے بوسیدہ کپڑوں اور گھانس پھونس سے ڈھانپ رہی تھی۔ اس نے گھانس پھونس ردی کاغذ اور سوکھی ٹہنیوں کا الاؤ بھی جلارکھا تھا تاکہ شدید سردی کا مقابلہ کیا جاسکے ۔ اس بچے کو الاؤ کی روشنی میں اپنی مہربان ماں کا جلتا بجھتا چہرہ نظر آرہا تھا جس کی طرف وہ شکر گزار نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔ بے بے جن لوگوں کو گھانس پھونس اور خاشاک میسر نہ ہوتی ہوگی وہ اتنی سخت سردی سے کس طرح محفوظ رہ پاتے ہونگے۔ کیا کہتی۔ کیا جواب دے پاتی ماں اپنے بچے کی اس منی سی بات کا۔ بس کر ، چپ ہوجا، آنکھیں بند کر اور سوجا ، وہ اسے اتنا ہی کہہ سکی اور اس ننھی سی جان کو اپنے سینے سے چپکا کر خود بھی سونے کی ناکام سی کوشش کرنے لگی۔ وہ اپنے جگر گوشے کو مامتا بھری تھپکیاں دے رہی تھی۔ اس کی نظریں مدھم ہوتے الاؤ کے ان شعلوں پر جمی ہوئی تھی جو کسی بھی وقت بجھ سکتے تھے۔ وہ اس الاؤ کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس میں خس و خاشاک جھونکنا چاہتی تھی لیکن اسے خدشہ تھا کہ ایسا کرنے سے اس کے جگر پارے کی نیند خراب ہوجائے گی۔ سچ کسی نے کہا ہے کہ نیند کے ماتے کانٹوں پر بھی سو جاتے ہیں

گرمی لگی تو خود سے الگ ہوکے سو رہے

سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا

کچھ ہی دیر بعد بے بے ماں کو محسوس ہونے لگا کہ اس کا بچہ نیند کی آغوش میں جانے لگا ہے۔ وہ دھیرے سے اٹھی اور ایک بار پھر الائو کے شعلوں کو تیز کرنے کے لئے قریب پڑا کچرا آگ میں جھونکنے لگی۔ ماں تھی نا وہ بچاری اسے ٹھٹھرتے موسم سے اپنے آپ کو بچانے کی بجائے اپنے بچے کو بچانے کی فکر لاحق تھی۔ جن لوگوں کے پاس گھانس پھونس نہیں ہوتا وہ اپنے آپ کو سردی سے کیسے بچاتے ہونگے۔ کتنا معصوم سوال تھا اس چیتھڑے اوڑھے ننھے فرشتے کا۔ اسے کیا خبر تھی کہ منہ میں سونے اور چاندی کا چمچ لیکر پیدا ہونے والے جاڑے کی سردی سے بچنے کے لئے کیسے کیسے جتن کرتے ہیں۔ ملٹی فوم کے بچھونے، گدے ، تکئے، لحاف ، رضائیاں، کمبل ،مونگ پھلیاں، خشک میوے، حلوے، چائے اور جانے کیا کچھ، جو لوگ بجلی کے بھاری بھرکم بل ادا کرسکتے ہیں تو وہ شدت سرما کو کم کرنے کے لئے الیکٹرانک ہیٹر اور گرم ہوا پھینکنے والے پنکھے استعمال کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ایسا نہیں کرسکتے وہ سوئی گیس کے ہیٹر جلا کر جاڑے کی سردی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ مگر اس کا کیا جائے کہ موسم سرما میں جب کمرے کی فضا کو گرم کرنے والی ان سہولیات کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے لوڈ شیڈنگ کے ذریعے ان کی سپلائی لائن منقطع کردی جاتی ہے یا ان کی ترسیل کو روک دیا جاتا ہے۔ آج کل ہر گنجان آباد شہر میں یہی ستم ڈھایا جارہا ہے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور گیس کی ترسیل نے صارفین کو ناکوں چنے چبوادئیے ہیں۔ جب کبھی ایسی صورت پیدا ہوتی ہے تو لوگ ہائے ہائے کرتے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں بنیادی سہولیات مہیا کرے ، یہ عجیب بات نہیں کہ اپنے حقوق کی بات کرتے وقت اپنے فرائض کو بھول جاتے ہیں

بجلی ہے نہ پانی ہے

دل پھر بھی پاکستانی ہے

بجلی اور پانی کی قلت کے ساتھ سردیوں کے موسم میں گیس کا ناپید ہونا بھی ایک عذاب بن جاتاہے ،کہتے ہیں اس موسم میں سپلائی لائنوں میں گیس منجمد ہوکر اس کے بہاؤ میں رکاوٹ بن جاتی ہے ، گیس کے کم یا ناپید ہونے کی ایک وجہ بڑھتی آبادی کا طوفان بلا خیز بھی بتایا جاتا ہے ، آبادی میں جس قدر اضافہ ہوگا ، مانگ اسی قدر بڑھے گی اور رسد میں کمی آئے گی، جب اس قسم کی ہنگامی صورت حال پیدا ہونے لگے تو مفاد پرست لوگ دوسروں کے منہ کا نوالہ بھی چھین لیتے ہیں ، ایسا کرنے کے لئے بہت سے لوگوں نے گیس کو کھینچنے کے لئے کمپریسر اور ویکیوم پمپ جیسی اشیاء گیس کی سپلائی لائن کے ساتھ لگا رکھی ہیں ، مگر ستم کی بات تو یہ ہے کہ گیس کھینچنے کے یہ حیلے یا ترکیبیں بھی آج کل کارگر ثابت نہیں ہو رہیں ، اصل میں ہم لوگ حد سے زیادہ بے صبرے ا ور ناشکرے یا نت نئی سہولتوں کے عادی ہوچکے ہیں ، ہمیں وہ دن بھول گئے جب ہمارے آباء بجلی یا گیس سے روشنی اور حدت حاصل کرنے کی بجائے کوئلہ ، لکڑیاں یا اس قبیل کا کوئی اور ایندھن مثلاً لکڑی کا برادہ وغیرہ استعمال کیا کرتے تھے ، گلی گلی لکڑی اور کوئلوں کے ٹال ہوا کرتے تھے، زمانے نے ترقی کی اورپھر ہم نے دیکھا کہ لوگ مٹی کے تیل کے چولہے بھی جلانے لگے، اب بھی جب گیس ناپید ہونے لگتی ہے ، لوگ گیس کے سیلنڈر بھر کر اس کی کمی کا تدارک کرنے لگتے ہیں ، لیکن یہ طریقہ نہ اتنا سہل ہے اور نہ سستا سو وہ گیس کے ناپید ہونے پر واویلا کرنے میں حق بجانب دکھائی دیتے ہیں ، کاش انہیں اس بات کا علم ہوتا کہ اب بھی بہت سے لوگ سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے چولہوں کے انگاروں کو سرخ رکھنے کے لئے پھونکیں مار مار کر اپنی آنکھیں لال اور پھیپھڑے کاربن زدہ کردیتے ہیں ۔ اب بھی جب کوئی بچہ ماں سے کہتا ہے کہ بے بے اگر کسی کے پاس تن ڈھانپنے کو چیتھڑے نہیں ہوتے تو وہ کیسے بچتے ہیں اس کڑاکے دار سردی سے اور یوں ماں کی نیند اس الاؤ میں جل جاتی ہے جو وہ اپنے سینے میں بچے کو سردی سے بچانے کے لئے سدا روشن رکھتی ہے

اک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

متعلقہ خبریں