Daily Mashriq

بھارتی مسلمانوں کے انسانی حقوق اور اقوام متحدہ

بھارتی مسلمانوں کے انسانی حقوق اور اقوام متحدہ

ایک اور مسلمان بھارت کی ریاستی مسلمان دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ بہار میں 55سالہ محمد کابل کو گائے چوری کے الزام میں پتھر اور لوہے کے راڈ مار مار کر ہندوؤں کے گروہ نے مارا ڈالا۔ محمد کابل رحم کی بھیک مانگتا ہوا موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ اس واقعہ کی ویڈیو وائرل ہوئی لیکن کسی کو گرفتار نہیںکیا گیا۔ بھارت میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ جب سے نریندر مودی کی بی جے پی برسراقتدار آئی ہے کئی ہزار مسلمان گاؤ کشی کے الزام میں گروہی تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایسی وارداتوںپر مقدمات درج ہونے کی اطلاعات بالعموم نہیں ہیں اور ملزموں کو سزا دینے کی اطلاعات تو مفقود ہیں۔ بھارت کادعویٰ ایک سیکولر ریاست ہونے کا ہے۔ لیکن یہ ریاست ایک طرف مسلمان اکثریت کے علاقے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کا سست رفتار قتل عام کر رہی ہے دوسری طرف سارے بھارت میں مسلمان ریاستی دہشت گردی کے ماحول میں خوف و ہراس کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ دنیا بھر میں واحد ملک نیپال ہے جس کا سرکاری مذہب ہندو ازم ہے لیکن وہاں گائے کی توہین کے بہانے کسی کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ بلکہ نیپال میںبھارت سے نفرت پائی جاتی ہے کیونکہ بھارت کی تاریخ یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کے بل پر نیپال کے اندرونی معاملات میں دخل دیتا ہے اور نیپال کو اپنی ذیلی ریاست بنانے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ گائے کا احترام نیپال میں زیادہ ہونا چاہیے جہاں کا ریاستی مذہب ہندوازم ہے لیکن گاؤ کشی یا گائے کے عدم احترام کے الزام میں بھارت میں مسلمانوں کا قتل ریاست کی سرپرستی میں عام ہے۔ بلکہ ریاست ایسے واقعات میں اپنے آئین اور قانون پر عمل درآمد کرنے سے اجتناب کرتی ہے۔ بھارت کی اپنی عدالتیںبھی ایسے واقعات کا از خود نوٹس نہیںلیتیں۔ بھارت میں ہندو شائونسٹ بی جے پی آج سے نہیں بلکہ ایک عرصے سے سب سے بڑی مسلمان اقلیت کو نابود کرنے کے درپے ہے۔ کبھی مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہندو نام رکھیں ' کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی کتاب قرآن میں تحریف کریں۔ انہیں محلوںسے بے دخل کرنے پر ریاست نوٹس نہیں لیتی۔بھارت میں بیس کروڑ سے زیادہ آبادی پر مشتمل مسلمان اقلیت نابود ہونے کے خطرے میں ہے۔ دنیا کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو ان کی سرپرستی میں مسلمانوںکا قتل عام ہوا۔ بابری مسجد کو منہدم کیا گیا۔ مودی کو امریکہ میں احمد آباد کا بوچر کہا جاتا تھا اور امریکہ نے مودی کے اس کردار کی وجہ سے مودی کو ویزا دینے پر پابندی عائد کی ہوئی تھی جو سارے بھارت کا وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد ختم کی گئی۔ امریکہ کا یہ اقدام کسی جواز کا حامل نہیں۔ احمد آباد کا بوچر نریندر مودی بھارت کا وزیر اعظم ہونے کے بعد مسلمانوں کے قتل عام سے بری الذمہ ہو گیا تھا؟ منطقی ردِ عمل تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ امریکہ بھارت کی مرکزی حکومت کے وزیر اعظم اور دیگر عہدیداروں کا بھی امریکہ میں داخلہ بند کر دیتا۔ لیکن امریکہ نے وزیر اعظم مودی کا سرخ قالین سے استقبال کیا۔ صرف مسلمان ہی نہیں دیگر اقلیتیں بھی ہندو شائونزم کی بہیمیت کا شکار ہیں۔ بھاری اکثریت کی دلت آبادی پر زندگی کے دروازے بند ہیں۔ انہی وجوہ کی بنا پر بھارت کی سترہ ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں جہاں اونچی ذات کے ہندوؤں کی آبادی بہت کم ہے۔ بھارت کے اونچی ذات کے ہندوؤں کی تعداد ایک ارب کی آبادی میں بیس سے تیس فیصد ہے جو ترقی یافتہ علاقوں میں بستی ہے۔ یہ اونچی ذات کے ہندوؤں کی ا قلیتی آبادی بھارت کی اقلیتوں کو غلام ' محکوم اور پسماند ہ رکھنے پر کمربستہ ہے۔ مسلمان بھی بالعموم بھارت کے ترقی یافتہ علاقوں میں بستے ہیں کیونکہ بھارت کی ترقی میں مسلمانوں کا تاریخی کردار ہے۔ اسی لیے بھارت کی ہندو شاونسٹ ریاست مسلمانوں کو نابود کرنے کے درپے ہے ۔ چند سال پہلے مسیحی اقلیتوں پر بھی حملے کیے جاتے تھے اور گرجا گھروںکو آگ لگادی جاتی تھی لیکن یورپ اور امریکہ کی مسیحی دنیا کی مداخلت سے وہ سلسلہ بند کر دیا گیا تاہم مقبوضہ کشمیر میںمسلمانوںکا رفتہ رفتہ قتل عام جاری ہے اور بھارت کے دیگر علاقوں میں مسلمانوں پر زندگی عذاب بنائی جا رہی ہے۔ گائے کا دودھ دینے کی بنا پر تقدس اپنی جگہ ناقابل فہم ہے ۔ اگر دودھ دینے کی بنا پر گائے ماتا (ماں) ہے تو بکری خالہ کیوں نہیں اور اونٹنی پھوپھی کیوں نہیں۔ اگر گائے کا تقدس کوئی حقیقت ہوتا تو ستر سال کی آزادی کے دوران بھارت کے گلی کوچے اور جنگل بانجھ گایوں اور ان کی لاشوںسے بھر چکے ہوتے۔ بھارت میں گائے مبینہ طور پر مقدس ہے لیکن بھارت کی منی پور اور گوا کی ریاستوں میں بڑے گوشت کی دکانیں چل رہی ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ بھارت برازیل کے بعد دنیا کا بڑے گوشت (بیف) کا سب سے بڑا ایکسپورٹرہے۔ اگر گائے مقدس ہے تو بھارت آسٹریلیا ' امریکہ اور دنیا کے ان تمام ملکوں سے دوستانہ تعلقات کیسے رکھتا ہے جہاں گائیں ذبح کی جاتی ہیں اور کھائی جاتی ہیں۔ رنگ ' نسل اور مذہب کی بنا پر انسانوں کا قتل یا ان پر تشدد یا ان سے امتیازی سلوک انسانیت کے خلاف کے خلاف سنگین جرم ہے ۔ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ لیکن انسانی حقوق کی عالمی تنظیم جس کا بھارت بھی رکن ہے گاؤ کشی یا گائے کی توہین کے بہانے بیس کروڑ مسلمان اقلیت کو نابود کرنے کی ریاستی پالیسی کا نوٹس نہیںلیتی ۔ انسانیت کے خلاف جرم محدود نہیں رہ سکتا۔ یہ جرم پھیل بھی سکتا ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیم بلکہ اقوام متحدہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ پاکستان ' بھارت کا قریب ترین ہمسایہ ہے ' سب سے پہلے اس کا فرض ہے کہ وہ اقوام عالم کو بھارت کی مسلمان اقلیت کے خلاف ریاستی دہشت گردی رکوانے کے لیے اقوام عالم کو متوجہ کرے اور انسانی حقوق کی تنظیم میں انسانیت کے خلاف بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائے۔

متعلقہ خبریں