Daily Mashriq

اور اب بھی بجلی کا بحران

اور اب بھی بجلی کا بحران

ملک کے کئی علاقوں میں گیس کے بحران کے بعد بجلی کے بحران نے بھی شدت اختیار کرلی ہے جبکہ وزارت توانائی نے بھی بجلی بحران کی ذمہ داری دھند پر ڈال دی ہے۔ وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق بجلی کا شارٹ فال 5850 میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تربیلا اور منگلا میں بجلی پیدا کرنے والے 22یونٹس بند ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ لیگ (ن) کی سابقہ حکومت نے ملکی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے میں جو کامیابی حاصل کی تھی اس حوالے سے سابق حکومت کے دور کے بعض وزراء اب بھی یہی دعوے کرتے رہتے ہیں کہ نواز شریف دور کی بجلی کہاں چلی گئی؟ اگرچہ یہ تکنیکی معاملات ہیں جن پر ماہر انجینئرز ہی بہتر طور پر روشنی ڈال سکتے ہیں اور حقیقت آشکار کرکے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرنے کا فریضہ ادا کرسکتے ہیں تاہم اگر سابق وزراء اس قسم کے سوالات اٹھا رہے ہیں تو ان سوالات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کے ذرائع کئی ایک ہیں جن میں پانی سے پیدا کی جانے والی بجلی کے علاوہ کوئلے' فرنس آئل' گیس' سولر سسٹم کے علاوہ ایٹمی بجلی گھر وغیرہ بھی شامل ہیں۔ سردیوں کی وجہ سے ڈیمز میں پانی آنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے یوں تربیلا اور منگلا کے 22یونٹس بند ہونے سے بجلی کی پیداوار کا کم ہونا فطری امر ہے تاہم دیگر ذ رائع سے پیدا ہونے والی بجلی میں کمی کا کیا مسئلہ ہے اس پر ضرور غور کرنا چاہئے۔ کیا ماضی کی طرح فرنس آئل' گیس اور تھرمل یونٹس چلانے کے لئے کہیں ادائیگیوں کا مسئلہ تو نہیں جسے عوام سے پوشیدہ رکھا جا رہا ہے اور سارا الزام ان دنوں سردی کی شدت کی وجہ سے بننے والی دھند پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے؟ بد قسمتی سے موجودہ صورتحال کے لئے صرف موجودہ حکومت ہی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس حکومت کو آئے ہوئے مدت ہی کتنی ہوئی ہے بلکہ سابقہ وہ تمام حکومتیں اس صورتحال کی ذمہ دار گردانی جاسکتی ہیں جنہوں نے پانی کے ذخائر تعمیر کرنے سے اجتناب برتا اور سستی ترین بجلی پیدا کرنے کی بجائے یا تو دیگر ذرائع سے مہنگی بجلی کے منصوبے لگائے اور آئی پی پیز کے ساتھ ایسے معاہدے کئے کہ انہیں عدم ادائیگی کی وجہ سے بجلی کا بحران جنم لینے سے نہیں روکا جاسکتا۔ بہر حال اب تو سارا مسئلہ موجودہ حکومت نے ہی حل کرنا ہے اس لئے دھند کے پیچھے چھپنے کی بجائے اصل حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور ضروری اقدامات سے مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کی جائے۔

حج پیکج میں اضافہ؟

اخباری اطلاعات کے مطابق رواں سال حج کے سرکاری پیکج میں مزید اضافے کے امکانات ظاہرکئے جا رہے ہیں اور پیکج ساڑھے تین لاکھ سے چار لاکھ تک پہنچنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کے باعث حج 2019ء حاجیوں کی جیبوں پر بھاری پڑے گا۔ وزارت مذہبی امور نے حج پالیسی کے اہم نکات تیار کرلئے ہیں جو 10جنوری کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں پیش کئے جائیں گے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں جس ممکنہ پیکج کی بات کی جا رہی ہے وہ بہت زیادہ ہے اگرچہ روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی کی وجہ سے پیکج میں اتنے اضافے کو بہر حال مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ گزشتہ برس پیکج 2لاکھ 85ہزار تھا اور اگر اب اسے چار لاکھ کیاجائے گا تو عام غریب لوگ اتنا زیادہ بوجھ برداشت نہیں کرسکیں گے کیونکہ اس رقم کے علاوہ بھی انہیں لاکھ ڈیڑھ لاکھ دیگر اخراجات کے لئے ساتھ رکھنے پڑیں گے۔ اس ضمن میں اگر ہم بھارت کی مثال دیں تو شاید غلط نہ ہو کہ وہ بھارتی مسلمانوں کے لئے ہر سال سبسڈی کا اعلان کرکے اخراجات میں کمی کرتا ہے جس کی وجہ سے بھارتی مسلمانوں کو آسانیاں فراہم ہوتی ہیں اور اس کے مقابلے میں اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک میں مذہبی فریضے کی ادائیگی میں اگر کوئی ریلیف نہ دیا جائے تو یہ یقینا افسوسناک امر ہوگا۔ اس کے بعد جب سرکاری حج پیکج اس قدر مہنگا ہوگا تو پرائیویٹ حج سکیم والوں کی کیا صورت ہوگی کیونکہ گزشتہ برس سرکاری اخراجات یعنی 2لاکھ85ہزار کے مقابلے میں پرائیویٹ حج آپریٹر چار لاکھ سے 6لاکھ تک وصول کرتے رہے۔ اس لئے اب کی بار تو یہ نجی کمپنیاں 8سے دس لاکھ روپے سے کم کیا وصول کریں گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت سرکاری پیکج کو زیادہ سے زیادہ 3لاکھ 25ہزار سے زیادہ نہ رکھے تاکہ نہ صرف غریب لوگ بھی فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے آسانی سے جا سکیں بلکہ پرائیویٹ حج کمپنیوں کو بھی ایک خاص حد سے زیادہ رقم وصول کرنے سے روکنے کی تدبیر کی جائے اور ان ٹور آپریٹرز کو گزشتہ برس کی طرح حجاج کرام کا استحصال کرنے سے بھی روکا جائے جن کے بارے میں گزشتہ سال فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد واپس آنے والوں نے شکایات کے انبار لگا دئیے تھے۔

متعلقہ خبریں