Daily Mashriq

پاک ترک مشترکہ اعلامیہ

پاک ترک مشترکہ اعلامیہ

وزیر اعظم عمران خان کے دو روزہ دورہ ترکی کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیاگیا ہے جس کے مطابق ترکی نے مسئلہ کشمیر اور نیو کلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے لئے پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیاگیا ہے۔ موجودہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیاگیا۔ تعلیم' ثقافت' سیاحت اور زراعت کے تجربات کے تبادلے پر اتفاق' دونوں ممالک کا نوجوانوں سے متعلق شعبوں میں تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ جبکہ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں پر بھی اتفاق کیاگیا۔ پاکستان اور ترکی کے عوام اور حکومتوں کے درمیان صدیوں پرانے تعلقات ہیں جو مشترکہ ثقافت اور مذہبی ورثے کے امین ہیں۔ ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور انہیں وسعت دینے کے لئے دونوں ملکوں کے سربراہان کی ملاقات کے نتیجے میں مثبت نتائج برآمد ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ مسئلہ کشمیر پاک بھارت تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور ترکی نے اس مسئلے پر پاکستان کی حمایت کرکے پاکستانیوں کے دل جیتنے کے ساتھ ساتھ مظلوم کشمیریوں کی داد رسی بھی کی ہے۔ اسی طرح نیو کلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے لئے پاکستان کی حمایت کرکے ترکی نے بڑا واضح پیغام دے دیا ہے۔ جہاں تک اقتصادی تعاون کا تعلق ہے وزیر اعظم عمران خان نے ترکی کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے کر برادر ترک سرمایہ کاروں کے لئے یہاں کاروبار کے مواقع بڑھانے کے لئے اہم اقدام کیا ہے۔ ترک سرمایہ کار پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری سے نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات میں اہم کردار ادا کریں گے بلکہ اس سے پاکستان میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور بے روزگاری کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اپنے دورہ ترکی کے دوران ترک صدر طیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان داعش کے خلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 50لاکھ گھروں کی تعمیر کے لئے ترکی کی مدد درکار ہے لہٰذا ترک کمپنیاں پاکستان آئیں اور یہ منصوبہ مکمل کرنے میں مدد کریں۔ واضح رہے کہ پاکستان کے بالائی علاقوں اور آزاد کشمیر میں چند برس پہلے آنے والے زلزلے سے ہونے والی تباہی کے بعد ترک ڈاکٹروں اور ماہرین تعمیرات نے وہاں خدمات انجام دی تھیں اور ان ٹیموں کی تجربہ کاری سے پاکستان نے استفادہ کیا تھا۔ اسی طرح ماضی میں ترک کمپنیوں نے پاکستان میں موٹر ویز کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا کیونکہ ترک ماہرین تعمیرات اپنے وسیع تجربے اور بہترین کارکردگی کی وجہ سے دنیا بھر میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ وزیر اعظم عمران خان کے 50لاکھ سستے گھروں کی تعمیر کے منصوبے میں شامل ہو جائیں گے تو حکومت اپنے اس منصوبے کی تکمیل میں کامیاب ہوسکے گی اور سستے گھروں کی تعمیر کا خواب پورا ہوسکے گا۔ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ اس سال دونوں ملک اہم فیصلے کریں گے۔ افغان امن کے لئے استنبول میں پاکستان' افغانستان اور ترکی کی سربراہ کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ' 2019ء میں پاکستان اور ترکی اہم امور پر ایک ساتھ کھڑے ہوں گے۔ صدر طیب اردوان نے جو باتیں کی ہیں ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور امید کی جاسکتی ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے محولہ سہ فریقی اجلاس نہایت اہم کردار ادا کرے گا۔ چونکہ افغانستان میں امن سے پورے خطے کا امن جڑا ہوا ہے اس لئے استنبول میں تینوں ممالک کے سربراہان کے اکٹھا ہونے سے امید ہے کہ اس مسئلے کا بہتر حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی کاوشوں سے طالبان اور امریکہ کے مابین براہ راست مذاکرات سے یہ مسئلہ حل کی جانب جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ نے افغانستان سے اپنی نصف افواج کے انخلاء کا اعلان بھی کر رکھا ہے جس پر اگر چہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی دفاعی ادارے پینٹا گون کے مابین اختلافات بھی سامنے آئے ہیں تاہم ادھر امریکی افواج کی ان جنگوں میں شرکت سے واپس جانے والے فوجیوں کی کثیر تعداد مختلف نفسیاتی عوارض کا شکار ہو رہی ہے اس لئے امریکی صدر اب اس بے مقصد جنگ سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان حالات میں استنبول میں ہونے والی مجوزہ کانفرنس سے یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا اور افغانستان میں امن کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا جس سے خطے میں ترقی کی راہیں کھل سکیں گی۔ طیب اردوان کی تجویز پر افغانستان کا کیا رد عمل ہوگا اس حوالے سے آنے والا وقت ہی بتا سکے گا جبکہ وزیر اعظم عمران خان کے اس دورے سے دونوں برادر ملکوں کے مابین تعلقات کے نئے دورکا آغاز ہونے جا رہا ہے جو باہمی تعلقات کی مضبوطی پر منتج ہوگا۔

متعلقہ خبریں