Daily Mashriq


نیب کا گرفتاریاں موقوف کرنے کا درست فیصلہ

نیب کا گرفتاریاں موقوف کرنے کا درست فیصلہ

کی جانب سے الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس لئے جانے کے عندیہ کے بعد واضح کیاگیا ہے کہ نیب کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے پاکستان کا قومی احتساب بیورو یعنی نیب مقدمات کا سامنا کرنے والے امیدواروں کو عام انتخابات سے قبل گرفتار نہیں کرے گا۔ساتھ ہی اس امر کا اعلان کیا گیا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے کسی بھی سیاست دان کو25جولائی تک یعنی عام انتخابات کے انعقادتک گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ نیب کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے کہ جب انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں نیب کی کارروائیوں کو 'انتخاب سے قبل دھاندلی قرار دے رہی تھیں۔پاکستان مسلم لیگ نواز نے اپنے امیدواروں کے خلاف نیب کی کارروائیوں پر الیکشن کمیشن میںشکایت بھی درج کروائی ہے۔ نیب کی جانب سے گرفتاریوں کا دائرہ ایک خاص سیاسی جماعت کے ارکان کے خلاف ہی تنگ نہ ہوتا اور بلا امتیاز گرفتاریاں ہوتیں تو انگشت نمائی کو بلا جواز قرار دیا جاسکتا تھا۔ ہمارے تئیں نیب کی جانب سے اب تک کی گئی گرفتاریاں بھی اس بناء پر مستحسن نہیں کہ اس سے جانبداری کی بو آتی ہے۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ کونسی گرفتاری درست تھی یا کونسی نا درست۔ سیاسی معاملات میں ملوث ہونے کے کسی ایسے ادارے کے حوالے سے تاثرات ہی درست نہیں ہوتے کجا کہ قول و عمل سے اس کے اشارے ملیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نیب کا محولہ اقدام احسن ہونے کے باوجود کافی نہیں کیونکہ اس امر کا اب بھی امکان موجود ہے کہ نیب انتخابات کے بعد حکومت سازی کے دنوں میں گرفتاریوں کے ذریعے ایک مرتبہ پھر اپنی ساکھ کو متاثر کرنے کا خطرہ مول لے گی۔ جیسا کہ ماضی میں اس وقت کے آمر جنرل پرویز مشرف نے 2002ء میں مرضی کی حکومت بنانے کے لئے نیب کا استعمال کیا تھا۔ اس وقت بھی دیکھا جائے تو بعض گرفتاریوں کی صورت میں اسی کردار کا اعادہ ہونے جا رہا تھا جسے قبل از انتخابات دھاندلی قرار دیتے ہوئے سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جس کے نوٹس کے بعد نیب کا یہ فیصلہ سامنے آیا۔ انتخابات کے انعقاد کے بعد الیکشن کمیشن کا دائرہ کار سکڑ جاتا ہے جس کے بعد ہی نیب کے کردار و عمل کا درست اندازہ ہوسکے گا۔ نیب کی یہ وضاحت قابل اطمینان ہے کہ اس کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس پر کار بند رہنا اورآزادانہ بنیادوں پر حکومت کی تشکیل تک اس غیر جانبداری کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے بعد نیب کی جانب سے جس جس پرہاتھ ڈالا جائے گا وہ اسے سیاسی استحصال اور نیب گردی کارونا نہیں رو سکے گا۔ بعد از تشکیل حکومت بھی نیب کے لئے زیادہ مستحسن امر یہ ہوگا کہ وہ یکبارگی خیبر پختونخوا‘ پنجاب‘ سندھ و بلوچستان سے گرفتاریاں کرکے ملک گیر اور حقیقی احتساب کا تاثر دے۔ خیبر پختونخوا میں بی آر ٹی‘ بلین سونامی ٹری‘ محکمہ صحت سمیت ایم ٹی آئی ہسپتالوں اور دیگر محکموں کے جن معاملات کا نوٹس لیا گیا ہے تشکیلحکومت نو کے ساتھ ہی ان سب کو کٹہرے میں لانے کی سنجیدہ مساعی کی جائیں۔ جن عناصر کے خلاف نیب کی تحقیقا ت متوقع تھیں اور یہ عناصر اپنی سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ان کو بھی کڑے احتساب کے عمل میں لا کر ہی حقیقی اور بلا امتیاز احتساب کا تاثر قائم کیاجاسکے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نیب کے پاس کسی ایک صوبے اور کسی ایک سیاسی جماعت سے و ابستہ افرادکے خلاف ہی مقدمات نہیں بلکہ نیب کے پاس ایک طویل فہرست موجود ہے جس میں شامل ہر فرد اور ہونے والی ہر بدعنوانی و اختیارات کے غلط استعمال کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہونا ہے۔ اس لئے مختصر مدت کے توقف کو بھی وقفہ کا نام دینے کی ضرورت نہیں بلکہ اس وقت کو تحقیقات اور شواہد اکٹھی کرکے مضبوط اور بھرپور ریفرنس تیار کرنے کے لئے بروئے کار لایا جائے تاکہ بدعنوان عناصر پر عدالت میں بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ثابت کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔ اس دورانیے میں نیب کے عملے کو یکسوئی سے کام کرتے رہنا چاہئے تاکہ جیسے ہی مناسب موقع ملے ایک بھرپور تیاری کے ساتھ اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں مقدمات قائم کئے جاسکیں۔ جہاں تک نیب کے حالیہ اعلان پر اعتراضات کا سوال ہے سیاسی جماعتوں کی قیادت کوان معاملات پر بیان بازی کی ضرورت اس لئے نہیں تھی کہ یہ فیصلہ سیاسی طور پر کسی جھکائو نہ رکھنے کے عملی اقدام کے طور پر ہی اٹھایا گیا ہے اس کے باوجود اگر ان کو اس فیصلے سے اختلاف ہے تو پھر ان کو اس امر کا مطالبہ ساتھ کرنا چاہئے کہ ان کی صفوں میں شامل سکینڈلز میں ملوث عناصر پر بھی ہاتھ ڈالا جائے تو ہ معترض نہیں ہوں گے۔ وطن عزیز میں حکومتی اداروں کی وساطت سے انتخابات لڑنے کے اس کلچر کا اب خاتمہ ہونا چاہئے۔ سیاسی اور عدالتی واحتسابی معاملات کو الگ الگ طورپر دیکھا جانا چاہئے اور احتسابی ادارے کا بھی فرض بنتاہے کہ وہ حتیٰ المقدور اپنا دامن بچا کر رکھیں۔ کڑا اور کھرا احتساب قوم کی خواہش اور مشترکہ آواز ہے جو اگر فی الوقت مختصر مدت کے لئے موقوف کرکے درست وقت پر بھرپور اور بلا امتیاز شروع کیاجائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔

متعلقہ خبریں