الیکشن کمیشن کے پی جانبدار طرز عمل سے گریز کرے

الیکشن کمیشن کے پی جانبدار طرز عمل سے گریز کرے

خیبر پختونخوا کی دو معروف جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن سے باقاعدہ تحریری طور پر رجوع کے باوجود ان کی شکایات کا جائزہ لیکر ان کے تحفظات دور کرنے پر عدم توجہ قابل قبول رویہ نہیں ۔مذکورہ جماعتوں نے اس امر کی شکایت کی تھی کہ ان کے بینراور پوسٹرز ہٹائے جارہے ہیں اور ان کو ضابطہ اخلاق پر عملدر آمد کے نام پر متاثر کیا جارہا ہے لیکن دوسری جانب مخصوص جماعت کو کھلی چھٹی دی گئی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس پر الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے پر فوری طور پراس امر کا نوٹس لینے کی ضرورت تھی اور الیکشن کمیشن کے عملے سے اس امر کی تصدیق کے بعد یا تو متعلقہ جماعتوں کے اعتراضات درست نہ ہونے کا بتایا جاتا یا پھر ان جماعتوں سے ثبوت مانگے جاتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس جدید اور ڈیجیٹل دنیا میں اب اس قسم کے واضح معاملات کی تصدیق وتردیداور شواہد کی بنیاد پر قدم اٹھانا کوئی مسئلہ نہیں۔ اس ضمن میں شہر میں جا بجا لگے سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی مدد لی جا سکتی ہے بشرطیکہ کیمرے درست کام کر رہے ہوں سیاسی جماعتوں سے بھی ثبوت مانگے جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا عملہ موقع پر جا کر اعتراض ملاحظہ کر سکتا ہے لیکن چپ ساد لینا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ الزامات کو درست تسلیم کر کے صرف نظر کی پالیسی اختیار کرنے کے مترادف ہے ۔ہمارے تئیں معاملات صرف اسی تک محدود نہیں بلکہ ناظمین اور کونسلر حضرات بھی سرکاری وسائل اور دفاتر کا اپنے اپنے پسند کے امیدواروں کے حق میں استعمال کر رہے ہیں ۔سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد سیاسی جلسوں میں شریک ہوتی ہے اور سوشل میڈیا پر مہم اور پروپیگنڈہ میںشریک ہوتی ہے ۔ جس کا الیکشن کمیشن کے پاس اگر اقدام کیلئے فرصت اور وسائل نہیں تو سرکاری افسران اپنے اپنے محکموں اور دفاتر میں کام کرنے والوں کو تو ایسا کرنے سے روک سکتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں ایسا نہ کرنے سے بھی سیاست زدگی کی بو آتی ہے اس قسم کے بے شمار ہتھکنڈے کوششیں اور وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں جس سے سیاسی فضا میں کشیدگی آنے اور الیکشن کمیشن کے کردار و عمل اور غیر جانبداری پرانگلیاں اٹھنے کے مواقع پیدا ہوں بہتر ہوگا کہ الیکشن کمیشن دو سیاسی جماعتوں کے باقاعدہ رجوع کا نوٹس لے اور کسی ایک سیاسی جماعت کو سرکاری وسائل کا استعمال کرنے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی چھوٹ نہ دی جائے ۔ الیکشن کمیشن نے اگر بروقت اس کا نوٹس نہ لیا تو اسے قبل از انتخاب دھاندلی قرار دینے والے اور الیکشن کمیشن کے کردار کے شاکی بعد ازانتخابات نتائج موافق نہ آنے پر الیکشن کمیشن کے کردار وعمل پر انگشت نمائی میں اس الزام کا استعمال کریں گے جو الیکشن کمیشن کے حق میں کسی طور بہتر نہ ہوگا ۔ الیکشن کمیشن کو مزید وقت ضائع کئے بغیر صوبے میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں طور پر ضابطہ اخلاق کا پابند بنانے کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے اور شکایات کا نوٹس لینے اور ان کا ازالہ کرنے میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے ۔
صفائی کا خیال نہ رکھنے پر چالان کا موزوں فیصلہ
واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور ڈبلیو ایس ایس پی کی جانب سے جی ٹی روڈ،جمرودروڈ پر اور ملحقہ نالیوں میں گندگی پھینکنے اور پانی ضائع کرنے والے افراد کو ابتدائی طورپر نوٹس اور بعد ازاں چالان ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ گوکہ شہریوں کے خلاف سخت اقدام کوئی احسن عمل نہیں ہوا کرتا لیکن جہاں شہریوں کا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل پورے شہر کیلئے زحمت اور مشکلات کا باعث بن جائے وہاں چشم پوشی کا رویہ قابل قبول نہیں ہواکرتا ۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے اس اقدام کی ضرورت ایک مدت سے محسوس کی جارہی تھی اور اس کی تجویز بھی دی گئی تھی لیکن شاید سیاسی حکومت کی مصلحت آڑے آرہی تھی۔ اب جبکہ یہ مصلحت باقی نہیں رہی توکمپنی ا پنی بقاء او روجود کو مستحکم کرنے اور ناقص کارکردگی پر سخت تنقید سے بچنے کیلئے ناگزیر اور سخت اقدامات اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں اس سے اصلاح احوال میں مدد ملنے کی توقع ضرور ہے ۔ ہمارے تئیں اس اختیار کا استعمال محدود پیمانے اور محدود علاقے میں ہی نہ کیا جائے بلکہ جہاں جہاں ضرورت پڑے اسے دیانتدارانہ طور پر استعمال کی شرط کے ساتھ استعمال کرنے میں قباحت نہیں ۔ پی ڈی اے کو بھی اس قسم کے اقدامات کے تحت حیات آباد میں خالی پلاٹوں پر کوڑا پھینکنے ، پانی سڑک پر بہانے اور نظامت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو چالان اور جرمانہ کرنے میں تامل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے تاکہ علاقے میں صحت وصفائی کی صورتحال میں بہتری آئے سرکاری اداروں کوجہاں عوام سے توقعات اور ان سے تعاون درکار ہے وہاں متعلقہ حکام اپنے گریبان میں بھی جھانکیں تو مزید بہتری متوقع ہے ۔

اداریہ