احتساب عدالت کے فیصلے کو مؤخر کرنے کی اپیل

احتساب عدالت کے فیصلے کو مؤخر کرنے کی اپیل

احتساب عدالت کے اعلان کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ سے متعلق ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آج کسی وقت سنایا جائے گا۔ یہ بھی خبر ہے کہ احتساب عدالت کے جج نے دیگر مصروفیات ترک کر دی ہیں اور وہ مقدمے کا فیصلہ لکھنے میں مصروف ہیں۔ احتساب عدالت سپریم کورٹ کی دی ہوئی مہلت کے اندر فیصلہ سنانے کی پابند ہے جس میں کئی بار توسیع حاصل کی جا چکی ہے۔ لیکن میاں نواز شریف نے اپیل کی ہے کہ فیصلہ کا اعلان مؤخر کردیا جائے کیونکہ وہ اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو ہوش میں آتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے وکلاء کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ فیصلہ کی تاریخ سے ایک دن پہلے جمعرات کو احتساب عدالت میں درخواست دائر کر دیں۔ اس سے قبل میاں صاحب نے کہا تھا کہ وہ اسلام آباد جانے کا فیصلہ وکلاء کے مشورے سے کریں گے۔ یقینا انہوں نے ہسپتال کے معالجوں اور وکلاء سے مشاورت کی ہو گی اور اس کے بعد فیصلہ کے اعلان کے مؤخر کیے جانے کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہو گا۔ بیگم کلثوم نواز کی صحت یقینا بہت تشویش ناک ہے اور سبھی ان کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کی صحت کی حالت کے بارے ہارلے سٹریٹ ہسپتال کی رپورٹیں ممکن ہے احتساب عدالت میں میاں صاحب اور ان کی بیٹی کی پیشی سے استثنیٰ کی درخواستوں کے ساتھ لف کی گئی ہوں لیکن میڈیا میں ان کی صحت کے بارے میں اطلاعات ہسپتال کی بجائے میاں صاحب‘ مریم نواز اور ان کے صاحبزادوں کے بیانات کے ذریعے ہی شائع ہوتی ہیں۔ تاہم ان کی صحت کی نازک حالت کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے جو شریف خاندان کی ان کے لیے دعاؤں کی اپیل سے بھی ظاہر ہے۔ اس لیے میاں صاحب ان کو ہوش میں آتے ہوئے دیکھنے کے بعد اسلام آباد جانے کی جس خواہش کا اظہار آج کر رہے ہیں اس کا اظہار وہ کئی دن پہلے بھی کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا بھی تھا کہ وہ وکلاء کے مشورے کے بعد اسلام آباد واپس جانے کے بارے میں بتائیںگے۔ ان کے علم میں ہو گا کہ جونہی ان کے وکلاء کے دلائل مکمل ہوں گے عدالت فیصلہ سنائے گی کیوں کہ احتساب عدالت بھی سپریم کورٹ کی دی ہوئی مدت میں فیصلہ سنانے کی پابند ہے۔ لیکن میاں صاحب نے فیصلہ کے اعلان میں التواء کی اس اپیل کے دائر کرنے کے لیے وقت کا انتخاب وہ کیا ہے جب احتساب عدالت فیصلہ کی تاریخ کا اعلان کر چکی ہے۔ اور اس اعلان میں ایک دن باقی ہے۔ میاں صاحب نے ہارلے سٹریٹ کلینک سے باہر میڈیا والوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھاگنے والے نہیں ہیں، وہ اسی عدالت میں کھڑے ہو کر اپنا فیصلہ سننا چاہتے ہیں جہاں انہوں نے پیشیاں بھگتی ہیں ۔ لہٰذا فیصلہ کے اعلان میں چند روز کی تاخیر کر دی جائے۔ یہ چند روز کتنے ہو سکتے ہیں اس کے بارے میں میاں صاحب اور ہارلے سٹریٹ کے معالجوں سمیت کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ان کی درخواست جو آج دائر کی جا رہی ہے اس میں کتنے دن کا التواء مانگا جا رہا ہے یہ معلوم نہیں کیوں کہ بیگم صاحبہ کی صحت یابی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا اس لیے عین ممکن ہے کہ درخواست میں بھی دنوں کا تعین نہ کیا گیا ہو۔ عدالتیں قوانین کے تحت کام کرتی ہیں ان کے وکلاء نے کس قانون کے تحت فیصلہ کے التواء کی درخواست کی ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس درخواست کا مطلب یہ ہو گا کہ فیصلہ کی تاریخ کا تعین ملزم کی سہولت کے مطابق کیا جائے اور اسے کتنے دن کی سہولت درکار ہے یہ معلوم نہیں۔ اس طرح فیصلہ سنانے کی تاریخ غیر معینہ مدت تک ملتوی رکھنے کی بات ہوئی۔ یہ بہت بڑی رعایت کا مطالبہ ہو گا ۔ یہ التواء کی درخواست جمعرات کو عدالت میں پیش ہوتی ہے یا اس کا فیصلہ بڑے مقدمے کے ساتھ ہی سنایا جائے گا ، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم اس درخواست کے باعث میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی کے ہمدردی کے ووٹ میں اضافہ کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان بھی کہ وہ ’’ڈرنے والے نہیں ‘ عدالت میں پیش ہو کر فیصلہ سننے کے خواہش مند ہیں‘‘ ان کی دلیری کی دلیل کے طور پر لیا جائے گا۔ لیکن اس وقت جب عام انتخابات کے لیے صف بندی ہو چکی ہے اور ووٹرز اپنا رُخ متعین کر چکے ہیں انہی کی ہمدردی میں اضافہ ہو گا جو میاں صاحب کی سیاست کے سحر میں ہیں ‘ ایسے ہی لوگ ان کی دلیری کے قائل ہوں گے جو ان کے انتخابی نشان شیر کو جمہوری جماعت کا نشان سمجھتے ہیں۔ جہاں تک التواء کی درخواست کا تعلق ہے میاں صاحب ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں انہیں معلوم ہو گا کہ کسی فیصلے کا اعلان کسی مریض کی صحت یابی سے مشروط نہیں ہو سکتا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ فیصلہ کیا آنے والا ہے یہ بھی میاں صاحب سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔ وہ بہتر جانتے ہیں کہ عدالت نے ان سے صفائی کے لیے کیا ثبوت طلب کیے اور انہوں نے کیا ثبوت پیش کیے۔ آگہی کے اس بوجھ کے ساتھ انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ وطن واپسی کا فیصلہ کب کریں گے۔ جو لوگ ان کی سیاست کے سحر میں نہیں ہیں وہ اس بیان کو مختلف نظر سے دیکھیں گے ۔ عوامی لیگ کے شیخ رشید کہہ رہے ہیں کہ میاں صاحب لندن میں این آر او کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے لیے شیخ صاحب کوئی ٹھوس ثبوت پیش کر رہے ہیں نہ دلیل ۔ اسی طرح کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر پیپلزپارٹی کے آصف زرداری کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے لندن میں سیاسی پناہ حاصل بھی کر لی ہے۔ دوسری طرف ان کی پارٹی میاں شہباز شریف کی قیادت میں ان کے ’’کیوں نکالا‘‘ کے مؤقف کو آگے بڑھانے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ میاں صاحب کو ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ پارٹی کو ’’کیوں نکالا‘‘ پر مرکوز کرنے کے لیے پاکستان آتے ہیں یا شہباز شریف کی صلح کل کی پالیسی کے تحت چلنے دیتے ہیں اور بھلے وقت کا انتظار کرتے ہیں۔

اداریہ