Daily Mashriq


لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

غالب آج زندہ ہوتے تو یقیناً اپنے ایک مصرعہ سے رجوع کرتے ہوئے اسے یوں بدل دیتے اور کہتے ’’ٹکٹوں کے انتخابات نے رسوا کیا مجھے‘‘۔ مرزا غالب جس دور میں زندہ تھے وہ مطلق العنانیت یعنی بادشاہت کا دور تھا اور سب کچھ بادشاہ کی نگہ التفات سے ہی طے ہوتا۔ انتخابات کا تو نام ونشان ہی نہ تھا۔ بعد میں جب انگریزوں نے ہندوستان پر مکمل فتح پا کر بہادر شاہ ظفر کو رنگون بدر کر دیا تو غالب کو اپنے وظیفہ کے لالے پڑ گئے تھے اور بے چارہ اس وظیفے کی بحالی کیلئے تگ ودو میں دو شہروں کے بیچ سفر کرتے کرتے ہی خرچ ہوتا رہا۔ انگریز نے بھی ہندوستان میں سیاسی سرگرمیاں بہت بعد میں شروع کرنے کی اجازت دی اس لئے غالب اس صورتحال سے بھی بے خبر ہی رہے، اگر اس دور میں سیاست شروع ہوتی تو کم ازکم بے چارہ دلی میونسپلٹی کے کونسلرکا انتخاب تو جیت کر اپنا وظیفہ ہی بحال کروا لینے میں کامیاب ہو جاتا، بہرحال جس طرح مرزا غالب اپنے وظیفے کی بحالی کیلئے تگ ودوکرتے ہوئے بوڑھے ہوگئے تھے اسی طرح ہمارے ہاں عمران خان کو بقول ان کے ٹکٹوں کے عذاب نے بوڑھا کر دیا ہے کیونکہ جس طرح انہوں نے گزشتہ پانچ سال بڑی محنت سے لوگوں کو نئے پاکستان والے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر سبز باغ دکھائے اور نتیجہ پھر بھی من مرضی کا نہ آتے دیکھ کر انہی کو ساتھ ملانے پر مجبور ہو کر ٹکٹ ان کی جھولی میں ڈال دیئے، جنہیں وہ ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کا نام دے رہے ہیں تو ان کی پارٹی کے جنونیوں نے اس فیصلے کیخلاف ملک بھر میں بغاوت کر کے کھیل کو بہت حد تک بگاڑنے کی کوشش کی اور انہیں بنی گالہ کے باہر کئی روز تک دھرنے کی صرف جھلکیاں دیکھ کر ہی کہیں گھر کے کسی کونے کھدرے میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا، اس صورتحال پر تجزیہ نگار یہ تبصرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ سیاسی صورتحال میں تواتر کیساتھ ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر انتخابات کے ’’ممکنہ‘‘ نتائج کے بعد اگر ملک میں ایک بار پھر احتجاج کا طوفان اُمڈ آیا اور ایک اور دھرنے تک نوبت آپہنچی تو جو لوگ ’’وزیراعظم عمران‘‘ کے نعرے لگا کر طوفان برپا کئے ہوئے ہیں، تب اس دھرنے کا عمران خان کیوں کر اور کیسے سامنا کریں گے کیونکہ پہلے دھرنے کے موقع پر تو نواز شریف حکومت کا ساتھ پوری اپوزیشن نے دیا تھا جبکہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن بھی تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے بات کی ویسے عمران خان کو داد دینی پڑے گی اور وہ یہ کہ موصوف نے ٹکٹ مانگنے والے امیدواروں سے بیان حلفی پر دستخط کروا لئے تھے کہ اگر انہیں ٹکٹ نہ ملا تو وہ پارٹی امیدوار کے مقابلے میں الیکشن نہیں لڑیں گے، گویا وہ اس مصرعہ پر عمل کریں گے کہ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ، تاہم گزشتہ روز اس مسئلے پر الیکشن کمیشن نے ایک درخواست پر عمران خان سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا تھا، تادم تحریر یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس مسئلے کا کیا بنا؟ تاہم اس نے ہمیں جہاں پی ٹی وی کے سنہری دور (بلیک اینڈ وائٹ کے زمانے) کا ایک ڈرامہ یاد کرا دیا ہے وہاں ایک سیاسی جماعت کی اسی ڈرامے میں بتائے جانے والے طریق کار پر عمل کرنے کی یاد بھی دلا دی ہے۔ اس ڈرامہ سیریز کا نام تھا ’’آپ کے مخلص‘‘۔ اس سیریز کے دوران کئی ماہ تک دکھائی جانے والی قسطوں میں مختلف کہانیاں دکھائی جاتی تھیں، ان ڈراموں کو کمال احمد رضوی لکھا کرتے اور وہ اس میں ایک ایسے کردار میں سامنے آتے جو لوگوں کے مسائل کا حل ڈھونڈتے، مشورے دیتے اور اپنی فیس وصول کرتے، ڈرامہ سیریز کی ایک قسط میں ایک بار کسی ہوٹل کے حوالے سے ملازمین اور مالک ہوٹل کے مابین لیبر قوانین پر عمل درآمد کے ضمن میں پھڈا پڑ جاتا ہے، ملازمین ہڑتال کا نوٹس دیکر کام نہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں، تاہم ملازمین کے مطالبات میں کچھ جائز جبکہ بعض ناجائز بھی ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ مالک بے چارہ ’’آپ کے مخلص‘‘ کے دفتر آکر اپنی پریشانی کا اظہار کرتا ہے تو کمال احمد رضوی اسی کتاب پارکنسن لاء سے رجوع کر کے ہوٹل مالک کو مشورہ دیتا ہے اور پوری بات سمجھا دیتا ہے، وہ واپس آکر ہوٹل کے باہر ایک بینر پر ہوٹل برائے فروخت لکھوا کر آویزاںکر دیتا ہے۔ ملازمین آپس میں مشورہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نئے مالک کا بھی ناک میں دم کر دیں گے، اس دوران کمال احمد رضوی خریدار بن کر آتا ہے اور ہوٹل خریدنے کا ڈرامہ کرتے ہوئے تمام ملازمین کو ایک ایک ماہ کی پیشگی تنخواہ ادا کرکے فارغ کر دیتا ہے، ملازمین بیروزگار ہو جاتے ہیں اور ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آجاتی ہے، اس دوران ہوٹل کا نام بدل کر اشتہار میں تجربہ کار افراد کو ملازمتیں دینے کی آفر کی جاتی ہے، وہی ملازمین ایک بار پھر ملازمتیں لینے آتے ہیں تو ملازمت کا پروانہ تھمانے سے پہلے ہر ایک سے اپنی خوشی سے مستعفی ہونے کی تحریری درخواست بھی لے لی جاتی ہے تاکہ اگر کل کوئی گڑبڑ کریں تو اس کا استعفیٰ منظور کر کے نوکری سے برخواست کر دیا جائے۔ ماضی میں ایک اور سیاسی جماعت نے بھی اپنے منتخب ممبران سے بھی استعفے لیکر رکھوا لئے تھے تاکہ بوقت ضرورت کام آسکیں۔ عمران خان نے بھی امیدواروں سے درخواستیں جمع کراتے وقت بیان حلفی لیکر انہیں سمجھا دیا تھا کہ ’’نوکری کی تے نخرہ کی‘‘۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

متعلقہ خبریں