Daily Mashriq


پانی کی ایک ایک بوند کو ۔۔

پانی کی ایک ایک بوند کو ۔۔

پاکستان میں پانچ جولائی کا دن بھی سوگ کی حیثیت رکھتا ہے، ٹھیک سنیتالیس سال پہلے جنرل ضیاء الحق نے بھٹو مرحوم کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا کیونکہ اس وقت جو عام انتخابات ہوئے تھے وہ دھاندلی کے حوالے سے بھٹو مرحوم اور حزب اختلاف کے مابین متنازعہ صورت حاصل کر گئے تھے اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کیخلاف ایک زبردست احتجاجی مہم چلی، تاہم بھٹو مرحوم ایک سیاستدان تھے اور دس سال تک ان کی سابق صدر ایوب خان کے زیر سایہ تربیت ہو چکی تھی چنانچہ انہوں نے حزب اختلاف سے مذاکرات کئے جو ضرورت سے زیادہ لمبے ہوگئے چونکہ فوری سیاسی حل تلاش نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں فوجی آمر نے فائدہ اُٹھایا، پھر تاحیات اقتدار پر براجمان رہا۔ اگرچہ مرحوم پروفیسر عبدالغفورؒ کابتانا تھا کہ اپوزیشن اور بھٹو مرحوم کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیا تھا، جس کا اعلان پانچ جولائی کے روز کرنا تھا لیکن سورج طلوع ہونے سے قبل ہی وزیراعظم کی قیام گاہ کے دروازوں اور کھڑکیوں کے پردے تبدیل کر دئیے گئے۔ اس وقت حکومت یا سیاستدانوں کے درمیان کوئی بھاؤ تاؤ کی تکرار نہیں ہے کیونکہ حکومت پر براجمان حکمران عبوری دور کیلئے ہیں جو بنیادی طور پر شفاف انتخابات کے ذمہ دار ہیں مگر جس طرز کا سیاسی کھیل دیکھا جا رہا ہے اس نے بہت سارے اندیشے پیدا کر رکھے ہیں، اب بھی کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابات کے مقدر کا فیصلہ دس تاریخ تک ہو جا ئے گا، دس تاریخ کتنے فاصلے پر ہے چند قدم ہی تو رہ گئے ہے، لگ پتہ جائے گا، کیا ہونے والا ہے، تاہم پاکستان کے بدھی وان جن کو تسلیم کیا جا چکا ہے کہ وہ سب پر بھاری ہیں، عام انتخابات میں آزاد امیدوار سب سے زیادہ کامیاب ہوں گے۔ سب پر بھاری صاحب وہ سیاستدان ہیں کہ وہ بڑ نہیں مارتے بات بین السطور میں کر جاتے ہیں اور عموماً سچی نکلتی ہے، شیخ لال حویلی جی اور سب پر بھاری میں فرق یہ ہی ہے کہ موصوف بڑبولے نہیں ہیں، یہ شیخ لال حویلی کو ہی جچتا ہے، شیخ جی شیخی مارنے کے باوجود یہ تصور لئے بیٹھے ہیں کہ وہ پیر صاحب پگارا مرحوم کے مرید خاص ہیں حالانکہ مرحوم صاف گو تھے چنانچہ دھڑلے سے دعویٰ کیا کرتے تھے کہ وہ جی ایچ کیو کیساتھ ہیں۔سب پر بھاری آصف زرداری نے یہ تو کہہ دیا کہ اس مرتبہ پنجاب میں آزاد امیدوار بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔ اگر اس کی بجائے وہ یہ کہہ دیتے کہ اس بار جیپ والے جیتیں گے تو بھی ان کی بات پوری ہو جاتی بلکہ مکمل پیشن گوئی ہوتی، کہتے ہیں کہ اس مرتبہ خلائی مخلوق کیلئے وفاق کیساتھ ہی پنجاب بھی اہم ترین ہے، ویسے یہ پنجاب صوبہ ماضی میں بھی نہ صرف سیاستدانوں کا محور چاہت رہا ہے چنانچہ چودھری پرویزالٰہی، شیخ رشید کے علاوہ بہت سارے اس کی چاہت میں تڑپتے رہے ہیں اور شریف خاندان سے ان کا سیاسی اختلاف پنجاب کی گدی نشینی رہی ہے مگر دس سال تک یہ گدی شریف خاندان کیلئے مسند آراء سریر رہا ہے۔ اب چونکہ شریف خاندان کا نام حرف غلط کی طرح سیاست سے گم کر دینا مقصود ہے مگر پنجاب میں شہباز شریف کی کارکردگی آڑے آئی ہوئی ہے، تو اصل حکمران چاہتے ہیں کہ پنجاب سے بھی یہ بلائے ناگہانی چلی جائے۔ آصف زرداری کو بہتر علم ہوگا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اس بار ہینگ (لٹکی ہوئی) پارلیمنٹ ہوگی، تاہم پنجاب کی حکمرانی کے امیدوار اس بار بھی کم نہیں، تحریک انصاف میں تو کوڑیو ں کے بھاؤ میں ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں بنیادی سطح سے چوٹی کی سطح تک گروپ بندی نظر آرہی ہے چنانچہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کا سیاسی تنازعہ کی بنیاد بھی پنجاب ہے۔عمران خان نیازی کے بارے میں یہ تاثر بڑھا ہے کہ اپنے وزیراعظم کے خواب کی تعبیر مکمل کرنے کیلئے روحانیت میں بھی کمال حاصل کرنے کی مساعی سعید میں مگن ہیں۔ چنانچہ روحانی فیض پانے کیلئے درگاہوں اور مزارات بزرگان دین پر حاضری دے رہے ہیں مگر سیاسی حقیقت اس سے الگ ہی نظر آرہی ہے، کہنے کو یہ کہا جا رہا ہے کہ عمران نیازی کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر چڑھانے کے آرزو کش مرشد خادم حسین رضوی کے سہولت کار بنے تھے، مقصد یہ بیان کرتے ہیںکہ پنجاب جو ان دنوں غیر سیاسی قوتوں کی چاہت میں رچا ہوا ہے وہاں شریف خاندان کی سیاست کا دروازہ ہمیشہ کیلئے ڈھے دیا جائے چنانچہ مختلف طبقات کی قوت روبہ عمل لانے کیلئے پنجاب میں جہاں روحانیت کو خاص مقام حاصل ہے اور ان کے ووٹروں کی تعداد بھی قابل ذکر ہے چنانچہ خادم حسین کی صورت میں کھیل کھیلا گیا تھا جو اب گلے پڑ گیا ہے کیونکہ روحانی عقائد کی قائل برادری لبیک اور اللہ اکبر کی صورت میں خود اکھاڑہ انتخابات میں لنگوٹ کس کر اُتری ہوئی ہے۔ لبیک تحریک اور اللہ اکبر تحریک کے اس طرزعمل سے سیاسی گھٹا تحریک انصاف کو پہنچا ہے کیونکہ نیازی کے جمائما ہاؤس میں اعلیٰ روحانی مقام پر فائز شخصیت کی موجودگی جس کی کرامت کا یہ مقام ہے کہ فرائیڈے اسپیشل کی خاتون صحافی کو عمران خان نے گھرکی وہ دیوار بھی دکھائی جو پیرنی صاحبہ سے باتیں کرتی ہے، خاتون صحافی کو وہ گوشت بھی دکھایا گیا جو گھر میں ایک ایسے مقام پر پڑا ہوا تھا جہاں جنات آکر تناول فرماتے ہیں، یہ ایک عظیم کرشمہ سے کم بات نہیں ہے کہ جنات جو آگ سے پیدا کئے گئے ہیں وہ ایسی خوراک کھاتے ہیں جو مٹی سے پیدا کی گئی مخلوق کیلئے ہے۔انتخابات کا بخار روز بروز چڑھتا ہی جا رہا ہے۔ دنیا میںانتخابات کا چرچا ہوتا ہے مگر اس نوعیت کا نہیں ہوا کرتا۔ اس موقع پر سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور کو بنیاد بنا کر الیکشن لڑا کرتی ہیں مگر پاکستان میں منشور کوئی نشریات یا بنیاد نہیںہوا کرتی ہے۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں